وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ ریاستی نظام میں بہتری کے لیے ضروری ہے کہ سرکاری افسران دیانت داری اور عوامی مفاد کو ترجیح دیں کیونکہ سرکاری فائلوں پر کیے جانے والے فیصلوں کے اثرات براہ راست عام شہریوں کی زندگیوں پر مرتب ہوتے ہیں،نظام کی ذمہ داری کسی ایک فرد پر عائد نہیں ہوتی بلکہ اس کا حصہ ہونے کے ناطے ہر شخص …
نظام میں بہتری کیلئے سرکاری افسران فیصلوں میں دیانت داری اور عوامی مفاد کو ترجیح دیں، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی

مزید خبریں
لاہور۔23اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ ریاستی نظام میں بہتری کے لیے ضروری ہے کہ سرکاری افسران دیانت داری اور عوامی مفاد کو ترجیح دیں کیونکہ سرکاری فائلوں پر کیے جانے والے فیصلوں کے اثرات براہ راست عام شہریوں کی زندگیوں پر مرتب ہوتے ہیں،نظام کی ذمہ داری کسی ایک فرد پر عائد نہیں ہوتی بلکہ اس کا حصہ ہونے کے ناطے ہر شخص کو اپنی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو نیشنل سکول آف پبلک پالیسی (این ایس پی پی) کے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سٹاف کالج میں 125ویں نیشنل مینجمنٹ کورس (این ایم سی) کی اسناد تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
تقریب میں48 افسران کو کورس مکمل کرنے پر اسناد تفویض کئے گئے۔وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے شرکا کو نیک تمناوں کا پیغام پہنچاتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اپنی مصروفیات کے باعث تقریب میں شرکت نہیں کر سکے،وزیراعظم شرکا سے قوم کی توقعات اور اپنے اصلاحاتی ایجنڈے پر گفتگو کرنا چاہتے تھے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ سرکاری افسران کو فیصلے کرتے وقت قوانین اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھنا چاہیے اور ایسے فیصلے کرنے چاہئیں جن سے مفادِ عامہ کو فائدہ پہنچے۔انہوں نے کہا کہ افسران کو دیانت داری اور اصول پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں اور ذاتی مفادات کے بجائے عوامی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔
وفاقی وزیر نے مرحوم تسنیم صدیقی کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حیدرآباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے غریب خاندانوں کو رہائش فراہم کرنے کے لیے خدا کی بستی کا منصوبہ شروع کیا۔انہوں نے بتایا کہ تسنیم صدیقی نے اپنے قانونی اختیارات استعمال کرتے ہوئے کم آمدنی والے افراد کو مناسب قیمت پر رہائش حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا،اس اقدام کے باعث انہیں مخالفت کا سامنا کرنا پڑا لیکن بعد ازاں وہ سندھ کے چیف سیکرٹری کے عہدے تک بھی پہنچے۔انہوں نے کہا کہ آج کے افسران کے فیصلوں کے اثرات مستقبل میں بھی معاشرے پر مرتب ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ موجودہ عہدوں پر فائز افراد شاید موجود نہ ہوں،لیکن شہریوں کو رہائش، عزت، تعلیم، صحت اور باوقار زندگی کی ضرورت برقرار رہے گی۔انہوں نے زور دیا کہ ہر سرکاری فیصلے میں عام شہری کی زندگی اور اس کے مستقبل کو مدنظر رکھا جائے۔وفاقی وزیر نے اپنی گفتگو کے اختتام پر کہا کہ سرکاری ذمہ داریوں کو احتیاط، دیانت داری اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ادا کرنا چاہیے اور ہر فائل کو محض دفتری کارروائی سمجھنے کے بجائے اس سے متاثر ہونے والے انسانوں کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
قبل ازیں نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کے ریکٹر محمد صالح احمد فاروقی نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سول سروس کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور عام شہریوں کو بنیادی سہولیات کی موثر فراہمی یقینی بنانے کے لیے تربیت،منصوبہ بندی اور عملی مہارتوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی،عالمی جغرافیائی و معاشی نظام میں تبدیلیوں اور تیز رفتار تکنیکی ترقی نے ریاستی اداروں،کاروبار اور عوامی خدمات کی فراہمی کے طریقہ کار کو تبدیل کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل سکول آف پبلک پالیسی سول سروس کے مختلف درجات کے افسران کے لیے تربیتی کورسز منعقد کرتا ہے،تاہم مسلسل پیشہ ورانہ ترقی کے موثر نظام،مربوط منصوبہ بندی اور عملی تربیت کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔اس مقصد کے لیے ادارے نے ایک جامع اور مربوط فریم ورک کی تیاری پر کام شروع کیا ہے،جس میں متعلقہ شعبوں کے ماہرین،قومی و بین الاقوامی تعلیمی اداروں کے ساتھ اشتراک اور تربیت کے جدید،موثر اور لچک دار طریقہ کار پر توجہ دی جائے گی۔








