بدلتی عالمی صورتحال کے تناظر میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور ممکنہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات اہم ہیں،سینیٹر شیری رحمان
بدلتی عالمی صورتحال کے تناظر میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور ممکنہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات اہم ہیں،سینیٹر شیری رحمان

مزید خبریں
اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے پٹرولیم مصنوعات اور گیس کی بلاتعطل فراہمی کے لیے حکومتی منصوبہ بندی سے پارلیمان کو آگاہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بدلتی عالمی صورتحال کے تناظر میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور ممکنہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات اہم ہیں۔ جمعے کو ایوان بالا میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے پیش نظر پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر، مستقبل کی ضروریات اور ممکنہ قلت سے نمٹنے کے لیے حکومتی حکمت عملی پر بریفنگ دی جائے تاکہ ارکان پارلیمان کو صورتحال سے آگاہی حاصل ہو سکے۔
انہوں نے چیئرمین سینیٹ سے درخواست کی کہ پیر یا منگل کو متعلقہ حکومتی حکام کے ساتھ بریفنگ کا اہتمام کیا جائے جس میں پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی، ذخائر اور ضرورت پڑنے پر راشن بندی کے ممکنہ طریقہ کار پر روشنی ڈالی جائے۔ سینیٹر شیری رحمان نے گیس کی دستیابی کے معاملے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی)سمیت توانائی کے دیگر ذرائع کی فراہمی کی منصوبہ بندی بھی اہم ہے کیونکہ کسی بھی ممکنہ قلت کے اثرات اسلام آباد، شمالی علاقوں اور ملک کے مختلف صوبوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر پٹرولیم اور وزیر توانائی پارلیمان کو توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور ممکنہ عالمی حالات کے اثرات سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات سے آگاہ کریں تاکہ ارکان کو مستقبل کی منصوبہ بندی کے بارے میں معلومات فراہم کی جا سکیں۔
کاربن ٹیکس کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ اس کی آمدن کو صوبوں کے ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کرنے اور متعلقہ مالیاتی طریقہ کار واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا، سندھ اور پنجاب کو مختلف ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں جنگلات کے تحفظ اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات جیسے مسائل شامل ہیں، اس تناظر میں کاربن ٹیکس کی آمدن کے استعمال اور صوبوں تک اس کی منتقلی کے طریقہ کار بارے وضاحت ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ توانائی کے شعبے میں مستقبل کی ضروریات اور ماحولیاتی تحفظ کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ حکام پارلیمان کو تفصیلی بریفنگ دیں تاکہ اہم قومی معاملات پر مؤثر مشاورت کو فروغ دیا جا سکے۔








