مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو پاکستان کا تین روزہ سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد علی الصبح روانہ ہوگئے۔دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پراتفاق کیا گیا
مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کے دورہ پاکستان کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پراتفاق کیا گیا ، ترجمان دفتر خارجہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو پاکستان کا تین روزہ سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد علی الصبح روانہ ہوگئے۔دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پراتفاق کیا گیا ۔جمعہ کوترجمان وزارت خارجہ کے دفترِ سے جاری بیان کے مطابق مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو 20 سے 22 اکتوبر تک پاکستان کا تین روزہ سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد علی الصبح اسلام آباد سے روانہ ہوگئے۔ صدر معیزو نے خاتون اول ساجدہ محمد اور ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کیا۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے ہوائی اڈے پر انہیں الوداع کیا۔دورے کے دوران صدر محمد معیزو نے صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقاتیں کیں۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی مالدیپ کے صدر سے ملاقات کی۔دونوں ممالک کے رہنمائوں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لیا گیا جس میں تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، صحت، سیاحت، زراعت، ماہی گیری، دفاع، بحری سلامتی، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت اور عوامی سطح پر روابط کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ دونوں جانب سے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔دورے کے دوران مختلف شعبوں میں تعاون سے متعلق 20 مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) کا تبادلہ تھا۔ ان میں صحت، تعلیم، تکنیکی تربیت، سیاحت، شہری ہوا بازی، زراعت، ماہی گیری، دفاع، بحری سلامتی، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سول سروس میں تعاون، سماجی تحفظ، ثقافت اور امورِ نوجوانان سمیت متعدد شعبے شامل ہیں۔ دونوں ممالک نے ان معاہدوں پر بروقت عمل درآمد کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ دوطرفہ مفاہمت کو عوام کے لیے ٹھوس فوائد میں تبدیل کیا جاسکے۔اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت کے طور پر دونوں رہنمائوں نے آئندہ دو برسوں میں دوطرفہ تجارت کو تقریباً 1 کروڑ 39 لاکھ امریکی ڈالر سے بڑھا کر 20 کروڑ امریکی ڈالر تک لے جانے پر اتفاق کیا۔
انہوں نے نجی شعبے کے درمیان شراکت داری مضبوط بنانے، فضائی اور بحری رابطوں کو بہتر بنانے، سرمایہ کاری کے بہائو میں اضافہ کرنے اور مشترکہ اقتصادی کمیشن کا اجلاس جلد منعقد کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مالدیپ کے طلبہ کے لیے سالانہ 20 اضافی انڈرگریجویٹ وظائف دینے کا اعلان کیا اور تعلیم، صحت، پیشہ ورانہ تربیت اور استعداد کار میں اضافے کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے پاکستان کی آمادگی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ضروری غذائی اشیاء اور ادویات کی فراہمی کے ذریعے مالدیپ کی غذائی سلامتی اور صحت کی ضروریات پوری کرنے میں تعاون کے لیے پاکستان کے عزم کا بھی اعادہ کیا جس میں حکومت سے حکومت کی سطح پر انتظامات بھی شامل ہیں۔صدر معیزو کے پانچ ملین درخت لگانے کے اقدام کی حمایت میں وزیراعظم نے پاکستان کی جانب سے ایک لاکھ زیتون کی قلمیں اور مختلف اقسام کے پودوں کے ایک لاکھ بیج فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ پاکستان مالدیپ میں نرسریاں قائم کرنے کے لیے تکنیکی مہارت بھی فراہم کرے گا جس کا مقصد آئندہ تین برسوں میں 10 لاکھ پودوں کی پیداوار میں معاونت کرنا ہے۔
وزیراعظم ہائوس میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد نے صدر محمد معیزو کو ان کی نمایاں عوامی خدمات، قیادت اور مالدیپ کی ترقی میں کردار کے اعتراف میں سیاست اور بین الاقوامی تعلقات کے شعبے میں فلسفے کی اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کی۔22 اکتوبر کو صدر محمد معیزو اور وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں مالدیپ-پاکستان بزنس فورم سے خطاب کیا۔ اس فورم میں دونوں ممالک کے نمایاں کاروباری نمائندوں نے شرکت کی اور تجارت، سرمایہ کاری اور تجارتی تعاون کو فروغ دینے کے مواقع کا جائزہ لیا۔ فورم میں سیاحت، صحت، ادویات سازی، زراعت، قابل تجدید توانائی، بنیادی ڈھانچے، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور لاجسٹکس کے شعبوں میں تعاون کے امکانات اجاگر کیے گئے۔ مالدیپ کی جانب سے مالے اور کراچی کے درمیان براہ راست فضائی رابطہ قائم کرنے کے ارادے کا بھی اظہار کیا گیا۔مالدیپ کے کسی صدر کا 11 برس بعد پاکستان کا یہ پہلا دورہ تھا جو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 60 ویں سالگرہ کے موقع پر ہوا۔ اس دورے سے دونوں ممالک کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو نئی تقویت ملی اور مضبوط سیاسی خیرسگالی کو ٹھوس اقتصادی تعاون اور دیرپا ادارہ جاتی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے مشترکہ عزم کی توثیق ہوئی۔پاکستان اور مالدیپ مشترکہ مذہبی اقدار، باہمی اعتماد، احترام اور دیرینہ خیرسگالی پر مبنی قریبی اور خوشگوار تعلقات رکھتے ہیں۔ اس سرکاری دورے کی کامیاب تکمیل دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ہے جس سے پاکستان اور مالدیپ کے درمیان مزید مضبوط، وسیع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے۔







