Election day banner
31 C
Islamabad
اتوار, جون 23, 2024
ہومخصوصی فیچرزداستان گوئی اردو ادب کی ایک صنف جو معدوم ہوتی جا رہی...

داستان گوئی اردو ادب کی ایک صنف جو معدوم ہوتی جا رہی ہے ، دیو اور پریوں کی دنیا ہم سے چھن گئی

لاہور۔19مارچ (اے پی پی):داستان گوئی۔۔۔ ۔۔۔۔ایک کھوئی ہوئی روایت

(تحریر …. ممتاز سلیم لنگاہ )

داستان گوئی، کہانی بیان کرنے کا ایک مخصوص انداز ہے جس میں رزمیہ داستانوں کو ڈرامہ کے انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔کہانی سنانے والے کے پاس الفاظ کا سمندر ہوتا ہے جس سے وہ کہانی کا مکمل منظر کھینچتا ہے اور ان کہانیوں میں تجسس ہوتا ہے اور کہانی بیان کرنے والے کا انداز ایسا ہوتا ہے کہ سننے والا اس انتظار میں رہتا ہے کہ کہا نی میں آگے کیا ہونے والا ہے۔

کہتے ہیں کہ قصہ گوئی کا فن اتنا ہی قدیم ہے جتنی کہ انسانی تہذیب و ثقافت۔ قدیم زمانے میں لوگوں کے پاس تفریح کا کوئی سامان میسر نہیں رہتا تھا۔فلم، تھیٹر، ٹی وی جیسی تفریحات ناپید تھیں، داستان گوئی کا فن تفریح کا اہم ذریعہ تصور کیا جاتا تھا اور عوام و خواص میں یکساں مقبول تھا۔داستان گوئی کا سب سے مرکزی کردار داستان گو ہے۔ جس کی آواز ہی ایک آرٹ ہے۔ وہ کہانی میں اپنی آواز کا جادو شامل کرکے داستان کی اثر انگیزی کو بام عروج تک پہنچا دیتا ہے۔

اگر محض ایک صدی قبل تاریخ میں جھانکیں تو روز مرہ زندگی میں کوئی خاص مصروفیت نہیں تھی بس اپنی خوراک کا انتظام کرنے کے بعد انسان اپنی زندگی جی رہا ہوتا تھا،تب سے داستان گوئی کا رواج پڑا۔پیٹ کی ضروریات سے فارغ ہو کر لوگ ایک جگہ میں جمع ہو جاتے،ایک دوسرے کو زندگی کے بارے میں اپنے تجربات بتاتے، کوئی کسی جگہ کی سیاحت کر کے آ جاتا،شکار کر کے واپس لوٹتا یا مہم جوئی وغیرہ سرانجام دیتا،تو واپسی میں اپنے ساتھ بہت ساری نئی معلومات لے آتا تو فارغ لوگ ان کے پاس جمع ہو جاتے اور آنے والوں سے وہ اپنے ساتھ بیتے واقعات کو چسکے لگا کے بیاں کرتے اور سننے والے ان واقعات کو سن کے لطف اندوز ہوتے۔ یوں کھو معاشرے میں داستان گوئی کی روایت پڑ گئی ہوگی اور وقت گزاری کا ایک دلچسپ ذریعہ وجود میں آ گیا۔

لوگوں کو قصہ کہانیاں سننا بیحد پسند تھا۔ایسے قصے جن میں ما فوق الفطر عناصر جیسے دیو،دیوتا، پریاں،جن وغیرہ شامل ہوا کرتے تھے۔ داستان گوئی کی باضابطہ محفلیں منعقد ہوا کرتی تھیں اور ایک داستان پیش کرنے میں کئی مہینے درکار ہوتے تھے اور کچھ داستانیں ختم ہونے میں کئی سال لگتے تھے جس کی مثال داستان الف لیلہ ہے۔

داستان گوئی ایک فارسی لفظ ہے۔ داستان کہتے ہیں کہانی کو اور گو کا مطلب ہے کہنے والا یا سنانے والا چنانچہ داستان گو کے معنی ایسا شخص جو داستان سنائے۔ہندوستانی داستان گوئی کو درباری داستان گوئی یا ہندوی داستان گوئی بھی کہتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 13ویں صدی کے ادیب اور شاعر امیر خسرو کے شیخ مشہور صوفی نظام الدین اولیاء ایک مرتبہ بیمار پڑے تو امیر خسرو نے ان کی طبیعت بہلانے کے لیے قصہ چہار درویش/ باغ و بہار اور الف لیلہ و لیلہ کی کہانیوں کے مجموعے ان کو سنائے۔

جب تینوں کہانیاں ختم ہوگئیں تو نظام الدین اولیا بالکل ٹھیک ہو گئے اور فرمایا کہ جو بیمار ان تین کہانیوں کو سن لے تو شفایاب ہوگا۔

ماہر بشریات غوث انصاری کے مطابق داستان گوئی کی جڑیں قبل از اسلام عرب سے ملتی ہیں۔ پھر اسلام کی اشاعت نے اس فن کو ایران تک تک پہنچایا اور ایران والے ہندوستان دہلی لے کر آئے۔ 1857ء کی بغاوت کے بعد جب لوگ دہلی سے لکھنؤ پہنچے تو دوسری اصناف ادب کے ساتھ ساتھ داستان گوئی بھی لکھنؤ گئی۔بادشاہوں کے درباروں میں سنائے جانے والے قصوں میں زیادہ تر مہم جوئی،جنگی بہادری، بادشاہوں کے ساتھ وفاداری، بذلہ سنجی، بادشاہوں کے انصاف، وزیروں کی حاضر دماغی، پہلوانوں کا آپس میں مقابلہ، پہلوانوں کا دیو وغیرہ سے مقابلہ جیسے قصے ہوتے۔گائوں کے بڑے اور عام لوگ بھی ایک دوسرے کو کہانیاں سناتے اور داستان گو بلاتے۔ان کی ضیافت کا اہتمام کرتے اور وہ راتوں کو کہانی سنا کر لوگوں کو محظوظ کرتے۔

ان کہانیوں کے خاص کرداروں میں خوبصورت پریاں،خوبرو جوان کا کانا دجل سے مقابلہ،ہنسنے والا راج،جنات کے قصے مشہور ہوتے۔یہ کہانیاں اتنی دلچسپ ہوتیں کہ رات گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلتا۔بچوں کے لیے کہانیاں اکثر گھروں میں دادی اماں سنایا کرتی تھی۔یہ کہانیاں اپنے الفاظ،ترتیب،علم اور معلومات کے لحاظ سے مختلف ہوتی۔ بچوں کے لیے سنائی جانے والی ان کہانیوں میں اخلاقیات کا پہلو نمایاں ہوتا،جیسا کہ معذور کی مدد کرنا،ماں باپ کا کہا ماننا، بڑوں کی تابعداری،سچ کی فتح،رحم دلی کے قصے،ظالم کا برا انجام،کسی اچھے کردار کے مشکل میں ہونے پر غیبی مدد، مشکل میں پڑنے پر اپنی طرف سے کوئی حل ڈھونڈنا،جھوٹ کا انجام،ماحول سے دوستی،جانوروں سے پیار اور وفاداری،لالچ کا برا انجام،بہت سارے ایسے واقعات بیاں ہوتے۔گھروں میں بچوں کو بہلانے کے لیے بھی لوری اور قصہ کہانیاں سنا کر بچوں کو بہلائے جاتے۔

داستان گوئی کی ابتدائی تاریخ کا حتمی طور پر کوئی پتہ نہیں ملتا تاہم اردو میں اس فن کی منتقلی ابتدا میں عربی سے فارسی زبان (ایران) کے ذریعے ہندوستان تک پہنچی۔داستان گوئی کی روایت قدیم ہندوستان میں بے حد مقبول تھی۔اس کے علاوہ الجیریا،بوسنیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک میں داستان گوئی تہذیب کا اہم حصہ تھی۔اصل داستانیں فارسی زبان میں لکھی جاتی تھیں۔گو ان داستانوں کا ایک بڑا مقصد شہنشاہوں کو تفریح مہیا کرنا تھا،تاہم ان کو فنی کمال پر پہنچانے کا اصل فریضہ اور داد تو ان داستان گو افراد کو جاتی ہے جو سادہ رقم کی ہوئی داستان کو بہت سارے لوازمات سے آراستہ کرتے جس میں زبان کی چاشنی،لہجہ کی بناوٹ،مکالموں کی ادائیگی وغیرہ شامل ہے۔بیٹھے بیٹھے یا ایک جگہ کھڑے ہوئے محض جسمانی اعضا کی حرکات و سکنات،آواز کا اتار چڑھائو،مرصع شاعری کے ملاپ سے جادو،عیاری،خیر و شر، حسن و طرب کی بزموں کا سماں گویا آج کے جدید تھیٹر کا سماں پیدا کرنا کہ سننے والے داستان گو کے اعجازِ بیاں سے کسی اور جہاں کے مزے لوٹنے لگتے۔بیان کی ادائیگی میں خاص خیال رکھا جاتا کہ لہجہ اور زبان کو مقامی علاقہ کے انداز میں ڈھالا جائے تاکہ داستان سے اپنائیت کا احساس ہو۔

یہ داستانیں نویں صدی سے بیسویں صدی تک تفریح کا مقبول ذریعہ رہیں۔ہندوستان میں حمزہ نامہ یا داستانِ امیر حمزہ کو مغلیہ شہنشاہ اکبر اعظم کے عہد میں عروج حاصل ہوا۔اکبر کے دربار کے نو رتن میں فیضی اور ابوالفضل نے ان داستانوں کو جمع کیا۔اس طرح حقیقت تو یہ ہے کہ ان داستانوں کو تصویری پیرہن سے آراستگی کا فریضہ اکبر کے دور کا اہم کارنامہ ٹھہرا کہ جب انکی تصویری عکاسی کپڑے پر مبنی 1400 تصاویر سے کی گئی۔اسکا بنیادی کام ایرانی فنکار سید علی اور خواجہ عبدالصمد کی نگرانی میں ہوا۔کئی جلدوں پر مبنی ان تصویری فولیو کی تکمیل 15 سال (1562-1577) میں انجام پائی۔تصاویر کی پشت پر عربی نستعلیق رسم الخط میں داستان کا متن ہوتا اور دوسری جانب منظر کی تصویر کشی۔دو افراد اس کو پکڑتے اور داستان گو بیان دیتا۔اس طرح گویا یہ اس زمانے کا کوئی ٹی وی ڈرامہ ہوتا۔ان تصاویر کو البرٹ اور وکٹوریہ میوزیم میں محفوظ کرنے کا سہرا ڈون کلارک کے سر ہے۔افسوس کہ نہ صرف ہم نے اس فن کو کھویا بلکہ اس کے بچے کھچے آثار کو بھی اپنا ثقافتی ورثا بنا کر محفوظ نہ رکھ سکے۔

اٹھارہویں اور 19 ویں صدی میں فارسی زبان سے اردو میں منتقلی کے بعد داستان گوئی کے اس فن کو مزید وسعت ملی اور اس کا اثر ادب کی دوسری اصناف پر بھی مرتب ہوا۔ 1880 کے بعد تقریبا دو دہائیوں تک داستانِ امیر حمزہ لکھن کے گلی کوچوں اور نکڑوں میں چھائی رہی اور یہی حال دہلی میں بھی اسکی مقبولیت کا تھا تاہم اس پرانے فن میں سماجی ڈھانچہ کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ زوال پیدا ہونے لگا۔اس کی ایک وجہ غالبا داستانوں میں بزمِ حسن و طرب کا ذکر جو اسلامی ثقافت میں معیوب سمجھا جاتا تھا،تو دوسری جانب ریفارمسٹ تحریک تھی جو 1857 کے بعد کے دور میں پیدا ہوئی۔ا

س کے تحت ان داستانوں کو بوسیدہ فن کی شکل قرار دیا گیا۔پھر ایک وہ وقت بھی آیا جب صدی کے آخری داستان گو میر باقر علی کو بیسویں صدی کے اواخر میں دہلی کے بازار میں پان، چھالیہ بیچتے دیکھا گیا۔یہ وہ فنکار تھا جو امرا کی پیشکش کو ٹھکرا دیتا تھا۔وہ اپنے ساتھی فنکاروں کی دنیا سے رخصتی کے بعد اپنے گھر میں داستان گوئی کی محفل منعقد کرتا۔میر باقر کی آواز میں بیان کی ہوئی تین منٹ کی داستان آج بھی تبرکا لندن کی لائبریری کے خزینہ میں قیمتی اور نایاب اثاثے کی صورت میں محفوظ ہے۔بعد کے سالوں میں داستان گوئی کی جگہ بائی سکوپ اور تھیٹر نے لے لی اور یوں مشینی دوڑ میں یہ فن کہیں کچل کر وقت کی دھول میں دب گیا اور بالآخر بیسویں صدی میں اپنے اختتام کو پہنچا۔تقسیم ہند کے بعد بہت سے سنجیدہ ادیبوں مثلا محمد حسن

عسکری،پروفیسر سہیل احمد خان اور گیان چند جین نے ان داستانوں کی تہوں میں چھپی ہوئی معنویت اور حقیقت پسندی کے گوہر تلاش کئے اور اپنے تحقیقی مضامین میں اس کا ذکر کیا۔ آج کے عہد کے ادیب شمس الرحمن فاروقی جن کا شمار جدید ادب کے حامیوں میں ہوتا ہے،46 ضخیم جلدوں پر مشتمل ”داستانِ امیر حمزہ” کو یکجا کیا۔اسکی ہر جلد تقریبا 900 صفحات پر مشتمل ہے۔

عصر حاضر میں انٹرنیٹ اور موبائل فون کی ایجاد نے انسانی زندگی بدل کے رکھ دی ہے۔انسان انٹرنیٹ اور موبائل فون کے ساتھ اتنا مشغول ہوا کہ داستان گوئی،اخبار بینی اور کتابوں کا مطالعہ ایک پہیلی بن کے رہ گئی۔چند سال قبل ہی روزانہ اخبار کے آنے کا بڑی بے صبری کے ساتھ انتظار رہتا تھا اور لوگ بازاروں سے طرح طرح کی ادبی کتابیں خرید کر ان کا مطالعہ کرتے تھے۔پچھلے تیس سالوں میں یہ عمل گھٹتا ہی گیا اور بات یہاں تک آ گئی کہ آج کی نوجوان نسل داستان گوئی،اخبار بینی اور کتابوں کے مطالعے سے بالکل بے خبر ہے۔آج کے نوجوان موبائل فون اور انٹرنیٹ کے قیدی بن کر اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں۔

تاہم دور جدید کے داستان گو اس قدیم فن کو دوبارہ جلا بخش رہے ہیں اور دنیا میں ہر اس جگہ اپنی داستان گوئی کا فن پیش کر رہے ہیں جہاں اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے۔اس حوالے سے والڈ سٹیز اینڈ ہیریٹج ایریاز اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ٹورازم اصغر حسین نے کہا کہ داستان گوئی یا قصہ خوانی یہ ایک صدیوں پرانی روایت ہے جسے اب دوبارہ زندہ کیا جارہا ہے،والڈ سٹیز اینڈ ہیریٹج ایریاز اتھارٹی صدیوں پرانی داستان گوئی کی اس صنف کو زندہ کرنے کیلئے بھرپور کاوشیں کررہا ہے۔’ اے پی پی ” سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پرانے دور میں مختلف داستان گو ہوا کرتے تھے جو لوگوں کو تفریح مہیا کرتے تھے،شہر کے دیو ملائی کردار ہوتے ہیں جو ان کو سناتے تھے۔انہوں نے کہا کہ والڈ سٹیز اینڈ ہیریٹج نے اب اس کام کا بیڑا اٹھایا ہے،داستان گوئی جیسی محفلوں کا انعقاد کر رہا ہے،انہوں نے لاہور کے باسیوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ آئیں اور ہسٹری کے بارے میں علم حاصل کریں۔دریں اثنا ڈپٹی خزانچی(آئی ٹی یو) محمد عابد خان نے”اے پی پی”کو بتایا کہ داستان گوئی اردو ادب کی ایک صنف ہے جو معدوم ہوتی جا رہی تھی،جو ہماری نوجوان نسل کو زیادہ نہیں پتا،یہاں آ کر روشناس ہو کر لاہور کی تاریخ سن کر بہت اچھا لگا،ایسے ایونٹ کا انعقاد ہونا بہت ضروری ہے۔

داستان گو بدر خان نے بتایا کہ کسی بھی علاقے کی لوک کہانیاں صرف کہانیاں نہیں ہیں بلکہ یہ علاقے کی تاریخ،ایک زمانے کا بیانیہ اور معاشرے میں تربیت پانے،سیکھنے اور کچھ کرنے کے لیے رہنمائی،زندگی گزارنے کے لیے مہارتیں سیکھنے کا ذریعہ،مقامی دانش،تجربات کے حاصل ہونے کے ساتھ اپنی تاریخ سے جڑے رہنے کا ایک وسیلہ بھی مافوق الفطرت خیالات،علاقے میں پائے جانے والے تصورات،توہمات،پرانے زمانے میں زندگی گزارنے کے طور طریقے، سوچنے کا طریقہ یا انداز یہ سب ان لوک کہانیوں میں بیاں ہوتے ہیں۔جیسا کہ عام طور پر لوک کہانیوں کا خاصہ ہے۔ان کہانیوں میں نہ صرف بچے بچیوں کی اخلاقی تربیت بلکہ اپنے علاقے، خاندانی ادب اور معاشرتی اقدار سے جانکاری ہوتی۔قومی غیرت اور حب الوطنی بھی ان کہانیوں سے ہی سکھائے جاتے۔ اس طرح معاشرے میں رونما ہونے والے واقعات کا ادراک اچھے برے کی تمیز بھی ان کہانیوں کے ذریعے ہوتی۔ جس میں اٹھنے، بیٹھنے سے لے کر بولنے تک کے آداب شامل ہوتے۔

اس تربیت کی بنا پر کھو معاشرے میں اچھے اور برے کا معیار قائم تھا۔انہوں نے کہا کہ جب سے معاشرہ ترقی کر کے سوشل میڈیا کے زمانے تک پہنچا ہے تو تربیت کے یہ سارے مقامی ذریعے ختم ہو گئے ہیں۔گھر کی دادی امائیں بھی یہ کہانیاں بھول چکی ہیں۔بچے، بچیاں بیرونی دنیا سے بہت کچھ اچھا برا سیکھ رہے ہوتے ہیں لیکن اپنے علاقائی یا مقامی علم سے محروم ہو رہے ہیں۔اب یہ واحد حل ہے کہ ان کہانیوں کو کتابی شکل میں محفوظ کرنے،ان کہانیوں پر مشتمل ویڈیو گیم ترتیب دینے اور ان کہانیوں کو آواز دے کر کرداروں کی شکل میں پیش کر کے معاشرے سے ہم آہنگ بنایا جائے۔کیونکہ کھو کمیونٹی کے بچے ان قصے کہانیوں سے مانوس ہوں اور اپنے معاشرے کے بارے میں بہتر طریقے سے جان سکیں۔

اس طرح سے یہ مواد بھی آنے والی نسل تک پہنچ پائیں گے۔اگر اب بھی ان روایات کو محفوظ کرنے کا انتظام نہ ہوا تو ہم دادی اماں کی گود میں بیٹھ کر کہانیاں سن کر تربیت پانے والی آخری نسل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ایک صدی بعد والڈ سٹی اندرون لاہور میں داستان گوئی زندہ ہو رہی ہے ، کالج اور یونیورسٹیوں میں دوبارہ محفل سج رہی ہیں اور مجھے بلایا جا رہا ہے۔پرانے زمانے میں بادشاہوں کے محلوں، میلوں اور بازاروں میں لوگوں کی تفریح کیلئے مختلف داستانیں سنائی جاتی تھیں۔ داستان گو اپنی آواز سے ایسا طلسم باندھتا اور اپنے”بھا”سے وہ ایسی دنیا تخلیق کرتا کہ گویا سامعین اس واقعے کو دیکھ رہے ہیں یا وہ خود اس کا حصہ ہیں۔والڈ سٹیز اینڈ ہیریٹج ایریاز اتھارٹی صدیوں پرانی داستان گوئی کی اس صنف کو زندہ کرنے کیلئے بھرپور کاوشیں کررہا ہے۔نئی نسل کو اس صنف اور لاہور کی تاریخ سے روشناس کروانے کیلئے گزشتہ روز ایک تقریب کا بھی انعقاد کیا گیا۔

تقریب میں مشہور داستان گو بدر خاں نے داستان شہر لاہور سے لوگوں کو روشناس کرایا اور اس صنف کو بھی اجاگر کیا۔اس صنف کو دوبارہ زندہ کرنے کیلئے جدید داستان گووں نے روایتی داستانوں کے ساتھ کچھ جدید داستانیں بھی بنائیں جو آج کے حالات سے مطابقت رکھتی ہیں اور ان کی عکاسی بھی کرتی ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسی روایات کو دوبارہ زندہ کرنا نئی نسل کے لیے بہت ضروری ہے تاکہ ان روایات کو دیکھیں اس سے سیکھیں۔لوگوں نے کہا کہ داستان گوئی سے ہم نے لاہور کے کلچر کو سیکھا ہے اور ہم نے ایک نئے کلچر کو دیکھا ہے۔داستان گوئی سے متعلق مرزا اسد اللہ خاں غالب کا خیال ہے کہ ”داستان طرازی من جملہ فنون سخن ہے،سچ ہے کہ دل بہلانے کے لیے اچھا فن ہے”۔

متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں