برآمدات کے فروغ کیلئے روایتی سے غیر روایتی منڈیوں کی طرف بھی توجہ مرکوز کرنا ہوگی،ترجمان پٹیا

برآمدات کے فروغ کیلئے روایتی سے غیر روایتی منڈیوں کی طرف بھی توجہ مرکوز کرنا ہوگی،ترجمان پٹیا

فیصل آباد ۔ 24 اکتوبر (اے پی پی):پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان نے کہا کہ اگر ٹیکسٹائل کی برآمدی صنعت کو سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ضروری سہولیات فراہم اور سیلز ٹیکس ریفنڈزکی ادائیگی کردی جائے تو اس سے جہاں ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کیا جاسکتا ہے وہیں قیمتی زر مبادلہ کے حصول سے ملکی معیشت بھی مستحکم کی جاسکتی ہے۔

اے پی پی سے بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ سرمائے کی کمی اورعالمی مارکیٹ میں مندی کے منفی اثرات ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کومتاثر کرسکتے ہیں لہٰذا صنعتی و برآمدی سرگرمیوں میں تسلسل کیلئے ضروری ہے کہ تمام واجب الادا ری فنڈز کی جتنی جلد ممکن ہو ادائیگی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں مندی کے باعث ٹیکسٹائل کی برآمدی صنعت کوبھی آرڈرز میں کمی کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل وہ واحد صنعت ہے جو ملک کو معاشی بحران سے نجات دلا سکتی ہے کیونکہ یہ صنعت ملکی مینوفیکچرنگ میں 46 فیصد کی حصہ دار ہے جبکہ 15 ملین سے زائد افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتی ہے اور جسکاجی ڈی پی میں شیئر8.5 فیصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ پائیدار معاشی گروتھ سے ملک کی اقتصادی بنیاد کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ برآمدات کے فروغ کیلئے ہمیں روایتی سے غیر روایتی منڈیوں کی طرف بھی توجہ مرکوز کرنا ہوگی جبکہ ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کے مسائل کاازالہ کرکے یورپی منڈیوں میں پاکستانی برآمدات بڑھا کر قیمتی زرمبادلہ کاحصول ممکن بنایاجاسکتاہے۔

انہوں نے کہاکہ سب سے زیادہ ٹیکسٹائل مصنوعات یورپی ممالک کو برآمد ہورہی ہیں چنانچہ خصوصی طور پر ٹیکسٹائل برآمدکنندگان کے مسائل کے ازالہ کیلئے اقدامات ہونے چاہئیں تا کہ وہ اس سہولت سے زیادہ سے زیادہ استفادہ حاصل کر سکیں اور غیر ملکی زرمبادلہ کا حصول بھی ممکن ہو۔