گوجرانوالہ۔ 03 جنوری (اے پی پی):ڈپٹی کمشنر فیاض احمد موہل نے کہا ہے کہ تمباکونوشی انسانی صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے اس کے استعمال سے ہر سال پاکستان میں1لاکھ 63 ہزار666افرادلقمہ اجل بن جاتے ہیں جبکہ6سال سے15سال کی عمرتک کے 12سوسے زائد بچے روزانہ تمباکو نوشی کاآغازکررہے ہیں،پاکستان کاشمارزیادہ تمباکواستعمال کرنے والے پندرہ ممالک میں ہوتاہے ،پاکستان میں کینسر،پھیپھڑوں کے کینسر،سانس اوردیگر بیماریوں کی بڑی وجہ تمباکونوشی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گوجرانوالہ ضلع کوسموک فری بنانے کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) شبیر حسین بٹ، مینجر ٹوبیکو کنٹرول محمد آفتاب احمد،ڈپٹی ڈائریکٹرکالجززاہد فاروق،ڈپٹی ڈائریکٹر(انفارمیشن)منورحسین،ڈی اوایجوکیشن الطاف حسین،ڈی ایچ اوڈاکٹرمعیز،ڈی ایچ کیوڈاکٹرعمرشہباز ،ایس پی پولیس،ڈی ایس پی پولیس سمیت سوشل ویلفیئر،اوقاف اوردیگرمتعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔
مینجرپراجیکٹ نے بتایا کہ2019 کے اعدادوشمارکے مطابق پاکستان میں تمباکو کے استعمال کی وجہ سے لاحق امراض کی تشخیص اور علاج کیلئے سالانہ 615.07بلین روپے خرچ ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں 70 فی صد سے زائد لوگ سگریٹ نوشی چھوڑنے کی خواہش رکھتے ہیں مگر اس میں صرف دو فیصد اپنی کوششوں میں کامیاب ہوتے ہیں اس کی بنیادی وجہ نیکو ٹین پر انحصاراور جدید سہولتوں کا فقدان ہے جس سے لوگ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود سگریٹ نوشی ترک نہیں کر پاتے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سموک فری ملک بنانے کیلئے سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے کی ضرورت ہے جس سے نہ صرف سگریٹ چھوڑنے میں مدد ملے گی بلکہ سگریٹ نوشی کے استعمال میں کافی حد تک کمی لائی جاسکے گی۔اجلاس کے اختتام پرڈپٹی کمشنر فیاض احمد موہل نے پراجیکٹ ٹوبیکو کنٹرول سیل کو مکمل تعاون کی یقین دھانی کرائی اور ضلع کی تمام تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ بھی اپنے تحصیلوں کو سموک فری بنانے کے سلسلہ میں ان سے تعاون کریں تاکہ باہمی کوششوں سے گوجرانوالہ ضلع کو سموک فری زون بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ تحصیلوں کے تمام اسسٹنٹ کمشنرز اپنی ضلعی کمیٹیوں کے اجلاس کے ذریعہ قابل عمل پالیسی بنائیں، تمباکو سے پاک عوامی گاڑیوں کو عملی جامہ پہنائیں اور آئندہ نسلوں کو تمباکو کے مضر اثرات سے پاک بنانے کیلئے تخلیقی سر گرمیوں کا انعقاد کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوامی مقامات پر قانون کے نفاذ کے لیے ضلعی سطح پر ٹاسک فورسز کا قیام عمل میں لایا جائے گا،
محکمہ ایکسائز،پولیس کالجز اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران بچوں، نوجوانوں اور معززشہریوں کو ترک تمباکو نوشی کی آگاہی مہم دیں اور تمام سرکاری و نجی دفاتر کو سموک فری بنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ٹوبیکو کنٹرول کے سلسلہ میں ضلع کو سموک فری بنانے کیلئے پنجاب فوڈ اتھارٹی نے کاروائیاں کیں مختلف خلاف ورزیوں پر 20 لاکھ روپے سے زائد کا جرمانہ عائد کیا۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=426415