تاجر برادری اور اقتصادی ماہرین کی حکومت کی معاشی حکمت عملی کی تعریف

تاجر برادری اور اقتصادی ماہرین کی حکومت کی معاشی حکمت عملی کی تعریف، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ، شرح مبادلہ میں استحکام اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی شاندار کارکردگی ملکی معیشت کے لیے مثبت اقدام قرار

اسلام آباد۔17دسمبر (اے پی پی):کاروباری طبقہ اور معاشی ماہرین نے چیلنجز کے باوجود نگران وفاقی حکومت کی اختیارکردہ جامع حکمت عملیوں سے قابل ذکر معاشی پیش رفت کا اعتراف کرتے ہوئےکہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ، شرح مبادلہ کے استحکام اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی شاندار کارکردگی ملکی معیشت کے لیے مثبت اقدام ہے۔

اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ جنوری 2023 میں پیٹرول کی قیمت 331.38 روپے سے کم ہو کر اب 267.34 روپے پر آ گئی ہے جو کہ 65 روپے کی کمی کو ظاہر کرتی ہے، اس سے مہنگائی کی شرح میں کمی آئے گی،زر مبادلہ کی شرح کو مزید استحکام ملے گا اور پاکستان سٹاک ایکسچینج کو مزید مثبت کارکردگی کی طرف لے جانے کے علاوہ مقامی مارکیٹ اور معیشت کے بیرونی شعبوں کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

فیڈریشن پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عرفان اقبال شیخ نے اے پی پی کو بتایا کہ حکومت نے بین الاقوامی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ صنعت اور گھریلو صارفین کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایف پی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ اس کے اندرونی اور بیرونی شعبوں سمیت ملکی صنعت پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی شرح مبادلہ میں استحکام حکومت کے انتظامی اقدام کی کامیابی کا ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ سے اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان ہے جو کہ خوش آئند ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ حکومت کو ملک میں صنعتی کاروبار کو ترقی کا موقع دینے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے آئی سی سی آئی کے صدر احسن ظفر بختاوری نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں کمی سے ملک میں مہنگائی میں کمی آئے گی اور مارکیٹ میں زیادہ خریدار آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کی معاشی صورتحال بہتر ہورہی ہے جس سے تاجر برادری سمیت عام آدمی کو فائدہ ہوگا۔

فیصل آباد چیمبر آف کامرس کے صدر ڈاکٹر خرم طارق نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی، شرح مبادلہ میں استحکام اور اسٹاک ایکسچینج میں بہتری موجودہ حکومت کی بہتر معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت بزنس ریگولیشن کی طرف آئے اور کاروبار کرنے میں آسانی کے لیے اقدامات کرے تاکہ ملک میں مزید معاشی ترقی ہو سکے۔سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عبدالغفار نے کہا کہ سیالکوٹ پاکستان کا بڑا برآمدی شہر ہے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بیرونی شعبے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے حکومتی اقدامات قابل ستائش ہیں۔لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر میاں کاشف انور نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی قیمتوں اور شرح مبادلہ کا استحکام ایک دوسرے کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی اور شرح مبادلہ میں استحکام سے لاہور کے صنعتی شعبے پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ثاقب رفیق نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے مقامی کاروبار پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے جس سے صنعت کو ترقی ملے گی۔آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما پنجاب) کے وائس چیئرمین زاہد مظہر نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور شرح مبادلہ میں استحکام سے ملک کے سب سے بڑے ٹیکسٹائل سیکٹر پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کی جی ڈی پی میں سب سے زیادہ حصہ ٹیکسٹائل سیکٹر کا ہے۔ سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر اعجاز خان آفریدی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کو خوش آئند قرار دیا۔ کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر حاجی عبداللہ نے کہا کہ صنعتی شعبہ سمیت کوئٹہ کی تاجر برادری موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کو درست سمت سمجھتی ہے اور موجودہ معاشی استحکام اس کا بڑا ثبوت ہے۔

دریں اثناء ممتاز ماہر معاشیات اور سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی جس کی وجہ سے حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی تاکہ ملکی صنعت اور عام لوگوں کو فائدہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ملک میں مہنگائی اور خاص طور پر توانائی کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔انہوں نے کہا کہ اسٹاک ایکسچینج میں پیش رفت اور ڈالر کی قدر میں کمی سے ملکی معیشت پر نمایاں اثرات مرتب ہوں گے۔

اس موقع پر اعظم علی سلمان نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور شرح مبادلہ میں استحکام کی وجہ سے ملک کی موجودہ معاشی صورتحال مستحکم ہے، اس وقت بزنس ریگولیشن رجیم لانے اور ٹیکس پالیسی، غیر ملکی سرمایہ کاری اور برآمدات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری عرفان اقبال شیخ، اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احسن ظفر بختاوری، فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ڈاکٹر خرم طارق، صدر سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عبدالغفار،

راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میاں کاشف انور، آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما-پنجاب) کے وائس چیئرمین ثاقب رفیق، زاہد مظہر، سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر اعجاز خان آفریدی،

کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر حاجی عبداللہ سمیت معروف ماہر معاشیات اور سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا اور پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی (پرائم) کے صدر علی نے موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں اور معاشی کامیابیوں کو سراہا۔ انہوں نے نگران حکومت کی جانب سے معیشت کی ترقی کے لیے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی۔