افغان عبوری حکومت الزام تراشی کی بجائے پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے جائز خدشات کو دور کرنے کو ترجیح دے، پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی عرب اور قومی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو

Hafiz Tahir Mahmood Ashrafi
Hafiz Tahir Mahmood Ashrafi

اسلام آباد۔6اکتوبر (اے پی پی):پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے افغان عبوری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ الزام تراشی کے بجائے پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے جائز خدشات کو دور کرنے کو ترجیح دے۔جمعہ کو عرب اور قومی میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ گفتگو میں انہوں نے خطے میں استحکام اور امن برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔

حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان کے عزائم واضح ہیں کہ وہ افغانستان میں عدم استحکام یا لاقانونیت کی کوئی خواہش نہیں رکھتا اور اسے اپنے افغان ہم منصبوں سے بھی اسی عزم کی توقع ہے۔انہوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تاریخی تعلقات پر زور دیا جن کی جڑیں سماجی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں پر استوار ہیں جو دونوں ممالک کے امن اور خوشحالی پر منحصر ہیں۔انہوں نے افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کی ۔پاکستان کی چار دہائیوں کی تاریخ کا اعتراف کیا اور یقین دلایا کہ یہ تعاون جاری رہے گا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہم آہنگ بقائے باہمی کے لئے دونوں ممالک کے قوانین کا احترام بہت ضروری ہے۔حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے پاکستان میں ہونے والے حالیہ دھماکوں میں ممکنہ طور پر افغان انتہا پسندوں کے ساتھی تلاش کرنے کے مسئلے پر بھی روشنی ڈالی۔انہوں نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ علاقائی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لئے اس معاملے کو خوش اسلوبی اور باہمی تعاون سے حل کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے کیونکہ کشمیر اور فلسطین کو مسلم امہ کے لئے مشترکہ مسئلہ قرار دیا گیا ہے اور کشمیری عوام کو درپیش مظالم پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔انہوں نے کشمیریوں کی حالت زار کے بارے میں بین الاقوامی آگاہی کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ کشمیر قید میں ہے۔

انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ ان خدشات کا نوٹس لے۔حافظ محمد طاہر محمود اشرفی جو بین الاقوامی بین المذاہب کونسل کے صدر بھی ہیں، نے پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ان کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے 12 ربیع الاول کو پیش آنے والے دہشت گردی کے حالیہ واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بربریت قرار دیا جو اسلام اور انسانیت کے براہ راست خلاف ہیں۔انہوں نے گزشتہ دو ماہ کے دوران اس طرح کے حملوں میں حالیہ اضافے کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے تشدد کا ارتکاب کرنے والوں کا حقیقی اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ واضح طور پر اس کی تعلیمات کے خلاف کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے بھی ہلاکتوں اور تباہی کے ان واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔انہوں نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی ایک کینسر ہے جس کا خاتمہ ضروری ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ کینیڈا اور عالمی سطح پر دہشت گردی میں ہندوستان کے ملوث ہونے کو بین الاقوامی برادری کو تسلیم کرنا چاہئے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس حوالے سے ہونے والی پیش رفت کا نوٹس لے ۔