بیروت۔24جون (اے پی پی):لبنان نے برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کے اس دعویٰ کہ حزب اللہ بیروت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہتھیار ذخیرہ کر رہی ہے کو مسترد کر دیا ہے ۔انڈ پینڈنٹ اردو کے مطابق لبنان کے قائم مقام وزیر برائے تعمیرات اور ٹرانسپورٹ علی حمیہ بیروت نے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کسی بھی قسم کے ہتھیاروں کی موجودگی کو مسترد کرتے ہوئے آج( 24 جون) کی صبح 10 بجے بیروت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر جائزے کے لیے سب کو دعوت دی ہے۔انہوں نے ایئرپورٹ پر ایک پریس کانفرنس میں دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک اخبار کے خلاف قانونی کارروائی کرنے جا رہا ہے جس کی تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔
دوسری جانب انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (ایاٹا) نے بھی اپنے ایک بیان میں برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کی رپورٹ میں ایاٹا کے نامعلوم ذرائع سے منسوب بیان کو غلط قرار دیا ہے۔ایاٹا نے بیان میں کہا ہے کہ ہمارے علم میں آیا ہے کہ برطانیہ کے ٹیلی گراف نے 23 جون کو حزب اللہ لبنان کے مرکزی ہوائی اڈے پر میزائل اور دھماکہ خیز مواد ذخیرہ کر رہی ہے کے عنوان سے شائع ہونے والے ایک مضمون میں آئی اے ٹی اے کے نامعلوم ذرائع سے منسوب ایک اقتباس شامل کیا ہے۔یہ اقتباس سراسر غلط ہے۔ ایاٹا نے بیروت ہوائی اڈے کی صورت حال پر نہ کوئی تبصرہ کیا ہے اور نہ ہی کرے گا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمارا لبنان کی سیاسی یا سلامتی کی صورت حال میں کوئی کردار نہیں ہے اور ہم اس طرح کے معاملات پر کبھی تبصرہ نہیں کریں گے۔ایاٹا نے ٹیلی گراف کو اس غلطی سے آگاہ کیا اور اخبار نے اس مضمون کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے ایاٹا کا نام ہٹا دیا ہے۔دی ٹیلی گراف پر 23 جون کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ لبنان کے دارالحکومت بیروت کے ہوائی اڈے پر کام کرنے والے ملازمین نے مبینہ طور پر خبردار کیا ہے کہ حزب اللہ وہاں بڑی تعداد میں ایرانی ہتھیار، میزائل اور دھماکہ خیز مواد ذخیرہ کر رہی ہے۔
برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کے مطابق مبینہ طور پر ان ہتھیاروں میں ایرانی ساختہ راکٹ فلک، مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائل، فتح-110، بیلسٹک میزائل اور ایم-600 میزائل شامل ہیں جو ڈیڑھ سے دو سو میل تک مار کر سکتے ہیں۔ہوائی اڈے پر جمع کیے جانے والے اسلحے میں لیزر گائیڈڈ ٹینک شکن میزائل اے ٹی۔14 کورنیٹ، بڑی تعداد میں کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل، دھماکہ خیز مواد آر ڈی ایکس شامل ہے۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=478411