وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت ملک میں کاروباری ماحول کو آسان بنانے، غیر ضروری ریگولیٹری رکاوٹیں دور کرنے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے تاریخی اصلاحات کر رہی ہے
حکومت ملک میں کاروباری ماحول کو آسان بنانے، غیر ضروری ریگولیٹری رکاوٹیں دور کرنے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے اصلاحات کر رہی ہے، ہارون اختر خان

مزید خبریں
اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت ملک میں کاروباری ماحول کو آسان بنانے، غیر ضروری ریگولیٹری رکاوٹیں دور کرنے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے تاریخی اصلاحات کر رہی ہے۔جمعہ کو یہاں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور ان کی کابینہ کے اراکین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ پیچیدہ ریگولیٹری نظام اور کاروبار کرنے میں مشکلات پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں حائل اہم عوامل میں شامل رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 78 برسوں کے دوران مختلف ضروریات کو پورا کرنے کے لیے قوانین اور ضوابط متعارف کرائے گئے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ان میں غیر ضروری پیچیدگیاں اور دہرے تقاضے شامل ہوتے گئے جس سے کاروباری اداروں کے لیے موثر انداز میں کام کرنا مشکل ہو گیا۔انہوں نے وضاحت کی کہ حکومت ملک بھر میں کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کرنے والے ریگولیٹرز، قوانین اور ضوابط کا جامع جائزہ لے رہی ہے، اصلاحاتی عمل میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور مجموعی کام کا تقریباً 60 سے 70 فیصد مکمل ہو چکا ہے، مختلف اداروں کی جانب سے پیش کردہ اصلاحاتی تجاویز میں اوسطاً 70 سے 75 فیصد غیر ضروری ضوابط ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اصلاحاتی عمل کی نگرانی کر رہے ہیں اور پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ہر دو ہفتے بعد اجلاس منعقد کرتے ہیں، متعدد مجوزہ اصلاحات پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے جبکہ کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط بنانے کے لیے مزید اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔آسان کاروبار ایکٹ کے حوالے سے ہارون اختر خان نے کہا کہ حکومت عالمی بہترین طریقہ ہائے کار کے مطابق کاروباری ماحول تشکیل دینے کے لیے کام کر رہی ہے، اس اقدام کا مقصد ریگولیٹری طریقہ کار کو آسان بنانا، ضوابط کی تعمیل پر آنے والی لاگت کم کرنا اور پاکستان میں کاروبار کرنے والے اداروں کیلئے ایک مستحکم، قابل پیش گوئی اور سرمایہ کار دوست نظام قائم کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کمپنیز ایکٹ 2017 میں 170 ترامیم کی وفاقی کابینہ سے منظوری دی جا چکی ہے اور متعلقہ بل پارلیمنٹ کو بھجوا دیا گیا ہے، ان ترامیم کا مقصد کمپنیوں کی رجسٹریشن اور کاروباری سرگرمیوں کو آسان بنانے کے ساتھ پاکستان کے کارپوریٹ ریگولیٹری نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔مشیر برائے صنعت و پیداوار کے مطابق مجوزہ اصلاحات کے لیے امریکا کی ریاست ڈیلاویئر، برطانیہ اور کینیڈا کے جدید ریگولیٹری نظاموں کا بطور معیار جائزہ لیا گیا ہے، اس عمل میں معاونت کے لیے ایک سینئر بین الاقوامی کنسلٹنٹ کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں جنہیں 135 ممالک میں ریگولیٹری اصلاحات کا تجربہ حاصل ہے۔ہارون اختر خان نے کہا کہ ڈیری، میری ٹائم، مشروبات، آئل ریفائنریز، فارماسیوٹیکل اور ریسٹورنٹس سمیت متعدد شعبوں میں کاروباری ضوابط کا جائزہ لیا جا رہا ہے، اس کا مقصد غیر ضروری تقاضوں کی نشاندہی، طریقہ کار کو موثر بنانا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ضوابط کاروباری اداروں پر غیر ضروری بوجھ ڈالے بغیر جائز عوامی اور معاشی مفادات کا تحفظ کریں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موثر اصلاحات کیلئے وفاقی حکومت اور صوبائی و علاقائی انتظامیہ کے درمیان قریبی رابطہ اور ہم آہنگی ضروری ہے۔ وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق حکومت وفاقی سطح کے ساتھ ساتھ صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے تعاون سے بھی اصلاحاتی عمل کو آگے بڑھا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ وفاقی اور صوبائی اصلاحات میں ہم آہنگی پیدا ہو تاکہ پاکستان بھر میں کاروباری اداروں کوآسان، شفاف اور یکساں نوعیت کا ماحول میسر آ سکے۔صنعتی معائنوں کے حوالے سے ہارون اختر خان نے کہا کہ کاروباری اداروں کو اکثر مختلف محکموں کی جانب سے متعدد معائنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں محنت، ماحولیاتی تحفظ، فائر سیفٹی، عمارتوں اور بوائلرز سے متعلق محکمے شامل ہیں، ان معائنوں کے دہرے اور پیچیدہ طریقہ کار سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور تعمیل کے غیر ضروری اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجوزہ اصلاحات کے ذریعے معائنوں کے نظام میں شفافیت اور یکسانیت لائی جائے گی، کاروباری اداروں اور صنعت کاروں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا اور ضروری ریگولیٹری تحفظ برقرار رکھتے ہوئے غیر ضروری مشکلات کم کی جائیں گی۔ اس مقصد کے لیے ایک زیادہ موثر اور متوازن معائنہ جاتی نظام وضع کرنے میں بین الاقوامی بہترین طریقہ ہائے کار سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کاروباری اداروں کے لیے ایک مربوط ون ونڈو ڈیجیٹل پورٹل متعارف کرانے کے منصوبے سے بھی آگاہ کیا جس کے ذریعے کاروباری افراد درخواستیں جمع کرا سکیں گے اور متعلقہ صوبائی حکام و ریگولیٹری اداروں سے رابطہ کر سکیں گے۔ مجوزہ پلیٹ فارم کا مقصد کاروباری افراد کو مختلف محکموں کے بار بار چکر لگانے سے نجات دلانا اور ایک ہی مقام سے ضروری ریگولیٹری کارروائی مکمل کرنے میں سہولت فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد سرمایہ کاری کو آسان بنانا، کاروبار کرنے کی لاگت کم کرنا اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا ہے۔ کاروباری اداروں کو غیر ضروری دفتری کارروائیوں میں الجھنے کے بجائے پیداوار، جدت اور کاروبار کی توسیع پر توجہ دینے کا موقع ملنا چاہیے۔ ہارون اختر خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ایسا سازگار ماحول تشکیل دینے کے لیے پُرعزم ہے جہاں سرمایہ کار اعتماد کے ساتھ فیصلے کر سکیں، صنعتیں ترقی اور توسیع کر سکیں اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ کاروباری ضوابط کو آسان بنانا، ملکی صنعت کو مضبوط کرنا اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا پاکستان میں پائیدار معاشی ترقی، صنعتی پیش رفت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔








