حیدرآباد۔ 19 ستمبر (اے پی پی):ڈویژنل کمشنر حیدرآباد خالد حیدر شاہ نے کہاہے کہ انسداد تمباکو نوشی قانون کو ترجیحی بنیادوں پر حیدرآباد میں نافذ کیا جائے گاتاکہ نوجوان نسل کو سگریٹ نوشی کے استعمال سے محفوظ رکھا جاسکے یہ بات انہوں نے شہباز بلڈنگ حیدرآبادکو "تمباکو نوشی فری زون "قرار دینے کے موقع پر باتیں کرتے ہوئے کہی۔
بعد ازاں اس سلسلے میں میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر قائم اکبر نمائی کے زیر صدارت "تمباکو سے پاک شہر” پروجیکٹ وزارت صحت اسلام آبادکے تحت بھی ایک اجلاس شہباز ہال حیدرآباد میں منعقد ہوااس موقع پراجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے مینیجر محمد آفتاب احمد نے تمباکو نوشی کے استعمال سے ہونے والے نقصانات کے متعلق تفصیلی آگاہی دیتے ہوئے بتایاکہ پاکستان میں ایک لاکھ 60ہزار سے زائد افراد سالانہ تمباکو نوشی کے استعمال کی وجہ سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں اور 12سو پاکستانی بچے جن کی عمر 5سے 15 سال تک کے درمیان ہوتی ہے وہ تمباکو نوشی کااستعمال کرتے ہیں جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کو ناصرف تمباکو نوشی کے راستوں کو روکنا ہے بلکہ تمباکو نوشی کا استعمال کرنے والوں کو اس لعنت سے نجات دلوانے کے لیے ان کی مدد کرنا بھی ہے اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر حیدرآباد قائم اکبر نمائی نے وزارت قومی صحت پاکستان کے اس اقدام کو سرہاتے ہوئے کہا کہ ضلع انتظامیہ”حیدرآبادکو تمباکو نوشی سے پاک شہر” بنانے میں اپنا بھر پور کرداراداکرے گااجلاس میں اسسٹنٹ کمشنرز، یونین کے نمائندے فہیم اختر، پروجیکٹ کوآرڈینٹر ذیشان دانش اور تمام ضلع محکموں کے سربراہان سمیت محکموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=392468