سی پیک منصوبوں کی رفتار تیز ہونے سے معاشی و معاشرتی ترقی میں بہتری آئے گی، دورہ چین میں صدر شی جن پنگ سے ملاقات انتہائی مثبت رہی، نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی پریس کانفرنس

اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے دورہ چین کو مثبت اور تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سی پیک کا تسلسل جاری رکھنے کیلئے پرعزم ہے، سی پیک منصوبوں کی رفتار تیز ہونے سے معاشی و معاشرتی ترقی میں بہتری آئے گی، حالیہ دورہ چین میں صدر شی جن پنگ سے ملاقات انتہائی مثبت رہی، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی عالمی رہنمائوں سے تبادلہ خیال ہوا، انتخابات میں حصہ لینا کسی بھی رجسٹرڈ جماعت کا حق ہے، پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو نگراں وفاقی وزراء جلیل عباس جیلانی، مرتضیٰ سولنگی، سرفراز بگٹی، گوہر اعجاز، فواد حسن فواد کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ چین کے صدر شی جن پنگ کی دعوت پر چین کا اہم دورہ کیا جس میں اہم پیشرفت ہوئی، چین کی حکومت، عوام، میڈیا اور تھنک ٹینکس کے ساتھ تبادلہ خیال ہوا، چین کے ساتھ ہماری ہر موسم میں آزمودہ تزویراتی دوستی ہے، اس فریم ورک میں رہتے ہوئے مفید اور تعمیری بات چیت ہوئی، پاکستان میں کوئی بھی حکومت ہو چین کے ساتھ تعلقات اہمیت کے حامل ہیں، پاکستان اور چین کی دوستی میں اخلاص کی وجہ سے غیر یقینی کا کوئی عنصر آتا بھی ہے تو وہ حل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر آئی فورم میں چینی صدر نے عالمی درپیش چیلنجوں کا حل اپنے 8 نکاتی ایجنڈے میں دیا، یہ پورے اس خطے اور دنیا کیلئے مفید ہے، اس سے زمینی، فضائی اور سمندری راستوں سے رابطوں میں قربت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے اور معاشی و سماجی طور پر مستفید ہونے اور بہتر طرز زندگی کا منصوبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی آر آئی میں پاکستان کیلئے بہت مواقع ہیں، پاکستان کی جانب سے منصوبہ بندی، کوآرڈینیشن اور تعاون کے تین نکات ہم وہاں سے لے کر آئے ہیں، دورے کے دوران چینی اور روسی صدور سمیت اہم رہنمائوں کے ساتھ تعمیری ملاقاتیں ہوئیں، چینی کمپنیوں اور کاروباری لوگوں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں، توقع ہے کہ بی آر آئی کے دوسرے مرحلے میں یہ کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری میں حصہ لیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کے تنازعہ کے حل کی حمایت کی گئی، چین کے حوالے سے پاکستان کے دوستی کے عزم کا ہم نے اعادہ کیا، دورے کے دوران کابینہ کے تمام اراکین نے اپنے اپنے شعبہ جات میں تعاون کیلئے ملاقاتیں کیں۔

انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو روسی صدر سمیت دیگر اہم رہنمائوں کے ساتھ ملاقاتوں میں اٹھایا، کینیا کے صدر کے ساتھ صحافی ارشد شریف کے کیس کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ چین ہمارا سب سے قریبی دوست ہے لیکن بدقسمتی سے ہم چینی زبان سے ناآشنا ہیں، اس حوالے سے ریاستی میڈیا اقدامات اٹھائے، ارومچی دنیا کے جدید اور ترقی یافتہ شہروں میں شامل ہے، چین کے ساتھ الیکٹرانک و ڈیجیٹل میڈیا، فلم سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع ہیں، ان سے فائدہ اٹھایا جانا چاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ دورے کے دوران مختلف شعبوں میں 20 سے زائد مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے جو ہمارے لئے حوصلہ افزاء ہے، چین سے ہونے والے معاہدوں یا کام کے فالو اپ کیلئے وزیراعظم ہائوس میں سیل قائم کیا جا رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں نگراں وزیراعظم نے کہا کہ چین سے ہونے والے معاہدوں سے پاکستان میں ہونے والی سرمایہ کاری سے اقتصادی ترقی آئے گی، چین سے آنے والی سرمایہ کاری کیلئے مربوط حکمت عملی وضع کی جا رہی ہے، ہم دورہ چین سے ”کوآرڈینیشن، کوآپریشن اور کنسلٹیشن” سیکھی ہیں، حکومتی سطح پر اگر یہ تین چیزیں مؤثر ہوں گی تو مستقبل بہتر ہو گا۔ روسی صدر سے ملاقات کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ روسی صدر سے ملاقات گرمجوش اور اچھے ماحول میں ہوئی، ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملا، روس اس خطے کا اہم ملک ہے، ہمیں اس کا ادراک ہے، اس پورے خطے کو ایک دوسرے کے ساتھ مزید جڑنا چاہئے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی فرد کو کسی بھی جماعت میں شامل ہونے کی مکمل آزادی ہے ، بطور نگراں حکومت ہمارا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کا ایک ذمہ دار ملک ہے، افغان شہری اگر پاکستان کے راستے امریکہ سمیت کسی ملک جانا چاہیں تو انہیں اس کی اجازت ہے، ہم غیر قانونی افغانوں کو وطن واپس بھیجنا چاہتے ہیں، دہشت گردی کے خلاف پاکستان نان نیٹو اتحادی تھا جس نے بڑی جانی و مالی قربانیاں دی ہیں، ہم غیر قانونی طور پر کئی دہائیوں سے پاکستان میں مقیم افغانیوں کے انخلاء کیلئے کوشاں ہیں تاکہ وہ اپنے ملک واپس جا کر سفری دستاویزات لے کر پاکستان آئیں تاکہ ان کی نقل و حرکت قانونی ہو، عرصہ دراز سے پاکستان میں غیر قانونی مقیم افغانوں کو اپنا دشمن نہیں سمجھتے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خسارے میں چلنے والے اداروں کی جلد نجکاری کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

عام انتخابات کے حوالے سے سوال کے جواب میں نگراں وزیراعظم نے کہا کہ انتخابی گہما گہمی شروع ہو چکی ہے، توقع ہے کہ جلد انتخابی شیڈول کا اعلان ہو جائے گا، نادرا کی جانب سے بائیو میٹرک ایک قانونی حق ہے، نواز شریف کے پاکستانی ہونے کے ناطے ان کی بائیو میٹرک ایک تقاضا تھا، ایئرپورٹ پر بائیو میٹرک کی سہولت معمول کی کارروائی ہے جو ہر پاکستانی کو حاصل ہے، اس اقدام کو لیول پلیئنگ فیلڈ سے جوڑنا مناسب نہیں، ہمارا کام تمام جماعتوں کو مساوی مواقع فراہم کرنا ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ کوئی سیاسی جماعت یا سیاسی رہنما سیاسی عمل سے باہر ہو تاہم اس حوالے سے عدالتی فیصلوں پر عمل کرنا ہے، ہر سیاسی جماعت کو اپنے بیانیہ پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے، وہ اپنی معاشی و سکیورٹی پالیسیوں سمیت ادارہ جاتی چیلنجوں سے نمٹنے کے حوالے سے اپنا مؤقف دیں، اس مباحثہ پر انتخابات ہوں تو وہ مفید ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ نئی آنے والی حکومت شفافیت اور قانون کی حکمرانی کی بہتری کیلئے اصلاحات لائے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں پٹرول کی قیمت اور ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ہوئی ہے، اس کے ثمرات عوام تک پہنچانے کیلئے صوبوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں نگراں وزیراعظم نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر فلسطینی صدر محمود عباس سے بات ہوئی ہے، انسانی امداد مصر کے ذریعے غزہ بھیجے جانے کے حوالے سے یقینی بنائیں گے، او آئی سی سمیت تمام فورم استعمال کریں گے، ہماری پہلی کوشش ہے کہ جنگ بندی ہو، امدادی سامان کی فراہمی کے حوالے سے بھی کام ہو رہا ہے، اس تنازعہ کے حل کیلئے پاکستان مختلف ممالک سے مل کر کاوشیں کر رہا ہے۔

ارشد شریف کے معاملہ پر کینیا کے صدر سے ملاقات کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دفتر خارجہ کی جانب سے کینیا کے صدر سے ملاقات میں یہ نکتہ شامل کیا گیا تھا، کینیا کے صدر نے اس پر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا، انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ہم ان شرپسندوں کو تلاش کریں گے جو اس میں ملوث ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میڈیا کو اشتہارات عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے دیئے جاتے ہیں اس میں شفافیت ہونی چاہئے، آزادی صحافت اور جمہوریت کی جنگ حکومتی سرمائے سے نہیں لڑی جا سکتی، اگر کسی پارلیمنٹیرین کی دوہری شہریت ہے تو یہ معاملہ سپریم کورٹ لے جائیں، بغیر تحقیق الزام تراشی یہاں کلچر بن چکا ہے۔