بھارت پاکستان مخالف پروپیگنڈے کیلئے سلامتی کونسل کی اپنی غیر مستقل رکنیت کاغلط استعمال کررہا ہے، ترجمان دفتر خارجہ

پاکستان میں افغانستان کے ناظم الامور دفتر خارجہ طلب ، کابل میں پاکستانی ہیڈ آف مشن پر حملے کے واقعہ پر شدید احتجاج

اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت غلط بیانیوں اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کو نشانہ بنانے کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اپنی غیر مستقل رکنیت کا غلط استعمال جاری رکھے ہوئے ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ بھارت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کی اہلیت نہیں رکھتا، بھارت کو غیر قانونی طورپر زیرقبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں کو بند کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان نے گزشتہ روز سلامتی کونسل کی بریفنگ میں پاکستان کے خلاف بھارت کے غیر ضروری ریمارکس کو سختی سے مسترد کیا ہے ، بدقسمتی سے، بھارت غلط بیانیوں اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کو نشانہ بنانے کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اپنی غیر مستقل رکنیت اور 1373کائونٹر ٹیررازم کمیٹی (سی ٹی سی)کی چیئر کا غلط استعمال جاری رکھے ہوئے ہے۔ سلامتی کونسل میں بھارت کا غیرمستقل رکن کے طور پر غیر ذمہ دارانہ رویہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کی اہلیت نہیں رکھتا۔

ترجمان نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی طورپر زیر قبضہ جموں وکشمیر کی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں دیکھی گئی ہے کیونکہ یہ ابھی تک فوجی محاصرے میں ہے اور وہاں بھارتی ظلم و ستم جاری ہے۔ ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے گزشتہ ہفتے بھارتی قابض افواج نے مقبوضہ کشمیر کے اسلام آباد اور شوپیاں اضلاع میں دو کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کر دیا۔ بھارتی قابض افواج بھی بے گناہ نوجوانوں کو اپنی حراست میں لے کر قتل کرنے میں مصروف ہیں، یہ صورتحال پاکستان کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ہمیں کشمیری سیاسی قیدیوں بشمول حریت کانفرنس کے رہنمائوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کے بارے میں بھی گہری تشویش ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور انہیں فوری رہا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سمیت انسانی حقوق کی بارہ بین الاقوامی تنظیموں نے مشترکہ طور پر انسانی حقوق کے رہنما خرم پرویز کی فوری اور غیر مشروط رہائی کے لیے آواز اٹھائی ہے جو اس وقت نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قید ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی اپنی سنگین اور منظم خلاف ورزیاں بند کرنی چاہیں،5اگست 2019 کے اپنے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کو منسوخ اور کشمیری حریت رہنمائوں سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنا چاہیے۔