اقوام متحدہ کی غزہ جنگ میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر تشویش

اقوام متحدہ کی غزہ جنگ میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر تشویش

پیرس ۔6اپریل (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ان رپورٹس پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ اسرائیل غزہ میں اپنے اہداف کی نشاندہی کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہا ہے جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر شہری ہلاک ہو رہے ہیں۔

فرانس 24نیوز کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل گوتریس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ ان خبروں سے بہت پریشان ہیں کہ اسرائیلی فوج نے گنجان آباد شہری علاقوں میں اپنی بمباری کی مہمات میں اہداف کی شناخت کے لیے مصنوعی ذہانت کے ایک آلے کا استعمال کیاجس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر عام شہری ہلاک ہوئے۔

انہوں نےمزید کہا کہ زندگی اور موت سے متعلق فیصلوں کے کسی حصے کو جو پورے خاندان کو متاثر کرتا ہو، کمپیوٹر کے حساب کتاب کے نظام کے حوالے نہیں کیا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ ایک غیر جانبدار اسرائیلی فلسطینی جریدے پلس 972میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں اہداف کی شناخت کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جینس کا استعمال کیا اور بعض معاملات میں یہ کام 20 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں کیا گیا جس میں انسانی نگرانی کا عمل بہت محدود تھا

رپورٹ میں اسرائیلی انٹیلی جینس کے چھ افسروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے لیونڈر نامی آلے نے، خاص طور پر جنگ کے ابتدائی دنوں میں فلسطینیوں پر بڑے پیمانے پر بم برسانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔غزہ میں پناہ گزینوں کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے کے دفتر نے کہا ہے کہ پلس 972 کے مضمون میں ایسے طریقوں کی وضاحت کی گئی ہے جو بلاشبہ جنگی جرائم تھے۔