چین کے جنوب مغربی خودمختار علاقے تبت میں 7 شدت کے زلزلے کے بعد حکام نے قومی سطح پر ہنگامی ردعمل کا درجہ چار سے بڑھا کر تین کر دیا ہے، جبکہ امدادی کارروائیوں کے لیے 350 اہلکار اور 83 گاڑیاں روانہ کر دی گئی ہیں۔ زلزلے کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک اور 54 زخمی ہو گئے۔
چین کے علاقے تبت میں 7.0شدت کے زلزلے کے بعد ہنگامی امدادی کارروائیوں کا درجہ بڑھا کر تین کر دیا گیا

مزید خبریں
بیجنگ ۔23اکتوبر (اے پی پی):چین کے جنوب مغربی خودمختار علاقے تبت میں 7 شدت کے زلزلے کے بعد حکام نے قومی سطح پر ہنگامی ردعمل کا درجہ چار سے بڑھا کر تین کر دیا ہے، جبکہ امدادی کارروائیوں کے لیے 350 اہلکار اور 83 گاڑیاں روانہ کر دی گئی ہیں۔ زلزلے کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک اور 54 زخمی ہو گئے۔چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق چین کی ریاستی کونسل کے زلزلہ امدادی ہیڈکوارٹرز اور وزارت برائے ہنگامی انتظام نے جمعہ کو ہنگامی ردعمل کا درجہ بڑھانے کا اعلان کیا۔ حکام نے امدادی سرگرمیوں کی نگرانی اور معاونت کے لیے ایک خصوصی ٹیم بھی متاثرہ علاقے میں بھیجی ہے۔
زلزلہ جمعرات کی رات 10 بج کر 33 منٹ پر تبت کے شہر ناگچو کی کاؤنٹی باچن میں آیا۔ زلزلے کے بعد ریاستی کونسل کے زلزلہ امدادی ہیڈکوارٹرز کے ایک نائب کمانڈر اور متعلقہ وزارتوں کے حکام امدادی کارروائیوں کی نگرانی اور رابطہ کاری کر رہے ہیں۔وزارت برائے ہنگامی انتظام نے تبت کے متعلقہ محکمے کو آفات سے متاثرہ علاقے کی فضائی نگرانی کے لیے ونگ لونگ ڈرونز کی تعیناتی میں بھی معاونت فراہم کی ہے۔چین کی قومی جامع فائر اینڈ ریسکیو فورس نے امدادی کارروائیوں کے لیے مجموعی طور پر 350 اہلکار اور 83 گاڑیاں روانہ کی ہیں۔
جمعہ کی صبح 6 بج کر 30 منٹ تک 120 امدادی اہلکار اور 27 گاڑیاں متاثرہ علاقے میں پہنچ چکی تھیں، جبکہ تبت کی فائر اینڈ ریسکیو فورس کے مزید 230 اہلکار اور 56 گاڑیاں کمک کے طور پر روانہ تھیں اور ناگچو کے انتظامی علاقے میں داخل ہو چکی تھیں۔حکام کے مطابق جمعہ کی صبح 4 بج کر 30 منٹ تک مرکزی، علاقائی، شہری اور کاؤنٹی سطح پر امدادی سامان جمع کرکے مرحلہ وار متاثرہ علاقے میں پہنچایا جا رہا تھا۔ امدادی سامان میں ایک ہزار پہلے سے تیار شدہ رہائشی یونٹس، 3 ہزار 239 خیمے، 2 ہزار 821 تہہ ہونے والے بستر اور 4 ہزار 280 رضائیاں سمیت دیگر ضروری اشیا شامل ہیں۔








