گورنر خیبرپختونخوا کی زیرِ صدارت ٹریفک مینجمنٹ بارے اجلاس،ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کا جائزہ لیا

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیرِ صدارت جمعہ کو ٹریفک مینجمنٹ بارے اجلاس منعقد ہوا ۔ تر جمان گورنر ہاوس پشاورکے مطابق گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیرِ صدارت اجلاس میں پشاور کے ٹریفک مسائل، ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں پراجیکٹ ڈائریکٹر سیف سٹیز ڈی آئی جی اعجاز رائے، چیف ٹریفک آفیسر پشاور زاہد اللہ اور دیگر متعلقہ …

پشاور۔ 23 اکتوبر (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیرِ صدارت جمعہ کو ٹریفک مینجمنٹ بارے اجلاس منعقد ہوا ۔ تر جمان گورنر ہاوس پشاورکے مطابق گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیرِ صدارت اجلاس میں پشاور کے ٹریفک مسائل، ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں پراجیکٹ ڈائریکٹر سیف سٹیز ڈی آئی جی اعجاز رائے، چیف ٹریفک آفیسر پشاور زاہد اللہ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اس موقع پر گورنر فیصل کریم کنڈی کو پشاور میں ٹریفک کی روانی، رش والے مقامات، ٹریفک مسائل کے اسباب اور ان کے حل سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔

اجلاس میں گورنر فیصل کریم کنڈی کی پشاور کے ٹریفک مسائل فوری طور پر حل کرنے کے لیے موثر اقدامات کی ہدایت کی۔اس موقع پر گورنر نے کہا کہ پشاور میں ٹریفک کا نظام بہتر بنانے کے لیے سندھ، بالخصوص کراچی کے ٹریفک مینجمنٹ ماڈل کا جائزہ لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پشاور میں ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے، چالان کرنے میں کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے۔انہوں نے کہا کہ جب تک سزا و جزا کا موثر نظام قائم نہیں ہوگا، ٹریفک کے مسائل برقرار رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ پشاور میں تجاوزات کا خاتمہ اور ٹریفک کی روانی یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی کی طرز پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جرمانوں کا موثر نظام متعارف کرایا جائے، ہم چاہتے ہیں کہ پشاور میں ٹریفک کا نظام اس قدر بہتر ہو کہ شہر کی خوب صورتی اور شناخت نمایاں ہو۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں حقیقی تبدیلی لانے کے لیے شہری مسائل کا حل اور ٹریفک نظام کی بہتری ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔اس موقع پر ٹریفک پولیس اور افرادی قوت سے متعلق بریفنگ دی گئی ۔بریفنگ کے مطابق خیبرپختونخوا میں 5,664 ٹریفک وارڈنز تعینات ہیں، جن میں سے 1,867 پشاور میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔ٹریفک پولیس میں اسسٹنٹ سب انسپکٹرز (اے ایس آئیز) کی بھرتیوں کا عمل جاری ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ پشاور میں ٹریفک کے مسائل سے دوچار 24 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ٹریفک سگنلز کی تنصیب اور بہتری کے لیے 10 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک کا دباؤ کم کرنے کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

بریفنگ کے مطابق انڈر پاسز کی تعمیر سے پشاور میں ٹریفک کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔گورنر فیصل کریم کنڈی کی انڈر پاسز سے متعلق منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کی۔اس موقع گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پشاور میں ٹریفک سگنلز کو جلد از جلد فعال اور درست کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ کھلے اور خراب مین ہولز بھی پشاور میں ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کی اہم وجہ ہیں۔گورنر فیصل کریم کنڈی کی یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک کے رش والے مقامات پر مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کی ۔

بریفنگ کے مطابق خیبرپختونخوا میں 2016 کے بعد رکشوں کی رجسٹریشن نہیں ہوئی،پشاور میں ایک لاکھ سے زائد رکشے موجود ہیں، جن میں سے بڑی تعداد غیر رجسٹرڈ ہے،پشاور میں تقریباً 23 ہزار رکشے رجسٹرڈ ہیں جبکہ ہزاروں رکشے رجسٹریشن سے محروم ہیں، بہت سے رکشہ مالکان رجسٹریشن کروانا چاہتے ہیں، تاہم اس مقصد کے لیے موثر طریقہ کار موجود نہیں،رکشوں کی رجسٹریشن ایکسائز ڈیپارٹمنٹ جبکہ روٹ پرمٹس کا اجرا ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کی ذمہ داری ہے۔

گورنر فیصل کریم کنڈی کی رکشوں کی رجسٹریشن اور روٹ پرمٹس کے مسائل کے حل کے لیے آئندہ ہفتے متعلقہ محکموں کا اجلاس بلانے کی ہدایت کی۔بریفنگ کے مطابق غیر رجسٹرڈ رکشوں، موٹر سائیکلوں اور ہتھ ریڑھیوں کو پشاور میں ٹریفک مسائل کی بڑی وجوہات قرار دیا گیا۔بریفنگ کے مطابق خیبرپختونخوا کے تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں ڈرائیونگ لائسنس کی پرنٹنگ کے مراکز فعال ہیں۔خیبرپختونخوا میں اب تک 20 لاکھ سے زائد ڈرائیونگ لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں، ڈرائیونگ لائسنس کے اجراکے لیے شہریوں کی بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہے،خیبرپختونخوا میں 30 ہزار سے زائد بین الاقوامی ڈرائیونگ لائسنس پرنٹ کیے جا چکے ہیں۔اجلاس میں ٹریفک قوانین سے متعلق آگاہی کے لیے تعلیمی نصاب میں مضامین شامل کرنے کی تجویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔گورنر فیصل کریم کنڈی نےمتعلقہ افسران کو ٹریفک مینجمنٹ کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

مزید خبریں