جب تک گندم مکمل طور پرپک کر تیار نہ ہو جائے اس وقت تک اس کی کٹائی شروع نہ کریں،محکمہ زراعت

Wheat

فیصل آباد ۔ 31 مارچ (اے پی پی):محکمہ زراعت کے ماہرین زراعت نے کہا ہے کہ وسط اپریل کے بعد متوقع طور پرگندم کی فصل کی کٹائی کا عمل شروع ہونے والا ہے لہٰذا کاشتکار اس موقع پر انتہائی احتیاط سے کام لیں اوراچھی طرح پک جانے کے باوجود بارش کے دوران فصل کی کٹائی نہ کریں نیز کٹائی کے دوران تسلسل کے ساتھ ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر کی جانے والی محکمہ موسمیات کی پیشگوئیاں بھی توجہ سے سنی جائیں تاکہ فصل کو ہر قسم کے نقصان سے بچانا ممکن ہو سکے۔

انہوں نے اے پی پی کو بتایاکہ کٹائی کے بعد فصل کو زیادہ دیر تک کھیت میں نہ رکھا جائے نیز ذخیرہ کیلئے گودام کو ہوا دار رکھا جائے جس میں نمی کا تناسب 10فیصد ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر بارش کا خطرہ ہو تو کٹائی کے بعد چھوٹی بھریاں بنائی جائیں اور کھلواڑے لگاتے وقت سٹوں کا رخ اوپر کی طرف رکھا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ کھلواڑے لگاتے وقت اونچی جگہوں کا انتخاب کیا جائے اور ان کے ارد گرد بارش کے پانی کے نکاس کیلئے کھالیاں بنائی جائیں تا کہ بارش کا پانی زیادہ دیر وہاں کھڑا رہ کر گندم کو نقصان نہ پہنچا سکے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں تک ممکن ہو سکے گندم کی کٹائی ریپر یا کمبائن ہارویسٹر کے ذریعے کی جائے تاکہ فصل زیادہ دیر تک کھیت میں نہ پڑی رہے۔ انہوں نے کہاکہ گندم کی سٹوریج کے وقت اس میں نمی کا تناسب 10 فیصد سے زائد نہ ہو ا سی طرح گندم کے ذخیرہ کیلئے نئی بوریاں استعمال کی جائیں اور پرانی بوریوں کی صورت میں ان پرسفارش کردہ کرم کش زہروں کے سپرے سمیت گوداموں میں موجود کیڑوں کی تلفی کیلئے بھی محکمہ زراعت کے سفارش کردہ زہر کے محلول کا سپرے یقینی بنایا جائے۔