بلوچستان کی خواتین صلاحیتوں کے اعتبار سے کسی سے کم نہیں ، بہتر مواقع اور ضروری سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت ہے، گورنر بلوچستان ملک عبدالولی خان کاکڑ

،گورنر بلوچستان ملک عبدالولی کاکڑ

کوئٹہ۔ 28 نومبر (اے پی پی):گورنر بلوچستان ملک عبدالولی خان کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان کی خواتین صلاحیتوں کے اعتبار سے کسی سے کم نہیں ، انہیں بہتر مواقع اور ضروری سہولیات فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

یہ بات انہوں نے گورنر ہاوس کوئٹہ میں عورت استحکام سمِٹ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ خواتین پر تشدد کے خلاف سولہ دن ایکٹیوزم کی مناسبت سے عورت استحکام سمِٹ کا اہتمام صوبائی حکومت انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ اور پاکستان پاورٹی ایولیوایشن فنڈز کے تعاون سے کیا گیا۔ سمِٹ میں نگران صوبائی وزیر برائے اطلاعات جان اچکزئی، نگران صوبائی وزیر داخلہ محمد زبیر جمالی، صوبائی مشیر برائے وویمن ڈویلپمنٹ اینڈ سوشل ویلفیئر سوسائٹی شانیہ خان، میں نگران صوبائی برائے وویمن ڈویلپمنٹ اینڈ سوشل ویلفیئر سوسائٹی، وزیر شانیہ خان، یونیورسٹی آف بلوچستان کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن، قائمقام وائس وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر زینب بی بی، پاکستان پاورٹی ایولیوایشن فنڈز کے سربراہ نادرگل بڑیچ، سابق اسپیکر بلوچستان راحیلہ حمید خان درانی، سابق رکن صوبائی اسمبلی شائینہ کاکڑ، بی آر ایس پی کے چیرمین ملک انور کاسی، بی آر ایس پی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر طاہر رشید، سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نصراللہ پرولتاریہ اور عورت فاؤنڈیشن کے صوبائی ڈائریکٹر علاوالدين خلجی موجود تھے۔

اس موقع پر گورنر بلوچستان ملک عبدالولی خان کاکڑ نے کہا کہ توجہ طلب بات یہ ہے کہ آج بھی معاشرے کے اس اہم حصہ سے متعلق ہم فروعی معاملات میں الجھے ہوئے ہیں مثلاً عورت کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنی چاہیے یا نہیں، ملازمت کرنی چاہئے یا نہیں، شریک حیات کے انتخاب میں عورت کی مرضی شامل ہونی چاہیے یا نہیں. انہوں نے کہا کہ ایسے چھوٹے چھوٹے اور غیرضروری بحث مباحثے میں الجھنے سے بہتر ہے کہ ہم عورت کو ہر لحاظ سے برابر کا انسان تسلیم کریں تاکہ تمام دیگر معاملات بتدریج حل ہوتے رہیں۔

انہوں نے کہا کہ خوشی کا موقع ہے کہ آج بلوچستان کی نصف آبادی کے حقوق و اختیارات اور معاشرے میں انھیں باعزت مقام دلانے کے بارے میں باقاعدہ عورت سمِٹ کا اہتمام کیا گیا جو کہ لائقِ تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجربہ سے ثابت ہے کہ معاشی خودانحصاری کے بغیر کوئی عورت اپنے دیگر حقوق و اختیارات حاصل نہیں کر سکتی، معاشی طور پر خودمختار بنا کر ہی عورت کو تمام مسائل سے نمٹنے کی اہلیت دی جا سکتی ہے۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ آج انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی ماں کی گود تعلیم و تربیت اور کردار سازی کے ضمن بہترین درسگاہ کا درجہ رکھتی ہے.

گورنر بلوچستان نے نپولین کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ مجھے تعلیم یافتہ ماں دیں میں آپ کو پڑھی لکھی قوم دونگا کیونکہ عورت ہی کسی قوم کے روشن مستقبل کی ضامن ہے ۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا کہ اپنی نصف آبادی کو اپنے گھر کی چاردیواری کے اندر گونگا اور بہرہ رکھ کر دنیا کی کوئی قوم تخلیق و ترقی کی نئی منازل طے نہیں کر سکتی، یہ حقیقت ہے کہ بلوچستان کی خواتین اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے کسی سے کم نہیں ہیں البتہ انھیں بہتر مواقع اور ضروری سہولیات فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

گورنر بلوچستان نے کامیاب عورت سمِٹ کے انعقاد پر تمام منتظمین اور شرکاء کو خراج تحسین پیش کیا اور اعلیٰ کارکردگی پر ایوارڈز پانے والی خواتین کو مبارکباد دی۔ انہوں نے دعا کی کہ پروردگار ہمیں مل جل کر آگے بڑھنے اور قومی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔