پاکستان سمیت دنیا بھر میں عالمی یومِ انسدادِ پولیو ہفتہ 24 اکتوبر کو منایا گیا ۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد پولیو وائرس کے خاتمے کے عزم کی تجدید اور ویکسی نیشن (بچاؤ کے قطرے پلانے) کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ پاکستان میں بھی اس بیماری کے مکمل خاتمے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ملک میں رواں سال 2026 میں اب تک پولیو کے سات کیسز رپورٹ …
پاکستان سمیت دنیا بھر میں عالمی یومِ انسدادِ پولیو ہفتہ کو منایا گیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔24اکتوبر (اے پی پی):پاکستان سمیت دنیا بھر میں عالمی یومِ انسدادِ پولیو ہفتہ 24 اکتوبر کو منایا گیا ۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد پولیو وائرس کے خاتمے کے عزم کی تجدید اور ویکسی نیشن (بچاؤ کے قطرے پلانے) کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ پاکستان میں بھی اس بیماری کے مکمل خاتمے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ملک میں رواں سال 2026 میں اب تک پولیو کے سات کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔یہ دن اس بات پر زور دیتا ہے کہ بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے اور ہر بچے تک ویکسین کی رسائی یقینی بنانے کے لیے مسلسل حفاظتی مہمات، بیماری کی موثر نگرانی (سرویلنس) اور کمیونٹی (عوام) کی شمولیت انتہائی ضروری ہے۔
اصل 1988 میں، ورلڈ ہیلتھ اسمبلی نے دنیا بھر سے پولیو کے خاتمے کے لیے ایک قرارداد منظور کی، جس کے نتیجے میں ’گلوبل پولیو ایراڈیکیشن انیشیٹو‘ (GPEI) کا آغاز ہواجو سرکاری اور نجی شعبوں کا ایک مشترکہ اقدام ہے۔ اس وقت سے لے کر اب تک، پولیو وائرس کے کیسز میں 99 فیصد سے زائد کی کمی آئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ماضی میں 125 سے زائد ممالک میں ہر سال تقریباً 3.5 لاکھ پولیو کیسز سامنے آتے تھے جبکہ اب یہ وائرس صرف دو ممالک تک محدود رہ گیا ہے۔پاکستان اور افغانستان وہ ممالک ہیں جہاں پولیو وائرس اب بھی موجود ہے ۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر، ویکسی نیشن کے عمل کو جاری رکھنے اور صحت کے حکام، فرنٹ لائن ورکرز اور عوام کی جانب سے مربوط کوششوں کی اشد ضرورت ہے۔
پاکستان نے 1994 کے مقابلے میں پولیو کے کیسز میں 99.8 فیصد کمی کی ہے۔ ماضی میں یہاں ہر سال تقریباً 20 ہزار کیسز سامنے آتے تھے جبکہ 2026 میں اب تک صرف سات کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان میں سے پانچ کیسز خیبر پختونخوا (جن میں چار جنوبی اضلاع سے ہیں) اور دو کیسز سندھ سے رپورٹ ہوئے ہیں۔پاکستان پولیو ایراڈیکیشن انیشیٹو،وفاقی اور صوبائی محکمہ صحت کے حکام اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ اس کا مقصد ویکسی نیشن مہمات، ماحولیاتی نگرانی (انوائرنمنٹل سرویلنس) اور ان بچوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوششوں کے ذریعے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ہے جو معمول کی حفاظتی ویکسی نیشن سے محروم رہ گئے تھے۔پاکستان نے 2026 میں اب تک دو ملک گیر اور دو علاقائی پولیو ویکسی نیشن مہمات چلائی ہیں، اس کے علاوہ کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں مخصوص اہداف کے تحت خصوصی اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔
ہر ملک گیر مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر تقریباً 45 ملین (ساڑھے چار کروڑ) بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا جاتا ہے۔ 4 لاکھ سے زیادہ فرنٹ لائن پولیو ورکرز، جن میں مرد اور خواتین شامل ہیں، ملک بھر میں بچوں تک پہنچنے میں مصروف ہیں جن میں سے اکثر یت مشکل حالات میں کام کر رہی ہے جس کا مقصد اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ کوئی بچہ پولیو سے تحفط کے قطرے پینے سے محرون نہ رہے۔آئندہ ذیلی قومی پولیو ویکسی نیشن مہم 2 سے 8 نومبر تک 97 منتخب اضلاع میں طے کی گئی ہے، جس کا ہدف پانچ سال سے کم عمر کے 23.9 ملین سے زائد بچوں کو پولیو ویکسی نیشن دیناہے۔واضح رہے کہ پولیو ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے جو بنیادی طور پر پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو متاثر کرتی ہے لیکن یہ کسی بھی عمر کے بغیر ویکسین کے لوگوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
وائرس اعصابی نظام پر حملہ آور ہوتا ہے اور گھنٹوں میں ناقابل واپسی فالج کا سبب بن سکتا ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق، تقریباً 200 میں سے ایک انفیکشن ناقابل واپسی فالج کا باعث بنتا ہے، جو عام طور پر ٹانگوں کو متاثر کرتا ہے۔ مفلوج ہونے والوں میں سے پانچ سے 10 فیصد اس وقت مر جاتے ہیں جب ان کے سانس لینے کے پٹھے متاثر ہوتے ہیں۔پولیو کا کوئی علاج نہیں ہے لیکن ویکسی نیشن کے ذریعے اس سے بچا جا سکتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او اورل پولیو ویکسین (OPV) اور غیر فعال پولیو ویکسین (IPV) کی سفارش کرتا ہے، جو تجویز کردہ شیڈول کے مطابق دینے پر مؤثر تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
صحت کے حکام نے والدین اور دیکھ بھال کرنے والوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ پانچ سال سے کم عمر کے ہر بچے کو قطرے پلانے کی ہر مہم کے دوران پولیو کے قطرے پلائے جائیں، چاہے ویکسی نیشن کی سابقہ تاریخ کچھ بھی ہو۔پولیو کا عالمی دن ایک یاد دہانی کے طور پر کام کرتا ہے کہ مسلسل عوامی تعاون، معمول کی حفاظتی ٹیکوں اور فرنٹ لائن ورکرز کی لگن پولیو وائرس کی منتقلی کو روکنے اور پاکستان میں ہر بچے کے لیے پولیو سے پاک مستقبل کے حصول کے لیے ضروری ہے۔







