مضبوط کاروباری نمو، پائیدار سرمایہ کاری اور سازگار کاروباری ماحول پاکستان کی معیشت کی ترقی کے بنیادی ضامن ہیں، قیصر احمد شیخ

وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ مضبوط کاروباری نمو، پائیدار سرمایہ کاری اور سازگار کاروباری ماحول پاکستان کی معیشت کی ترقی کے بنیادی ضامن ہیں، سرمایہ کاری سے جدید ٹیکنالوجی، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔

اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ مضبوط کاروباری نمو، پائیدار سرمایہ کاری اور سازگار کاروباری ماحول پاکستان کی معیشت کی ترقی کے بنیادی ضامن ہیں، سرمایہ کاری سے جدید ٹیکنالوجی، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔

جمعہ کو وفاقی وزیر نے ’’ینگ انٹرپرینیورز سمٹ 2026‘‘ کی اختتامی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی جہاں انہوں نے نوجوان چیف ایگزیکٹو افسران (سی ای اوز)، جدت کاروں اور ابھرتے ہوئے صنعت کاروں کی حوصلہ افزائی کی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مستحکم کاروباری ماحول اور مسلسل سرمایہ کاری کے بغیر پاکستان پائیدار معاشی ترقی حاصل نہیں کر سکتا، کاروبار کا فروغ، برآمدات میں اضافہ اور معاشی استحکام ملک کی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔

قیصر احمد شیخ نے کہا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ کا بنیادی مقصد سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کو کاروبار کے قیام اور توسیع کے ہر مرحلے پر سہولت فراہم کرنا ہے، حکومت غیر ضروری دفتری رکاوٹوں کو دور کرنے اور کاروبار کے لیے آسان اور سازگار ماحول کی فراہمی کے لیے کوشاں ہے۔انہوں نے کہا کہ نوجوان اور جدت کار پاکستان کی سرمایہ کاری پر مبنی معاشی ترقی کے حقیقی محرک ہیں، جامعات کے انکیوبیشن سینٹرز میں تیار ہونے والے نئے کاروباری منصوبے ملک کی معاشی بنیادوں کو مضبوط بنانے اور جدت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت نوجوانوں کے نئے خیالات اور کاروباری منصوبوں کو مقامی سطح سے عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے معاونت فراہم کرے گی تاکہ نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو معاشی مواقع میں تبدیل کیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ پالیسی سازوں، جامعات اور نجی شعبے کے درمیان موثر تعاون پاکستان کے روشن معاشی مستقبل کی کلید ہے، ان اداروں کے باہمی اشتراک سے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ، سرمایہ کاری میں اضافہ اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

 

مزید خبریں