ملتان ۔ 30 مئی (اے پی پی):زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین نے کہا ہے کہ تمباکو نوشی انسانی جسم کو کھوکھلا اور موت کے منہ میں دھکیل دیتی ہے ،ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں تمباکو نوشی میں کمی لانے کے لیے سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات کے حوالے سے کالجز، یونیورسٹیوں، اور عوامی مقامات پر خصوصی آگاہی مہم چلائی جائے
،ان خیالات کا اظہار انہوں نے 31 مئی کو ہونے والے تمباکو نوشی کے خلاف عالمی دن کے حوالے سے اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر فریحہ فرحان نے کہا ہے کہ پاکستان میں دو کروڑ90 لاکھ سے زیادہ تمباکو نوش ہیں جن کی عمریں 15 برس یا اس سے زیادہ ہیں، ان میں سے ایک کروڑ70لاکھ سگریٹ نوش ہیں اور ملکی آبادی کا 40 فیصد حصہ سگریٹ، پان،گٹکا، بیڑی سمیت تمباکو سے بنی مختلف اشیاء جسم میں بطور زہر جا رہی ہے۔
ستم ظریفی تو یہ ہے کہ نوجوان نسل میں اس کا رجحان تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔سماجی رہنما زہرہ سجاد زیدی نے کہا کہ سگریٹ نوشی بطور فیشن نوجوان لڑکے لڑکیوں میں تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کو روکنے کےلئے ضروری ہے کہ والدین سمیت اساتذہ بھی اپنا کردار ادا کریں۔
سیاسی رہنما عابدہ مطلوب بخاری نے کہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں تمباکو نوشی نقصانات و خطرات کے مطلق آگاہی موجود نہیں ہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ انسداد تمباکو نوشی مہم کو جارحانہ طور پر چلایا جائے جس میں حکومت، عوام، میڈیا، بزنس کمیونٹی طلبہ، اساتذہ اور ڈاکٹرز بھرپور حصہ لیں۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=470756