بھارت کےاقلیتوں کے خلاف وحشیانہ مظالم کے باعث متعدد ریاستوں میں اختلافی آوازیں اٹھنا شروع

بھارت کےاقلیتوں کے خلاف وحشیانہ مظالم کے باعث متعدد ریاستوں میں اختلافی آوازیں اٹھنا شروع

اسلام آباد۔3اگست (اے پی پی):بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ہندوتوا نظر یہ کی سب سے بڑی حامی ہےجو گزشتہ آٹھ سال سے سیکولر پالیسیوں ، آزادی ظہاررائے اور آزادی مذہب کے حق کی سخت مخالف ہے ہندو قوم پرست پالیسیوں کے اس نقطہ نظر کے نتیجے میں مذہبی آزادی کی سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت مسلسل اورسنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں اورمسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں، دلتوں اور آدیواسیوں سمیت غیر ہندو مذہبی برادریوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ،

ہیومن رائٹس واچ کی عالمی رپورٹ 2022 میں بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی زیر قیادت بھارتی حکومت نے مذہبی اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کے قوانین اور پالیسیوں کو اختیار کر رکھا ہے۔ بی جے پی کے رہنما اور پولیس مسلمانوں کی توہین اورتشدد کرنے والے بھارتیہ جنتا پارٹی کے عناصر کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام ر ہی ،

ہندو قوم پرست گروہوں کو مسلمانوں اور حکومتی ناقدین پر حملوں کی کھلی چھٹی دی گئی اور افسوس کی بات ہے کہ بھارتی حکومت نے انسانی حقوق کارکنوں، صحافیوں، پرامن مظاہرین اور شاعروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جو اس ناانصافی کے خلاف آواز بلند کر رہے تھے۔حالیہ متنازعہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) کے تحت غیر مسلموں کوشہریت کا راستہ دیا گیا مگر این آر سی کے عمل میں پھنسے ہوئے مسلمانوں کے لیے کوئی ازالہ نہ کیا گیا ،

پورے بھارت میں اس ظالمانہ قانون کے خلاف مظاہرے ہوئےمگر مودی حکومت نے طاقت کے استعمال کے ذریعہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے مظاہرین کی آواز کو دبا دیا،اقوام متحدہ کے کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی 2021 کی سالانہ رپورٹ میں ہندوستان کو مذہبی آزادی کی بلیک لسٹ میں ڈالنے کی سفارش کی گئی ہے۔قائداعظم یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق احمد نے کہا ہے کہ اگرچہ بھارت متعدد نسلی گروہوں اور مذاہب کے ساتھ ایک بڑا ملک ہے لیکن یہ ایک غیر سیکولر ملک کے طور پر ابھر رہا ہے جہاں اقلیتوں کو ان کے بنیادی آئینی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بالخصوص گزشتہ 30 سالوں میں بھارت میں اقلیتوں کے مسائل بڑھ رہے ہیں، بابری مسجد کے واقعہ کے بعد ہندو قوم پرستی میں اضافہ ہوا ہے،مودی کے دور حکومت میں اقلیتوں کو تیزی سے دبایا گیا اور اس سیاسی رحجان کے باعث بھارت ٹوٹ پھوٹ اور عدم استحکام کا شکارہورہا ہے جہاں خالصتان کی تحریک نے بھی زور پکڑا ہے جہاں تک کشمیر کے لوگوں کے حقوق کا تعلق ہے، بھارت کے غیرقانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں سینکڑوں لوگوں کو سخت پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت بغیر کسی الزام کے نظر بند رکھا گیا،

اس ایکٹ کے تحت بغیر کسی مقدمے کے شہریوں کو دو سال تک نظربند رکھا جاتا ہے ،بی جے پی سکھوں سمیت بھارتی شہریوں کے بنیادی مطالبات کو علیحدگی کے ایجنڈے کا نام دے رہی ہے نومبر 2020 میں زرعی قوانین میں ترامیم کے خلاف احتجاج کرنے والے لاکھوں کسانوں پر بھی بی جے پی رہنماؤں نے علیحدگی پسند ایجنڈا کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ پنجاب کاشتکاروں کے ایجی ٹیشن کی آڑ میں خالصتان کے ایجنڈے کو ہوا دی جارہی ہے فروری 2021 میں بھارتی وزیر اعظم مودی نے پرامن احتجاج کرنے والوں کو پیرا سائٹ قرار دیا تھا۔

اقلیتوں کے خلاف بھارت کے وحشیانہ اقدامات کی دنیا بھر میں مذمت کی جارہی ہے اور بین الاقوامی برادری میں اس کے سیکولر ملک ہونے کے دعوے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔اقرا یونیورسٹی میں سوشل سائنسز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر اعجاز حسین نے بھارت میں اقلیتوں کی حالت زار اور اختلافی آوازوں کے حوالہ سے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی حالت زار خوفناک ہے۔ گزشتہ سال آسام میں عیسائیوں کو اس وقت غنڈہ گردی کا نشانہ بنایا گیا جب وہ پریسبیٹیرین چرچ میں اپنی مذہبی رسومات ادا کر رہے تھے۔اسی طرح آر ایس ایس سے متاثر انتہا پسند ہندوئوں نے ریاست ہریانہ میں عیسائی مذہبی علامات کی خلاف ورزی کی۔بی جے پی کے کچھ قانون سازوں نے عیسائیوں کو ہند و مذہب اختیارکرنے کے لیے ایک مہم بھی شروع کی۔

ایک سینئر ٹی وی اینکر اور سیاسی مبصر فرید رئیس نے کہا ہے کہ بھارت سب سے بڑا سیکولر ملک ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن اس کا جواز پیش نہیں کرتا جہاں مذہبی اقلیتوں اور اختلافی آوازوں کو دبایا جا رہا ہے بھارت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے ،بھارت میں بی جے پی نے انتہا پسندی کو مزید ہوا دی ہے۔ 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مودی کی ہندو قوم پرست حکومت اقلیتوں بالخصوص 20کروڑ مسلمانوں پر بدترین مظالم ڈھا رہی ہے ،

فرید رئیس نے کہا کہ ایسی صورتحال میں خالصتان سے لے کر ناگالینڈ تک کئی علیحدگی پسند تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں ،یہ تحریکیں ریاست کے اندر علاقائی، نسلی اور انسانی مسائل کی نمائندگی کرتی ہیں۔ کئی دہائیوں سے ناگالینڈ، منی پور، ہریانہ، اروناچل پردیش اور بھارتی پنجاب میں علیحدگی پسند بھارت سے آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں ،بھارت نے ان تحریکوں کو دبانے کے لیے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا ہے۔

بھارت خاص کر مقبوضہ جموں و کشمیر اور خالصتان کے حوالہ سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہوا ہے جس نے اپنی وحشیانہ بربریت سے ہزاروں افراد کو قتل کیا ہے ،بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق استصواب رائے کے حق سےہمیشہ انکار کیا ہے ۔ کشمیریوں کی آواز کو دبانے کے لیے9لاکھ سے زائد فوج استعمال کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال، پیلٹ گن، غیر قانونی حراست، ماورائے عدالت قتل، عصمت دری اور لاک ڈاؤن کشمیریوں کی جدوجہدآزادی کو دبانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔