وزیر اعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو عائشہ رضا فاروق نے کہا ہے کہ پولیو ورکرز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو مشکلات کے باوجود عظیم مقصد کی تکمیل کے لیے پرعزم ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے شکریہ پولیو فرنٹ لائن ورکز کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے پولیو ورکرز کی انتھک محنت اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا …
پولیو ورکرز کو خراج تحسین جو مشکلات کے باوجود عظیم مقصد کی تکمیل کے لیے پرعزم ہیں،عائشہ رضا فاروق

مزید خبریں
اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):وزیر اعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو عائشہ رضا فاروق نے کہا ہے کہ پولیو ورکرز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو مشکلات کے باوجود عظیم مقصد کی تکمیل کے لیے پرعزم ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے شکریہ پولیو فرنٹ لائن ورکز کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے پولیو ورکرز کی انتھک محنت اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فرنٹ لائن کارکنوں کو درپیش مسائل کے حل، ان کی بہتر رہنمائی اور کام کے لیے محفوظ، مؤثر اور عزت و احترام پر مبنی ماحول کی فراہمی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام میں قیادت اور نگران افسران کو مثبت نگرانی اور معاون نگرانی کی تربیت فراہم کی گئی ہے تاکہ کارکنوں پر تنقید کرنے کے بجائے ان کی رہنمائی، حوصلہ افزائی اور عملی معاونت کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر پولیو ورکرز کو خاندانوں کی جانب سے مزاحمت، ویکسین سے انکار یا کمیونٹی کے رویّوں کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑے تو نگران افسران کی ذمہ داری ہے کہ وہ کارکنوں کی مدد کریں اور انہیں دوبارہ مؤثر انداز میں کمیونٹی سے رابطہ کرنے کے لیے تیار کریں۔انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ پولیو ورکرز کے تجربات اور مسائل کو سمجھنا پروگرام کی بہتری کے لیے ضروری ہے، اس مقصد کے تحت کارکنوں کی آرا حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ ان کی ضروریات کے مطابق رہنمائی اور معاونت فراہم اور کام کے ماحول کو مزید محفوظ، مؤثر اور باوقار بنایا جا سکے۔
انہوں نے انسداد پولیو پروگرام کے کارکنوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف بھی پولیو ورکرز کی محنت اور خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور مختلف مواقع پر ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان، خطے اور دنیا کو پولیو سے پاک کرنے کا ہدف حاصل ہوتا ہے تو اس کامیابی میں فرنٹ لائن پولیو ورکرز کی محنت، لگن اور قربانیوں کا بنیادی کردار ہوگا، تمام کارکن اسی جذبے اور عزم کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں۔انہوں نے پولیو ورکرز کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے مسائل کے بروقت حل کے لیے کوششیں جاری رہیں گی اور جن اقدامات کا آغاز بعض مقامات پر کیا گیا ہے انہیں دیگر علاقوں تک بھی وسعت دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پولیو ورکرز کو موسم، دشوار گزار راستوں اور جغرافیائی مشکلات کے علاوہ متعدد سماجی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ خواتین کارکنوں کو بھی معاشرتی رویّوں کے باعث خصوصی چیلنجز درپیش ہوتے ہیں۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پولیو ورکرز کی مشکلات کو سمجھنے، ان کی آواز سننے اور انہیں بہتر معاونت فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دنیا میں اب صرف دو ممالک ایسے رہ گئے ہیں جہاں پولیو بدستور موجود ہے، اس صورتحال کو تبدیل کرنے کے لیے پاکستان کو اپنی صلاحیت، عزم اور مؤثر حکمت عملی کا عملی مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پولیو ورکرز کی مسلسل محنت، لگن اور قربانیوں کے نتیجے میں ان شاء اللہ پاکستان جلد پولیو سے پاک ملک بننے میں کامیاب ہوگا۔








