اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل فلسطین اور کشمیر میں قابض غیر ملکی افواج کی طرف سے سنگین خلاف ورزیوں کو روکے، پاکستان

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل فلسطین اور کشمیر میں قابض غیر ملکی افواج کی طرف سے سنگین خلاف ورزیوں کو روکے، پاکستان

اقوام متحدہ۔1نومبر (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے فلسطین اور کشمیر میں قابض غیر ملکی افواج کی طرف سےانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے گزشتہ روز جنرل اسمبلی میں اقوام متحدہ کی47 رکنی انسانی حقوق کونسل کے طریقہ کار میں امتیازی سلوک اور دوہرے معیار سے گریز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ انسانی حقوق کو جامع اور متوازن انداز میں فروغ دینا چاہیے۔ جنیوا میں قائم انسانی حقوق کونسل کے صدر کی سالانہ رپورٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پاکستانی سفیر نے کہا کہ کونسل کو انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر ہونے والی خلاف ورزیوں کو روکنا چاہیے جو غیر ملکی قبضے اور مداخلت کے حالات میں ہوتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ غزہ اور مقبوضہ فلسطین میں جو دل دہلا دینے والا قتل عام ہو رہا ہے وہ ہماری ٹیلی ویژن سکرینز پر نظر آ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قابض طاقت اسرائیل کو 50 سال سے زیادہ عرصے سے ان خلاف ورزیوں کی جوابدہی سے استثنا حاصل ہے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بھی واضح ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں صورتوں میں قابض طاقتوں اسرائیل اور بھارت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں آزادی کی جائز جدوجہد کو دبانے کی کوشش کی ہے۔

پاکستانی مندوب نے اسرائیل فلسطین تنازعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی غیر ملکی قبضے کو برقرار رکھنے کے خطرے کو اجاگر کرتی ہے۔انہوں نے دنیا کے بعض حصوں میں نسلی منافرت، مذہبی بالادستی اور انتہائی اور پرتشدد قوم پرستی اور فاشزم کے عروج کا مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ مضبوط کوشش پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہاکہ اسلامو فوبیا مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک اور حملوں، حجاب پر پابندی، قرآن پاک کی بے حرمتی، گستاخانہ خاکوں اور اسلامی علامات اور مقدس مقامات کی توڑ پھوڑنئے مظاہر کا ایک بڑا عنصر ہے۔آزادی اظہار کی آڑ میں ایسی کارروائیوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ ہمارے مشرقی ہمسایہ ملک بھارت میں اسلامو فوبیا وبا کی طرح پھیل رہا ہے جس سے مسلم نسل کشی کا خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ کونسل کو اس نسل کشی کے خطرےسے براہ راست نمٹنا چاہیے۔

انسانی حقوق کونسل کی سب سے بڑی کمزوری امتیازی سلوک اور دوہرا معیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ترقی یافتہ ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے لیے کوئی خاص میکانزم نہیں بنایا گیا ہے بلکہ صرف ترقی پذیر ممالک میں بنایا گیا ہے ۔ ایران کا نام لئے بغیر ایک بڑے ترقی پذیر ملک کے خلاف بے بنیاد الزامات لگائے جاتے ہیں اور اسے سٹریٹجک حریف قرار دیا جاتا ہے جبکہ ایک اور بڑے ترقی پذیر ملک بھارت جسے ایک سٹریٹجک اتحادی سمجھا جاتا ہے

کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی کھلی چھٹی حاصل ہے یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے کئی خصوصی نمائندوں اور میکانزم نے اس ملک میں انتہا پسند حکمران جماعت کی طرف سے انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں پر بار بار شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ انسانی حقوق کونسل کی ترجیح خوراک، ایندھن اور مالیاتی بحرانوں کا سامنا کرنے والے ترقی پذیر ممالک کے لیے فوری امداد کا حصول اور غیر مساوی مالیاتی، تجارتی اور ٹیکنالوجی کے نظام میں اصلاحات کے ذریعے تیز رفتار اور مساوی ترقی کو فروغ دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ معاشی اور سماجی حقوق کو فروغ دینے کے لیے ترقی کے حق کے بین الاقوامی معاہدے کوکلیدی جز کے طور پر اپنانا ہو گا۔