دھوکے سے ہتھیائی گئی رقم صارف کو منافع کے ساتھ واپس کی جائے، صدر مملکت

اسلام آباد۔17اگست (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وفاقی محتسب کے فیصلے کے خلاف صارف کی اپیل منظور کرتے ہوئے نیشنل بینک آف پاکستان کو بینک فراڈ کیس میں بدانتظامی کا ذمہ دار ٹھہرا دیا، بینک اپنے کھاتہ داروں کی محنت سے کمائی گئی رقم کا نگہبان اور امانت دار ہے، بینکنگ قوانین کے مطابق کارروائیوں کو مکمل کرنا شہریوں کی نہیں بلکہ مینیجر کی ذمہ داری ہے۔

ایوان صدر کے پریس ونگ سے بدھ کو جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے وفاقی محتسب کے فیصلے کے خلاف ایبٹ آباد کے رہائشی عاشق حسین کی اپیل منظور کرتے ہوئے کہا کہ دھوکے سے ہتھیائی گئی رقم صارف کو منافع کے ساتھ واپس کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل بینک کی سینئر انتظامیہ بینک برانچ میں ایماندار بینک حکام تعینات کرنے میں ناکام رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایک سادہ اور ان پڑھ صارف سے برانچ منیجر نے 10 لاکھ روپے کی رقم فراڈ سے ہتھیا لی تھی۔ محتسب نے اپنے فیصلے میں شہری کو رقم جمع کرواتے ہوئے کوتاہی کا ذمہ دار قرار دیا تھا، محتسب نے رقم کیشیئر کی بجائے منیجر کو جمع کرانے، رسیدوں پر دستخط کے حوالے سے ضابطہ کار کی خلاف ورزی پر شہری کو ریلیف فراہم نہیں کیا۔

صدر مملکت نے کہا کہ بینکنگ قوانین کے مطابق کارروائیوں کو مکمل کرنا منیجر کی ذمہ داری ہے نہ کہ شہریوں کی، بینک اپنے کھاتہ داروں کی محنت سے کمائی گئی رقم کا نگہبان اور امانت دار ہے ، بینک میں دیانتدار عہدیداروں کے تقرر میں ناکامی نے صارفین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ فرض کی عدم ادائیگی سے بلاشبہ بینک کی ساکھ کو نقصان پہنچا، حکام کی جانب سے بینک برانچ کے اندر دھوکہ دہی کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بینک اس قسم کے معاملے میں ذمہ داری سے کنارہ کشی اختیار نہیں کرسکتا۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے ہدایت کی کہ نیشنل بینک احکامات پر عمل درآمد کرے اور 60 دنوں کے اندر وفاقی محتسب کو رپورٹ جمع کرائے۔