ریڈ کریسنٹ ہسپتال میں 30 بستروں کا برن یونٹ بنانے کی فزیبلیٹی رپورٹ تقریبا ًمکمل ہے، اکٹر جمال ناصر

نگران صوبائی وزیر ڈاکٹر جمال ناصر کی زیر صدارت راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے سینڈیکیٹ کمیٹی کا 15 واں اجلاس
نگران صوبائی وزیر ڈاکٹر جمال ناصر کی زیر صدارت راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے سینڈیکیٹ کمیٹی کا 15 واں اجلاس

راولپنڈی۔ 27 نومبر (اے پی پی):صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر جمال ناصر نے کمشنر راولپنڈی ڈویژن لیاقت علی چٹھہ کے ہمراہ ریڈ کریسنٹ ہسپتال کے تیسرے بورڈ آف گورنرز اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ راولپنڈی میں برن یونٹ کی عدم موجودگی کی وجہ سے بہت مسئلے درپیش تھے جن کے حل کے لئے ریڈ کریسنٹ ہسپتال میں مخصوص 30 بستروں کا برن یونٹ بنانے کی فزیبلیٹی رپورٹ مکمل کی جارہی ہے۔

برن یونٹ کے لئے سینٹرلائزئڈ آکسیجن سپلائی کی ضرورت ہوگی جس کے لئے آکسیجن پلانٹ لگے گا۔ڈاکٹر جمال ناصر نے بتایا کہ انہوں نے ایک مقامی این جی او کے ذریعے راولپنڈی کے 12 بی ایچ یوز کو اپ گریڈ کروانے کا کام شروع کروایا ہے۔انہوں نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں پرائیویٹ و سرکاری سکول و کالج کی نمائندگی یقینی بنائی جائے تاکہ ان میں آگاہی کے ذریعے طلباء کو ہسپتال کے لئے ڈونیشن جمع کرنے کے لئے فعال کیا جائے۔اسکے علاوہ برن یونٹ کے ساتھ ساتھ ہیپیٹائٹس بی اور سی ٹیسٹ بھی سہولت ریڈکریسنٹ میں مفت فراہم کی جائے گی۔

کمشنر آفس راولپنڈی میں منعقدہ اجلاس میں ایڈیشنل کمشنر کوارڈنیشن سید نذارت علی، ڈائریکٹر ہیلتھ ڈاکٹر انصر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس اینڈ پلاننگ رمیشاء جاوید، اسسٹنٹ کمشنر ہیڈکواٹر وحید صادق،فرحان بخاری، سیکرٹری ریڈ کریسنٹ اور دیگر متعلقہ افسران نے بھی شرکت کی۔اس مو قع پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ریڈکریسنٹ ہسپتال 04 کنال پر محیط ہے اور اس وقت اسے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ کیئر ہسپتال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

مئی 2024 سے اب تک یہاں لاتعداد مریض اور 63 ڈیلیوریز کی جا چکی ہیں۔ہسپتال کی فیملی پلاننگ یونٹ فعال ہے۔اسی ماہ نومبر میں گرین سٹار 06 ملین کی ریومپنگ کرے گا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے لیاقت علی چٹھہ نے کہا کہ مختلف بیماریوں میں مبتلا، زلزلہ، سیلاب اور دیگر آفات کے متاثرین کی مدد کر کے ہم دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستانریڈ کریسنٹ اپنے تعاون سے نہ صرف مصیبت میں مبتلا بدقسمت لوگوں کو ریلیف فراہم کر رہا ہے بلکہ ہزاروں رضاکاروں کو ابتدائی طبی امداد کی تربیت سے بھی آراستہ کر رہا ہے تاکہ وہ کسی بھی مشکل صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہوں۔