عالمی سطح پر اہم معدنیات کی بڑھتی ہوئی طلب اور توانائی کی جدید ٹیکنالوجیز کے فروغ نے پاکستان کے لئے معدنی وسائل کی ترقی، غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول اور برآمدات میں اضافے کے نئے مواقع پیدا کر دیئے ہیں جبکہ حکومت قومی معدنیات ہم آہنگی فریم ورک اور پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم کے ذریعے کان کنی کے شعبے میں اصلاحات اور عالمی سرمایہ کاروں کی شمولیت کو فروغ …
پاکستان کیلئے معدنی وسائل کی ترقی، غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول اور برآمدات میں اضافے کے نئے مواقع

مزید خبریں
اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):عالمی سطح پر اہم معدنیات کی بڑھتی ہوئی طلب اور توانائی کی جدید ٹیکنالوجیز کے فروغ نے پاکستان کے لئے معدنی وسائل کی ترقی، غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول اور برآمدات میں اضافے کے نئے مواقع پیدا کر دیئے ہیں جبکہ حکومت قومی معدنیات ہم آہنگی فریم ورک اور پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم کے ذریعے کان کنی کے شعبے میں اصلاحات اور عالمی سرمایہ کاروں کی شمولیت کو فروغ دینے کے لئے کوشاں ہے۔پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026 کے مطابق پاکستان میں تانبے، سونے، کرومائٹ، کوئلے، قیمتی پتھروں، نایاب زمینی عناصر اور دیگر صنعتی معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔
ملک میں اب تک 92 معدنیات کی نشاندہی کی جا چکی ہے جن میں سے 52 کو تجارتی بنیادوں پر نکالا جا رہا ہے تاہم معدنی وسائل کی وسیع صلاحیت کے باوجود قومی معیشت میں اس شعبے کا حصہ محدود ہے جس کے پیش نظر معدنیات کی تلاش، جدید پراسیسنگ اور مقامی صنعتوں کے فروغ کو اہمیت حاصل ہو رہی ہے۔عالمی سطح پر برقی گاڑیوں، بیٹریوں، قابلِ تجدید توانائی کے نظام، بجلی کی ترسیل اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں استعمال ہونے والی اہم معدنیات کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تانبے اور لیتھیم سمیت ان معدنیات کی فراہمی اور پراسیسنگ چند ممالک میں مرکوز ہونے کے باعث دنیا کے مختلف ممالک متبادل ذرائع تلاش کر رہے ہیں جو پاکستان کے لئے عالمی معدنی سپلائی چین میں اپنی جگہ بنانے کا ایک اہم موقع ہے۔پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع بھی معدنی وسائل کی ترقی کے لئے اہمیت رکھتا ہے۔ ملک کا ایک حصہ ٹیتھیئن میٹالوجینک بیلٹ میں واقع ہے جو تانبے اور سونے سمیت متعدد معدنیات کے ذخائر کے لئے معروف ہے۔ بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ریکوڈک منصوبہ اس حوالے سے نمایاں اہمیت رکھتا ہے جسے ملک کے بڑے تانبے اور سونے کے منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
ریکوڈک منصوبے میں بیرک مائننگ کارپوریشن کے 50 فیصد، حکومت بلوچستان کے 25 فیصد جبکہ وفاقی حکومت کے تین سرکاری اداروں آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی)، پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) اور گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ (جی ایچ پی ایل) کے مجموعی طور پر 25 فیصد حصص ہیں۔ فروری 2025 میں بیرک کی جانب سے جاری کردہ تازہ فزیبلٹی سٹڈی کے مطابق منصوبے پر مجموعی سرمایہ کاری کا تخمینہ 8.83 ارب ڈالر لگایا گیا تھا جبکہ پیداوار 2028 کے اختتام تک شروع ہونے کی توقع ظاہر کی گئی تھی۔تانبے کی عالمی اہمیت میں اضافے کی بڑی وجہ بجلی کے نظام، برقی گاڑیوں، قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں اور جدید صنعتی ٹیکنالوجی میں اس کا وسیع استعمال ہے۔ ماہرین کے مطابق ان شعبوں کی ترقی کے ساتھ تانبے کی طلب میں مزید اضافے کے امکانات ہیں جس سے پاکستان جیسے معدنی وسائل رکھنے والے ممالک کے لئے سرمایہ کاری اور برآمدات کے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔لیتھیم بھی توانائی کے شعبے میں تبدیلی کے باعث اہم معدنیات میں شامل ہو چکا ہے۔
یہ برقی گاڑیوں، موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور بجلی ذخیرہ کرنے والے نظاموں میں استعمال ہونے والی ری چارج ہونے والی بیٹریوں کا بنیادی جزو ہے۔ جولائی 2026 میں او جی ڈی سی نے سندھ میں ایک زیرِ زمین کنویں کے تشکیل شدہ پانی میں لیتھیم کی موجودگی کی نشاندہی کی تھی۔ کمپنی کے مطابق اس حوالے سے مزید تکنیکی تحقیقات جاری ہیں تاکہ ذخیرے کی وسعت، مقدار اور تجارتی بنیادوں پر اس کے حصول کے امکانات کا تعین کیا جا سکے۔حکومت کی جانب سے متعارف کرایا گیا قومی معدنیات ہم آہنگی فریم ورک 2025 کان کنی کے شعبے میں پالیسی اصلاحات، صوبائی قوانین میں ہم آہنگی، لائسنس کے اجرا کے طریقہ کار کو آسان بنانے اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کے لئے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
اس کے ساتھ ارضیاتی معلومات کو ڈیجیٹل شکل دینے اور معدنی ذخائر سے متعلق معلومات تک رسائی بہتر بنانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔پاکستان کے لیے اہم چیلنج یہ ہے کہ معدنی وسائل کو صرف خام مال کی برآمد تک محدود رکھنے کے بجائے مقامی پراسیسنگ، ریفائننگ، مصنوعات کی تیاری اور متعلقہ صنعتی سپلائی چینز کی ترقی سے منسلک کیا جائے۔ اس حکمتِ عملی سے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، صنعتی سرگرمیوں میں اضافے اور معدنیات سے حاصل ہونے والی معاشی قدر کو ملک کے اندر بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔اس سلسلے میں پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026 کو عالمی سرمایہ کاروں، کان کنی کمپنیوں، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطوں کے لیے اہم پلیٹ فارم قرار دیا جا رہا ہے۔
فورم 12 اور 13 نومبر کو اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں منعقد ہوگا، جس میں معدنیات کی تلاش، منصوبوں کی ترقی، پراسیسنگ، پائیدار کان کنی، جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے مواقع پر توجہ دی جائے گی۔فورم کے ذریعے پاکستان کے معدنی وسائل کو عالمی سرمایہ، جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی مہارت سے منسلک کرنے کے مواقع فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس ضمن میں تانبے، لیتھیم، نایاب زمینی عناصر، صنعتی معدنیات اور قیمتی پتھروں سے متعلق منصوبوں کو اجاگر کیا جائے گا۔پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2025 کے پہلے ایڈیشن میں فراہم کردہ معلومات کے مطابق، 50 سے زائد ممالک کے 5 ہزار سے زیادہ مندوبین نے شرکت کی تھی جبکہ 16 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کئے گئے تھے اور 18 پینل مباحثے منعقد ہوئے تھے۔معدنی وسائل کو قومی ترقی کا مؤثر ذریعہ بنانے کے لیے شفاف قوانین، مستند ارضیاتی معلومات، بہتر بنیادی ڈھانچے، سرمایہ کاروں کے اعتماد، ماحولیاتی تحفظ اور مقامی آبادی کی شمولیت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اگر ان شعبوں میں مؤثر پیش رفت کی جائے تو پاکستان اپنی معدنی دولت کو برآمدات میں اضافے، غیر ملکی سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور معیشت میں تنوع پیدا کرنے کے لیے بروئے کار لا سکتا ہے۔








