بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں جلد از جلد عام حالات بحال کرے، بھارتی سپریم کورٹ

نئی دہلی۔16 ستمبر (اے پی پی) بھارتی سپریم کورٹ نے مودی کی زیر قیادت بی جے پی حکومت سے کہا ہے کہ کشمیر میں جس قدر جلد ممکن ہو مقبوضہ کشمیر میں معمول کی زندگی بحال کرنے کی تمام تر کوششیں کرے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارت کی عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے پیر کو مقبوضہ کشمیر کو خصوصی آئینی حیثیت دینے والے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران کہا کہ سپریم کورٹ مقبوضہ کشمیر میں جاری پابندیوں پر کوئی حکم جاری نہیں کرسکتی تاہم انھوں نے کہا کہ قومی سلامتی کو مدِنظر رکھتے ہوئے ترجیحی بنیاد پر مقبوضہ کشمیر میں معمول کی زندگی بحال کی جائے۔ بھارتی چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ خود مقبوضہ کشمیر کا دورہ کریں گے۔ بھارتی چیف جسٹس رنجن گوگوئی، سپریم کورٹ کے جسٹن ایس اے بوبڈے اور ایس اے نذیر پر مشتمل سپریم کورٹ کے بینچ نے کہا کہ اس معاملے کو جموں کشمیر ہائی کورٹ خود دیکھ سکتی ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ بھارت نے پانچ اگست کو ایک صدارتی حکم نامہ کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور اس وقت سے مقبوضہ کشمیر میں سخت ترین کرفیو نافذ ہے جبکہ مواصلات کا نطام بند کردیا گیا ہے۔ بھارتی حکومت نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ مقبوضہ کشمیر کے تمام اخبارات شائع ہورہے ہیں اور سرکاری ٹی وی اور پرائیوٹ چینل کے علاوہ ایف ایم نیٹ ورکس بھی کام کررہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال سے کہا کہ وہ حکومت کی جانب سے کشمیر میں کیے گئے جن اقدامات کا ذکر کر رہے ہیں انھیں ایک حلف نامے پر تحریر کرکے عدالت میں جمع کروائیں۔