دنیا میں تعلیم و تربیت اور روزگار سے محروم نوجوانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے ، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے امن مشنز میں خواتین کو بااختیار بنانا اولین ترجیح ہے ، سربراہ اقوام متحدہ امن آپریشنز

نیویارک۔ 10 مارچ (اے پی پی) اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں تعلیم و تربیت اور روزگار سے محروم نوجوانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے،مردوں کے مقابلے میں خواتین کی دوگنا تعداد اس صورتحال کا شکار ہے۔ جنیوا میں قائم اقوام متحدہ کے ادارہ برائے محنت (آئی ایل او) کی تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 15سے24 سال کے نو عمر افراد کوبڑی عمر کے ملازمین کی نسبت روزگار سے محرومی کے خطرے کا زیادہ سامنا ہے ،پیشہ وارانہ تربیت کے حامل نوجوانوں کے لیے یہ صورتحال زیادہ پریشان کن ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیشہ وارانہ تربیت سے حاصل مہارتیں عام تعلیمی صلاحیتوں کے مقابلے میں تیزی سے متروک ہورہی ہیں،ماہرین نے پیشہ وارانہ تربیتی پروگراموں پر نظر ثانی کرتے ہوئے ان میں جدت لانے پر بھی زور دیا تاکہ ڈیجیٹل معیشت کے بدلتے تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2017 ءکے بعد سے ایسے نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا، 2016 ءمیں ان کی تعداد 259 ملین تھی جو 2019ءمیں بڑھ کر 267 ملین ہوگئی جو ایک اندازے کے مطابق 2021ءمیں 273 ملین تک پہنچ جائے گی، یہ تناسب 2015ءمیں 21.7 فیصد سے کچھ زیادہ تھا جبکہ 2020ءمیں 22.4 فیصد سے بھی تجاوز کر گیا ۔آئی ایل او ایمپلائمنٹ پالیسی ڈپارٹمنٹ کے چیف ایمپلائمنٹ اینڈ لیبر مارکیٹ پالیسیز برانچ سکتی داس گپتا نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ان نوجوانوں کے لئے تاحال درکار ملازمتوں کے مواقع پیدا نہیں کئے جا سکے۔عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ اگر ہم ٹیکنالوجی ، آب و ہوا کی تبدیلی ، عدم مساوات اور آبادیاتی امتیاز کے ذریعے درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو ہم پیشہ ورانہ مہارتوں پر مشتمل اس سرمایہ کاری کو ضائع کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔ عالمی سطح پر 1.3 بلین نوجوانوں میں سے 267 ملین تعلیم ، تربیت اور روزگار سے محروم ہیں اور ان میں نوجوان خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میںمربوط پالیسی فریم ورک اور حکومتوں ، کارکنوں اور آجروں کے درمیان مکالمے کے ذریعے تیار تربیتی نظام ناگزیر ہے۔ آئی ایل او کی روزگار پالیسی کے ڈائریکٹر سینگ ہن لی کا کہنا ہے کہ تعلیم اور روزگار سے نوجوانوں کی محرومیوں کا یہ رجحان جہاں خود نوجوانوں کے لیے طویل المدتی امکانات کا راستہ مسدود کر رہا ہے وہیں اس سے ممالک کی معاشرتی و معاشی ترقی پر بھی شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس رجحان کی وجوہات مختلف ہیں جنہیں دور کرنے کے لئے مضبوط پالیسیوں اور اقدامات کے ساتھ لچکدار اور متوازن انداز اختیار کرنا ہوگا۔