22.5 C
Islamabad
پیر, ستمبر 1, 2025
ہومقومی خبریںانتظامی مسائل کے باوجود گزشتہ چھ سال کے دوران 18 پاکستانی جامعات...

انتظامی مسائل کے باوجود گزشتہ چھ سال کے دوران 18 پاکستانی جامعات عالمی رینکنگ میں شامل

- Advertisement -

اسلام آباد۔8جولائی (اے پی پی):عالمی سطح پریونیورسٹیوں کا معیارچیک کرنے کے لیے قائم کیو ایس ریٹنگ ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھ سال کے عرصہ میں پاکستانی جامعات اپنی کارکردگی کوکافی حد تک بہتر بنانے میں کامیاب رہی ہیں، سال 2019میں صرف تین پاکستانی یونیورسٹیاں کیو ایس کی عالمی ریٹنگ میں شامل تھیں،یہ تعداد اب بڑھ کر 18ہوگئی ہے تاہم تعلیمی ماہرین نے اسے ابھی بھی ناکافی قراردیتے ہوئے ٹھوس اقدامات پر زور دیا ہے۔

کیو ایس ریٹنگ ایجنسی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستانی جامعات نے اپنی رینکنگ کو بہتر بنایا تاہم ابھی تک وہ ٹاپ 350 میں شامل نہیں ہو سکیں ، سال 2019کے مقابلے میں خاطر خواہ کامیابی سامنے آئی ہے۔ ماہرین تعلیم کے مطابق پاکستانی جامعات کو مزید بہتر بنانے کی بہت گنجائش باقی ہے، معیار کو یقینی بنانے میں مشکلات درپیش ہیں کیونکہ جامعات کا انتظام صوبائی حکومتوں کے تحت ہوتا ہے جبکہ فیڈرل ایچ ای سی کو محض کم سے کم معیارات کو طے کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

- Advertisement -

کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ کے مطابق قائداعظم یونیورسٹی 354ویں، نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی 371ویں نمبر پر ہے جبکہ کراچی یونیورسٹی 1,001 بہترین اداروں کی فہرست میں جگہ بنا سکی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر پاکستان کو عالمی تعلیمی میدان میں خود کو منوانا ہے تو ایچ ای سی کو اختیارات کے تعین، معیارات پر عمل درآمد، تحقیق کے فروغ اور مالی خودمختاری کے شعبوں میں جامع اصلاحات کرنا ہوں گی۔

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں