انٹارکٹیکا اور گرین لینڈ میں برف کے تیزی سے پگھلنے کے نتائج تباہ کن ہوں گے، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

United Nations

اقوام متحدہ۔28نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے قطب جنوبی کے قریب واقع براعظم انٹارکٹیکا کو سوا ہوا دیو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیاں اس دیو کو جگا رہی ہیں۔

انٹارکٹیکا کے دورے سے واپسی پر اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انٹارکٹیکا اور گرین لینڈمیں برف 1990 کی دہائی کے اوائل کے مقابلہ میں تین گنا زیادہ تیزی سے پگھل رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں سال کے اس وقت قطب جنوبی پر عام طور پر جو علاقہ برف سے ڈھکا ہو تا ہے ، اس وقت اس کے رقبے میں 15 لاکھ مربع کلو میٹر کمی آچکی ہے جو پرتگال، سپین، فرانس اور جرمنی کے مشترکہ رقبے کے برابر ہے۔

انہوں نے کہا کہ برف کے تیزی سے پگھلنے کے اثرات انٹارکٹیکا تک محدود نہیں رہیں گے ، اس کے نتیجہ میں سمندروں کی سطح بلند ہو گی اور اس سے پوری دنیا میں ساحلی آبادیوں میں رہنے والوں کی زندگیوں اور معاش کو براہ راست خطرات لاحق ہوجائیں گے۔ان میں دنیا بھر میں پھیلے ہوئے چھوٹے جزائر اورساحلی شہر شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انٹارکٹیکا کے ارد گرد پانی کی نقل و حرکت دنیا بھر میں گرمی، غذائی اجزاء اور کاربن کو تقسیم کرتی ہے، جس سے ہماری آب و ہوا اور علاقائی موسمی ماڈلز کو منظم ہونے میں مدد ملتی ہے لیکن جنوبی بحرالکاہل کے پانی کا درجہ حرارت بڑھنے اور اس کی کثافت میں کمی کے باعث یہ نظام سست پڑ رہا ہے ۔

اس نظام میں مزید سست روی یا اس میں مکمل خرابی بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بنے گی۔انہوں نے خبر دار کیا کہ فوسل فیول کے استعمال میں کمی نہ ہونے کی صورت میں رواں صد ی کے آخر تک زمین کے اوسط درجہ حرارت میں تین ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ ہو سکتا ہے جس کے اثرات تباہ کن ہوں گے۔ انٹارکٹیکا اور گرین لینڈمیں برف کے کم ہونے کے نتیجہ میں موسموں کی شدت اور گرمی میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ رواں ہفتے دبئی میں ہونے والی کوپ ۔28 کانفرنس میں عالمی رہنمائوں کو سنجیدگی سے اس سلسل میں اقدامات کرنا ہوں گے۔

انہوں نے تجویز کیا کہ اس مقصد کے لئے قابل تجدید توانائی کے استعمال کو تین گنا کرنے، توانائی کی کارکردگی میں دوگنا اور 2030 تک سب کے لیے صاف توانائی تک رسائی کے لیے عالمی معاہدہ کیا جانا چاہیے