زراعت کی بنیاد پر ترقی سے خوراک کی پیداوار بڑھانے اور قیمتیں کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، صدر مملکت

President Dr. Arif Alvi
President Dr. Arif Alvi

اسلام آباد۔16اکتوبر (اے پی پی): صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے غذائیت سے بھرپور خوراک کی پیداوار بڑھانے کیلئے متعدد محاذوں پر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پانی اور خوراک کے نظام کو بہتر بنانا، پانی کا بہتر انتظام، دیہی ترقی کے منصوبوں کو فنڈ مہیا کرنا اور اعلیٰ کارکردگی کے آبپاشی نظام کو اپنانا ہوگا، زراعت کی بنیاد پر ترقی نہ صرف کسان کی آمدن کو نمایاں طور پر بڑھا سکتی ہے بلکہ اس سے خوراک کی پیداوار بڑھانے، قیمتیں کم کرنے اور برآمدات کیلئے اضافی خوراک پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

پیر کو ایوان صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر مملکت نے عالمی یومِ خوراک کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ عالمی یومِ خوراک اکتوبر میں ہر سال عالمی سطح پر منایا جاتا ہے، یہ دن پائیدار زراعت کی اہمیت کی جانب ہماری توجہ دلاتا ہے، اس دن کا مقصد مختلف پالیسیوں اور اقدامات کیلئے حکومتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی حمایت حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں غربت میں کمی اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کی ہماری کوششیں اسی صورت میں ثمر آور ہوسکتی ہیں جب زراعت کے شعبے کو مناسب اہمیت دی جائے۔

صدر مملکت نےکہا کہ اس سال عالمی ادارہ ِخوراک نے غذائی تحفظ یقینی بنانے کیلئے”پانی زندگی ہے، پانی خوراک ہے: کوئی پیچھے نہ رہ جائے“ کا جامع عنوان متعارف کرایا ہے، یہ عنوان پاکستان کی موجودہ صورتحال سے انتہائی مطابقت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر، آبادی میں تیزی سے اضافے سے پانی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہورہا ہے، ایک اندازے کے مطابق ایک سو سال کے اندر ہمیں تقریباً چھ گنا زائد پانی کی ضرورت ہوگی، ترقی پذیر ممالک میں پانی کی بڑھتی طلب اور ضیاع کے باعث پانی کی دستیابی بتدریج کم ہورہی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ ہمارے پاس آبی وسائل کا ایک انوکھا امتزاج موجود ہے

، دریائے سندھ کا نظام دنیا کے بڑے آبپاشی کے نظاموں میں سے ایک ہے جو تقریباً 1.5 لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط ہے اور پاکستان کی کل کاشت شدہ زمین کا 83 فیصد ہے، ہمالیہ اور قراقرم کے پہاڑی سلسلوں پر کم ہوتی برف باری اور آبادی میں تیزی سے اضافے سے ہمارے آبی وسائل پر دبائوبڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں، دیہی علاقوں میں گھریلو پانی کے استعمال میں زمینی پانی کا حصہ تقریباً 90 فیصد جبکہ زراعت کے شعبے میں تقریباً 50 فیصد ہے، نہری پانی کی غیریقینی فراہمی کی وجہ سے پاکستان بھر کے کسانوں نے زمینی پمپ استعمال کرنا شروع کیے، سندھ طاس آبپاشی کے نظام میں تقریباً 5 لاکھ ٹیوب ویل بھی شامل ہیں اور ان سے تقریباً 50 ارب مکعب میٹر پانی پمپ کیا جاتا ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ گھریلو سیکٹر میں بھی زیر زمین پانی کا غیرضروری استعمال بڑھ رہا ہے ، جس کی وجہ سے یہ قیمتی قدرتی ذخیرہ تیزی سے ختم ہورہا ہے، موسمیاتی تبدیلیاں بھی بڑے نقصانات کا باعث بن رہی ہیں، 2022 ئ کے سیلاب کے دوران تقریباً 3 کروڑ افراد متاثر ہوئے اور ملک کو 30 ارب ڈالر کا مالی نقصان ہوا۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ قدرتی وسائل کے تحفظ، پیداواری صلاحیت بڑھانے اور غذائی قلت کے خاتمے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کا شامل ہونا اور واضح اہداف مقرر کرنا ضروری ہے، اہداف کی بنیاد ٹھوس ثبوتوں اور بنیادی وجوہات کی مشترکہ سمجھ بوجھ پر ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت کی بنیاد پر ترقی نہ صرف کسان کی آمدن کو نمایاں طور پر بڑھا سکتی ہے بلکہ اس سے خوراک کی پیداوار بڑھانے ، قیمتیں کم کرنے اور برآمدات کیلئے اضافی خوراک پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ معیشت میں بہتری اور عوام کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لانے کیلئے ہماری توجہ زراعت پر مرکوز رہے گی۔