لاس اینڈڈیمیج فنڈ کے تحت وفاقی حکومت نے دو جبکہ خیبرپختونخوا حکومت نے ایک منصوبہ پیش کیا ہے، وزیرمملکت موسمیاتی تبدیلی شذرہ منصب علی خان کاقومی اسمبلی میں جواب
لاس اینڈڈیمیج فنڈ کے تحت وفاقی حکومت نے دو جبکہ خیبرپختونخوا حکومت نے ایک منصوبہ پیش کیا ہے، وزیرمملکت موسمیاتی تبدیلی شذرہ منصب علی خان کاقومی اسمبلی میں جواب

مزید خبریں
اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کوبتایاگیاہے کہ لاس اینڈڈیمیج فنڈ کے تحت وفاقی حکومت نے دو جبکہ خیبرپختونخوا حکومت نے ایک منصوبہ پیش کیا ہے ، فنڈ کے لیے درخواستوں کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث فیصلہ سازی کا عمل بڑھا دیا گیا ہے اور دسمبر میں فیصلہ ہوگا ۔ جمعہ کوقومی اسمبلی کے اجلاس میں ڈاکٹرنفیسہ شاہ ،شرمیلافاروقی اوردیگراراکین کے سوالوں کے جواب میں وزیرمملکت موسمیاتی تبدیلی شذرہ منصب علی خان نے ایوان کوبتایا کہ پاکستان کے آئین کے مطابق اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد موسمیاتی تبدیلی کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے تاہم وفاقی حکومت پالیسی ضرور بناتی ہے اور اسے صوبوں کے ساتھ شیئر کرتی ہے۔
اس مقصد کے لیے باقاعدگی سے اجلاس اور مشاورتی فورمز بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی پالیسی سے رہنمائی لیتے ہوئے ہر صوبہ اپنے مخصوص حالات، جغرافیائی خصوصیات اور دیگر ضروریات کے مطابق اپنی پالیسی تشکیل دیتا ہے اور اس میں ضروری تبدیلیاں کرتا ہے، اس لیے اب ہر صوبے کی اپنی پالیسی موجود ہے۔وزیرمملکت نے کہاکہ اسلام آباد کی حدود کے لیے فضائی آلودگی، پانی کے معیار اور آلودگی کے دیگر ذرائع سے متعلق معیارات مقرر کیے گئے ہیں،اسلام آباد میں آلودگی کے اسباب سے متعلق ایک تحقیق میں ٹریفک کو سب سے بڑا سبب قرار دیا گیاجبکہ دیگر ذرائع کا حصہ نسبتا کم پایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں آلودگی پر قابو پانے کے لیے اینٹوں کے بھٹوں، صنعتی یونٹس، ماربل فیکٹریوں اور دیگر آلودگی پھیلانے والے ذرائع کے خلاف بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔
شرمیلا فاروقی کے سوال پرانہوں نے بتایا کہ بلاول بھٹو زرداری اور شیری رحمان نے لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کے قیام کے لیے اہم کردار ادا کیا اور 2022 کے سیلاب کے بعد پاکستان نے اس معاملے پر موثر سفارتی کوششیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ فنڈ کو فعال بنانے میں کئی سال لگے اور گزشتہ سال اسے عملی طور پر فعال کیا گیا ابتدائی طور پر 250 ملین ڈالر مختص کرنے کی بات ہوئی تھی، تاہم بعد ازاں اس کی مجموعی رقم بڑھ کر 342 ملین ڈالر ہوگئی۔ اس رقم کا 50 فیصد کم ترقی یافتہ ممالک اور چھوٹے جزیرہ نما ممالک کے لیے مختص کیا گیا، جبکہ باقی 50 فیصد ترقی پذیر ممالک کے لیے ہے، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہر ملک کے لیے 20 ملین ڈالر کی حد مقرر کرتے ہوئے منصوبے طلب کیے گئے تھے۔
پاکستان کی جانب سے وفاقی حکومت نے دو جبکہ خیبرپختونخوا حکومت نے ایک منصوبہ پیش کیا ہے تاہم فنڈ کے لیے درخواستوں کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث فیصلہ سازی کا عمل بڑھا دیا گیا ہے اور دسمبر میں فیصلہ ہوگا کہ پاکستان کے تین منصوبوں میں سے کس منصوبے کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ ڈاکٹر شزرا منصب علی خان نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے صرف بین الاقوامی مالی معاونت پر انحصار نہیں کرتا بلکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بھی اپنے وسائل سے مختلف منصوبوں کے لیے رقوم مختص کرتی ہیں۔ 2001 میں ایڈاپٹیشن فنڈ کے قیام کے بعد سے گرین کلائمیٹ فنڈ ،گلوبل انوائرمنٹ فیسلٹی اور ایڈاپٹیشن فنڈ سمیت مختلف بین الاقوامی ذرائع سے پاکستان کو اب تک مجموعی طور پر 561.99 ملین ڈالر موصول ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت وزیراعظم شہباز شریف کی توجہ کے حامل اپ اسکیلنگ گرین پاکستان پروگرام سمیت مختلف اقدامات پر کام کر رہی ہے۔ گلاف اور سیفر پاکستان منصوبے بھی ان کوششوں کا حصہ ہیں۔موسمیاتی لیوی سے حاصل ہونے والی رقم کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ وزارت خزانہ سے متعلق ہے، اس لیے اس کی تفصیلات کے لیے الگ سوال متعلقہ وزارت کو بھیجا جا سکتا ہے۔ مون سون سٹریٹجک پلان کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کی جانب سے 2026 کا مون سون سٹریٹجک پلان مرتب کیا گیا، جس کا مقصد موسمیاتی تبدیلی کے باعث بارشوں کے غیر متوقع رجحانات اور سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کرنا ہے منصوبے میں قلیل، درمیانی اور طویل مدتی اقدامات شامل ہیں، قلیل مدتی اقدامات میں سیلابی میدانوں میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کارروائیاں اور زیادہ خطرے والے علاقوں میں مداخلتیں شامل ہیں، جبکہ متعلقہ کمیٹیاں وفاقی اور صوبائی سطح پر مزید اقدامات کا جائزہ لے رہی ہیں۔
خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے پیش کردہ منصوبے سمیت تینوں منصوبوں میں سے کسی ایک کو فنڈ فراہم کرنے کا فیصلہ دسمبر میں ہوگا۔ ضمنی سوالات پرانہوں نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلقہ امور پر وفاق اور صوبوں کے درمیان رابطہ کاری کے لیے مختلف فورمز اور کمیٹیاں قائم ہیں، جن کے ذریعے متعلقہ ادارے اپنے کاموں، منصوبوں اور ذمہ داریوں کے مطابق باہمی تعاون کرتے ہیں۔ پاک ای پی اے صوبائی ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسیوں کے ساتھ رابطے میں رہتی ہے، جبکہ کلائمیٹ چینج اتھارٹی بھی صوبوں کے ساتھ رابطہ کاری کرتی ہے۔ اتھارٹی کے چیئرمین نے تقریبا ایک ماہ قبل ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔ اسی طرح وزارت کے سیکرٹری صوبائی محکموں کے متعلقہ سیکرٹریز کے ساتھ بھی باقاعدگی سے رابطے میں رہتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ بیرون ملک کانفرنسوں اور بین الاقوامی اجلاسوں میں شرکت کے لیے کن افراد کو بھیجا جائے گا، اس کا فیصلہ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی نہیں کرتی۔وزیرمملکت نے کہاکہ پاکستان گرین ہاوس گیسوں کے اخراج میں دنیا کے کم ترین حصے دار ممالک میں شامل ہونے کے باوجود موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ اس لیے عالمی فورمز پر پاکستان کے حالات اور مشکلات کو اجاگر کرنا ضروری ہے۔








