ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے کہا ہے کہ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، خوشحالی اور معاشی استحکام کی بنیادی ضمانت ہےجبکہ نوجوان نسل کی صلاحیتوں کو مثبت سمت میں نکھار کر انہیں علم و ہنر کے مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوان ہی پاکستان کے روشن مستقبل اور قومی ترقی کے حقیقی معمار ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے …
تعلیم اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو مثبت سمت دینا قومی ترقی اور روشن مستقبل کی بنیاد ہے، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔7نومبر (اے پی پی):ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے کہا ہے کہ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، خوشحالی اور معاشی استحکام کی بنیادی ضمانت ہےجبکہ نوجوان نسل کی صلاحیتوں کو مثبت سمت میں نکھار کر انہیں علم و ہنر کے مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوان ہی پاکستان کے روشن مستقبل اور قومی ترقی کے حقیقی معمار ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے الحمد اسلامک یونیورسٹی کی پہلی ڈگری رباب تبسم کو پیش کرنے کے موقع پر کیا۔
انہوں نے اس اہم تعلیمی کامیابی پر انہیں مبارکباد دی اور ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس موقع پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے الحمد اسلامک یونیورسٹی کے صدر پروفیسرڈاکٹر شکیل روشن،انتظامیہ، اساتذہ اور تمام عملے کو ادارے کے تعلیمی سفر میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرنے پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نےکہا کہ ملک میں معیاری تعلیم کےفروغ کے لیے الحمد اسلامک یونیورسٹی کی کاوشیں قابلِ قدر ہیں۔ تعلیمی ادارے نہ صرف نئی نسل کو علم و شعور سے آراستہ کرتے ہیں بلکہ انہیں مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے اور قومی ترقی میں موثر کردار ادا کرنے کے قابل بھی بناتے ہیں۔
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان نسل بے پناہ ٹیلنٹ، قابلیت اور تخلیقی صلاحیتوں سے مالامال ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے نوجوانوں کومعیاری تعلیم، جدید علوم اور عملی تربیت کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں، تاکہ وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں اور ملک و قوم کا قیمتی اثاثہ ثابت ہوں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت تعلیم کے فروغ، تعلیمی نظام میں بہتری اور شرحِ خواندگی میں اضافے کے لیےاصلاحات اور اقدامات پرتوجہ دے رہی ہے۔
اس قومی مقصد کے حصول کے لیے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون اور اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔ ہمیں ایسے تعلیمی مواقع اورسازگار ماحول فراہم کرنا ہوگا جہاں ہر نوجوان اپنی استعداد کے مطابق آگے بڑھ سکے اور پاکستان کا نام روشن کر سکے۔سیدال خان ناصر نے کہا کہ ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے سیاسی وابستگیوں اور اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو مقدم رکھنا ہوگا۔
تعلیم کے فروغ اور شرحِ خواندگی میں اضافے کے لیے مشترکہ سوچ، مربوط حکمت عملی اور عملی اقدامات وقت کا تقاضا ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تعلیمی شعبے میں سرکاری و نجی اداروں کی مثبت کاوشوں کی حوصلہ افزائی جاری رہنی چاہیے، کیونکہ یہی ادارے نوجوان نسل کو علم و ہنر سے آراستہ کرکے پاکستان کے مستقبل کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔







