پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مضبوط اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے وسیع مواقع موجود ہیں، جام کمال خان

وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان نے پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت اور کاروباری روابط کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مضبوط اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پاکستان مالدیپ بزنس فورم کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے …

اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان نے پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت اور کاروباری روابط کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مضبوط اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پاکستان مالدیپ بزنس فورم کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان مالدیپ کی بڑھتی مارکیٹ ضروریات پوری کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے خصوصاً غذائی مصنوعات، ادویات، جراحی کے آلات، ٹیکسٹائل اور تعمیراتی سامان کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھایا جا سکتا ہے، پاکستان چاول، گوشت، حلال خوراک، پراسیس شدہ زرعی مصنوعات اور آم، ترش پھلوں، چیری، خوبانی، آڑو اور کھجور سمیت تازہ پھلوں کی برآمدات کے ذریعے مالدیپ کی مارکیٹ میں اپنا حصہ بڑھا سکتا ہے۔

جام کمال خان نے پاکستان میں زیتون کے تیل کی ابھرتی صنعت کا ذکر کرتے ہوئے اعتماد ظاہر کیا کہ آنے والے برسوں میں پاکستانی زیتون کا تیل عالمی منڈیوں میں ایک اعلیٰ معیار کی مصنوعات کے طور پر اپنی جگہ بنا سکتا ہے۔سیاحت کے شعبوں میں تعاون کے امکانات اجاگر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے مالدیپ کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ خدمات کے معیار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی سیاحتی صنعت مالدیپ کے تجربے سے استفادہ کر سکتی ہے۔ انہوں نے اطلاعاتی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی پر مبنی خدمات، نقل و حمل، بندرگاہوں سے متعلق سپلائی چین اور تخلیقی معیشت کو بھی دوطرفہ تعاون کے اہم شعبے قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ منڈیوں تک رسائی بڑھانے اور تجارت کو سہل بنانے کے لئے سمندری اور فضائی رابطوں میں بہتری ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت کاروباری ماحول کو بہتر بنانے، محصولات کے نظام کو آسان بنانے، صنعتوں کے لئے توانائی کی لاگت کم کرنے، برآمدی مالی معاونت بڑھانے اور درآمدات و برآمدات کے طریقہ کار کو آسان بنانے کے لئے اصلاحات متعارف کرا رہی ہے۔انہوں نے پاکستان سنگل ونڈو کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے تاجروں کو متعدد سرکاری اداروں تک ایک ہی نظام کے تحت رسائی حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے غذائی تحفظ، تجارتی تنازعات کے حل، بین الاقوامی معیار کی پابندی اور خصوصی اقتصادی زونز سے متعلق اصلاحات کا بھی ذکر کیا جن کا مقصد سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ اور پاکستانی برآمدات کی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانا ہے۔

جام کمال خان نے مالدیپ کے کاروباری حلقوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری اور مصنوعات کی خریداری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی صنعتکاروں، برآمد کنندگان اور ممکنہ خریداروں کے درمیان براہ راست روابط کو فروغ دینا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی پاکستان (ٹی ڈی اے پی) کاروباری وفود کے تبادلوں میں سہولت فراہم کرنے اور مالدیپ کی کمپنیوں کو موزوں پاکستانی شراکت داروں سے منسلک کرنے کے لئے تیار ہے۔وفاقی وزیر نے اپنے مالدیپی ہم منصب اور کاروباری وفد کو پاکستان میں منعقد ہونے والی آئندہ بین الاقوامی غذائی نمائش میں شرکت کی خصوصی دعوت بھی دی۔ انہوں نے بتایا کہ نمائش کے گزشتہ ایڈیشن میں 80 ممالک سے 800 سے زائد خریداروں نے شرکت کی تھی۔

انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان اور مالدیپ چھ دہائیوں پر محیط دوستانہ تعلقات کو آگے بڑھاتے ہوئے باہمی مفاد پر مبنی اقتصادی شراکت داری قائم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت اور ابھرتے ہوئے اقتصادی شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے اور کاروباری سرگرمیوں کے لئے معاون پالیسی ماحول فراہم کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔فورم کے اختتام پر شرکا نے معزز مہمانوں، سرکاری نمائندوں اور دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کی شرکت کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ اجلاس کے دوران ہونے والی بات چیت اور روابط سے پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ ملے گا۔