وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان حکومت کے حالیہ بیانات ،جن میں پاکستان کے سلامتی سے متعلق جائز اور دیرینہ خدشات دور کرنے کی بجائے ایک بار پھر توجہ ہٹانے کے لئے الزام تراشی کی گئی ہے
افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان کے سکیورٹی خدشات دور کرنے کی بجائے گمراہ کن الزامات لگانے کا سلسلہ جاری ہے، افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنا افغان طالبان رجیم کی ذمہ داری ہے، وزارت اطلاعات

مزید خبریں
اسلام آباد۔24اکتوبر (اے پی پی):وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان حکومت کے حالیہ بیانات ،جن میں پاکستان کے سلامتی سے متعلق جائز اور دیرینہ خدشات دور کرنے کی بجائے ایک بار پھر توجہ ہٹانے کے لئے الزام تراشی کی گئی ہے، کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے سکیورٹی اداروں کو مورد الزام ٹھہرانے سے افغان طالبان حکومت اپنی اس ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال نہ ہو۔ ہفتہ کو وزارت اطلاعات و نشریات سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے خدشات قیاس آرائیوں پر مبنی نہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم نے اپنی سولہویں رپورٹ (S/2025/796) میں افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کا جائزہ لیا ہے۔ امریکی لیڈ انسپکٹر جنرل کی جانب سے جنوری تا مارچ 2026ء کے دوران آپریشن اینڈیورنگ سینٹینل رپورٹ(Operation Enduring Sentinel report) سے متعلق کانگریس کو پیش کردہ رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ افغان طالبان، تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغان سرزمین سے کارروائیاں کرنے کی اجازت دیتے رہے۔ طالبان کی حمایت اور گروہ کو کارروائیوں کی زیادہ آزادی ملنے سے پاکستان کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی تعداد چار سے چھ ہزار بتائی گئی ہے۔ یہ جائزے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور معاون نیٹ ورکس کے حوالے سے پاکستان کے خدشات کی سنگینی واضح کرتے ہیں۔ یہ مؤقف کہ افغانستان نہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور نہ ہی ایسا کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے، ان دستاویزی شواہد پر مبنی خدشات کا جواب نہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلح دہشت گردوں کی جانب سے پاک افغان سرحد پر دراندازی کی مسلسل کوششیں، پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغان شہریوں اور دہشت گرد گروہوں کے ارکان کی ہلاکتیں اور دہشت گرد عناصر سے غیر ملکی ساخت کے اسلحے کی برآمدگی، یہ تمام معاملات سنجیدہ جانچ پڑتال کے متقاضی ہیں۔ پاکستان، قندھار میں تعینات حکام سمیت افغان طالبان حکام کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی مبینہ سہولت کاری پر بھی خدشات کا اظہار چکا ہے۔ ان خدشات کو محض یکسر تردید کرکے مسترد نہیں کیا جا سکتا بلکہ ان پر قابلِ اعتماد وضاحت اور قابلِ تصدیق عملی اقدامات ضروری ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کے سکیورٹی اقدامات کا ہدف دہشت گردی کے خطرات ہیں، افغان عوام نہیں۔ دونوں ممالک کا امن و استحکام ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ دہشت گردی سے پاک خطہ افغان عوام کے لیے بھی اتنا ہی فائدہ مند ہے جتنا ان کے پاکستانی ہمسایوں کے لیے۔ افغان طالبان حکومت کو کالعدم ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور ان سے وابستہ گروہوں سمیت دہشت گرد تنظیموں کے لیے ہر قسم کی چشم پوشی، سہولت کاری یا حمایت ختم کرنا ہوگی۔ اسے یقینی بنانا ہوگا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی، تیاری یا حملے کرنے کے لیے استعمال نہ ہو۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات اور ضروری دفاعی اقدامات کو افغانستان کے خلاف دشمنی قرار دینے کی کوششوں سے نہ اصل مسئلے سے توجہ ہٹائی جا سکتی ہے اور نہ ہی اسے حل کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان اپنے شہریوں، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔ پاکستان باہمی احترام، قابلِ تصدیق یقین دہانیوں اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں، معاون نیٹ ورکس اور سرحد پار دراندازی کے خلاف ٹھوس اقدامات کی بنیاد پر ذمہ دارانہ بات چیت کے لیے بدستور تیار ہے۔ تاہم افغان طالبان حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ خطے میں امن اسی صورت قائم ہو سکتا ہے جب وہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی سے متعلق پاکستان کی بنیادی تشویش کو قابلِ تصدیق اقدامات کے ذریعے دور کرے۔







