ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب (آر4) کے وزرائے خارجہ سے فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے گزشتہ روز استنبول میں ملاقات کی،اس موقع پرعلاقے اور اس سے باہر امن و استحکام کو فروغ دینے اور ان مسائل کے سکیورٹی، اقتصادی اور تجارتی مضمرات سے نمٹنے کے لیے سفارتی کوششوں میں حصہ ڈالتے رہنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے بات چیت، سفارت کاری اور کشیدگی کم کرنے …
ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب (آر4) کے وزرائے خارجہ سے فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نےاستنبول میں ملاقات کی

مزید خبریں
استنبول ۔24اکتوبر (اے پی پی):ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب (آر4) کے وزرائے خارجہ سے فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے گزشتہ روز استنبول میں ملاقات کی،اس موقع پرعلاقے اور اس سے باہر امن و استحکام کو فروغ دینے اور ان مسائل کے سکیورٹی، اقتصادی اور تجارتی مضمرات سے نمٹنے کے لیے سفارتی کوششوں میں حصہ ڈالتے رہنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے بات چیت، سفارت کاری اور کشیدگی کم کرنے کے ذریعے علاقائی تنازعات سے نمٹنے کی فوری ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔
ہفتہ کو ترجمان دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق 23 اکتوبر کو ہونے والی ملاقات کے بعد مشترکہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب (آر4) کے وزرائے خارجہ کے ساتھ فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے گزشتہ روز استنبول میں ملاقات کی۔وزراء نے علاقائی اور بین الاقوامی اہمیت کے مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کیا، جن میں امریکا واسرائیل-ایران تنازع، اسرائیل-فلسطین تنازع اور دو ریاستی حل کی ضرورت، سعودی عرب اور یمن کے خلاف حوثی ملیشیا کےحملے، نیویگیشن کی حفاظت اور آزادی، آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بڑھتے ہوئے تناؤ اور بحیرہ اسود شامل ہیں۔
انہوں نے علاقے اور اس سے باہر امن و استحکام کو فروغ دینے اور ان مسائل کے سکیورٹی، اقتصادی اور تجارتی مضمرات سے نمٹنے کے لیے سفارتی کوششوں میں حصہ ڈالتے رہنے کے اپنے عزم کا اظہار کیا۔وزراء نے بات چیت، سفارت کاری اور کشیدگی کم کرنے کے ذریعے علاقائی تنازعات سے نمٹنے کی فوری ضرورت پر اتفاق کیا۔ اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق، انہوں نے تمام زیر التواتنازعات کے پائیدار مذاکراتی حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔وزراء نے علاقے میں تنازعات کی روک تھام اور امن و استحکام کو آگے بڑھانے کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔








