وفاقی حکومت دہشت گردی سے متاثرہ افراد کے نقصانات کے ازالے کے لیے مزید مالی معاونت فراہم کرنے کو تیار ہے، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری
وفاقی حکومت دہشت گردی سے متاثرہ افراد کے نقصانات کے ازالے کے لیے مزید مالی معاونت فراہم کرنے کو تیار ہے، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت دہشت گردی سے متاثرہ افراد کے نقصانات کے ازالے کے لیے مزید مالی معاونت فراہم کرنے کو تیار ہے، تاہم اس کے لیے خصوصی آڈٹ رپورٹ پر متعلقہ کمیٹی میں بحث اور سفارشات ضروری ہیں۔ جمعہ کو ایوان بالا میں سینیٹر دوست محمد کے توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے متاثرہ مکانات کے نقصانات کا سروے ابتدائی طور پر پانچ ایجنسیوں میں کرایا گیا تھا، جس میں تقریباً ایک لاکھ 44 ہزار مکانات کا سروے کیا گیا۔ ان میں 66 ہزار 989 مکانات کو زیادہ جبکہ 3 ہزار 875 مکانات کو جزوی نقصان پہنچنے کی نشاندہی کی گئی۔
وزیر مملکت نے بتایا کہ بعد ازاں شہری نقصانات کے ازالے کے پروگرام کے تحت معاوضوں کی ادائیگی کے لیے سروے کی درستگی پر اعتراضات سامنے آئے، جس کے بعد جنوبی وزیرستان میں دوبارہ سروے کرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے سروے میں جنوبی وزیرستان کے 27 ہزار 107 مکانات شامل تھے، جبکہ دوبارہ سروے میں یہ تعداد بڑھ کر ایک لاکھ 13 ہزار 716 ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ معاوضوں کی ادائیگی کے لیے نقصان کی نوعیت کے مطابق طریقہ کار طے کیا گیا تھا، جس کے تحت مکمل یا زیادہ نقصان والے مکانات کے لیے چار لاکھ روپے جبکہ کم نقصان والے مکانات کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے مقرر کیے گئے تھے۔ طلال چوہدری نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے 2014 سے 2021 تک متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی کی اور اس مقصد کے لیے مجموعی طور پر 117 ارب روپے تقسیم کیے گئے۔
بعد ازاں صوبائی حکومت کے تعاون سے خصوصی آڈٹ کرایا گیا اور آڈٹ مکمل ہونے تک مزید رقوم کی تقسیم روکنے کی ہدایت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آڈٹ رپورٹ سے متعلق محکمانہ اکاؤنٹس کمیٹی کا ایک اجلاس باقی ہے، جس کے بعد رپورٹ سیفران کمیٹی میں پیش کی جائے گی۔ اسی کمیٹی نے مزید ادائیگیوں سے قبل آڈٹ کرانے کی ہدایت کی تھی۔
وزیر مملکت نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے این ایف سی کے تحت ایک فیصد اضافی حصہ بھی فراہم کیا جاتا ہے، جو دیگر صوبوں کے حصے سے الگ ہے۔ ان کے مطابق اس مد میں تقریباً ساڑھے آٹھ ارب روپے پہلے ہی فراہم کیے جا چکے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت متاثرین کی مدد کے لیے مزید رقم فراہم کرنے پر آمادہ ہے اور آڈٹ رپورٹ پر سیفران کمیٹی کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد اس ضمن میں پیش رفت کی جا سکتی ہے۔








