ساتویں زراعت شماری کی منصوبہ بندی میں سٹیک ہولڈرز کو شامل کرنے کے لئے اجلاس کا انعقاد

Pakistan Bureau of Statistics
Pakistan Bureau of Statistics

اسلام آباد۔28فروری (اے پی پی):پاکستان ادارہ شماریات (پی بی ایس) نے ملک بھرمیں ساتویں زراعت شماری منعقد کرنے کا منصوبہ بنا یا ہے جس میں بہتریں بین الاقوامی طریقوں اور (یو این ایف اے او) کے رہنما اصولوں کےمطابق زرعی وسائل ، لائیو سٹاک اور مشینری کا مربوط ڈیجیٹل شمار کیا جائے گا۔ ساتویں زراعت شماری ملک کی241 ملین سے زا ئد آبا دی کی خوراک اور فائبرکی ضروریات کو پورا کرنے کے لئےپا لیسی سازی کے لئے اعدادو شمار فراہم کرے گی۔ وسیع تر شمولیت اور قبولیت کے لئے پی بی ایس نے پارٹنر تنظیموں اور صوبائی اسٹیک ہولڈرز جیسا کہ بورڈ آف ریونیو، زراعت (توسیع)، لائیو سٹاک، صوبائی ادارہ شماریات،کراپ رپورٹنگ سروسز وغیرہ کے ساتھ روابط کا آغازکیا۔

اسٹیک ہولڈرز کی شرکت سے متنوع نقطہ نظر، ضروریات کی نشاندہی اور اس کے مطابق قابل اعتماد اعداد و شمار کی فراہمی اور زراعت شماری کے فیلڈ آپریشن کے دوران کسی بھی ممکنہ تکلیف اور مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی، اس عمل کا آغاز 20 دسمبر 2023 کو پی بی ایس ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں تما م صوبائی فوکل پرسنز کے اجلاس سےہوا۔ صوبائی اجلاسوں کایہ سلسلہ شروع ہونے کے بعد پہلا صوبائی اجلاس یکم فروری 2024کوصوبائی مردم شماری رابطہ مرکز (پی تھری سی)، پی بی ایس، کراچی میں صوبہ سندھ میں اور دوسرا صوبائی اجلاس 15 فروری 2024ء کو پی تھری سی، پی بی ایس، صوبائی دفتر، لاہور،پنجاب میں منعقد ہوا جبکہ تیسرا صوبائی اجلاس 20 فروری 2024 کو پشاور میں اور چوتھا اجلاس 28 فروری2024 کو ممبر (سپورٹ سروسز/آئی ٹی) محمد سرور گوند ل کی زیرِ صدارت کوئٹہ میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں صوبائی دفتر کوئٹہ کے سینئر افسران اور بلوچستان کے صوبائی محکموں کے سینئر افسران نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں بتا یا گیا کہ پاکستان کی معیشت کا انحصار زراعت پر ہے اور جی ڈی پی میں زراعت کا حصہ 23 فیصد ہے اور یہ 37 فیصد لیبر فورس کو روزگار فراہم کر رہی ہے زراعت میں لائیو سٹاک کا حصہ 64فیصد ہے جبکہ آزادانہ طور پر لائیو سٹاک جی ڈی پی میں 14 فیصد حصہ ڈال رہا ہے۔ شواہد پر مبنی پالیسی کی منصوبہ بندی کے لیے زرعی شعبے سے متعلق تازہ ترین اعداد و شمار درکار ہیں،لہٰذا زراعت شماری 2024ء ثبوت پر مبنی پالیسی سازی کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہو گی ۔ انہوں نے ساتویں زراعت شماری کے فیلڈ آپریشن کی کامیاب تکمیل کیلئے صوبائی سٹیک ہولڈرز کی شرکت اور تعاون بہت ضروری ہے۔

ممبر (ایس ایس/آرایم) محمد سرور گوندل نے طریقہ کار، فیلڈ آپریشن پلان، میڈیا حکمت عملی اور بجٹ کی ضروریات کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔انہوں نے ساتویں زراعت شماری کے فیلڈ آپریشن کی کامیاب تکمیل کیلئے صوبائی سٹیک ہولڈرز کی شرکت اور تعاون پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ یواین ایف اے او کے مجوزہ طریقوں کے مطابق اس زراعت شماری میں زراعت کے تینوں پہلوجس میں فصلیں ،لا ئیو سٹاک اورزرعی مشینری شامل ہیں،کا احاطہ کیا جائے گا انہوں نے ستمبر تا اکتوبر 2024 کے دوران فیلڈ آپریشن کا شیڈول بھی پیش کیا۔ یہ پاکستان میں دستیاب وسائل کےز یادہ سے زیادہ استعمال کے زریعے اعداد وشمار جمع کرنے کے لئے زراعت کے شعبے میں پہلی مربوط ڈیجیٹل مشق ہوگی ۔ڈیجیٹل پہلوئوں جیسے ٹیبلٹ پر مبنی ڈیٹا جمع کرنا، موضع/بلاکس کے ڈیجیٹل نقشوں کا استعمال ،ایس ایم ایس گیٹ وے،اور کال سینٹر کی تفصیل وے وضاحت کی گئی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ہموار اور موثر فیلڈ آپریشنز کے لئے شکایات کے حل کے انتظام اور معلومات کی فراہمی کے لئے مختلف ورکنگ گروپس تشکیل دیئے گئے ہیں۔مزید برآں ہر ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں ڈیجیٹل ٹینالوجی سے لیس 157 سینسزسپورٹ سینٹر قائم کئے گئے ہیں۔ پی بی ایس کی جانب سے تکنیکی رہنمائی ،سہولت اور آپریشنل مینجمنٹ کے لئے ہر سی ایس سی میں ڈویژنل اور ضلعی سینسز کو آرڈ ینیٹرز پہلے ہی تعینات کئے جا چکے ہیں۔ اسی طرح ملٹی میڈیا،انٹرنیٹ، سا َئونڈ سسٹم، لیپ ٹاپ، پرنٹرز کی سہولیات سے آراستہ 157 تربیتی مقامات کو شارٹ لسٹ کیا گیاہے۔ تصورات کے معیار کو یقینی بنانے کے لئے ماہر ٹر ینرز کے ذریعہ انٹر ایکٹو ویڈیوز/ آڈیوز کے ساتھ آئی سی ٹی مواد کا استعمال کرتے ہوئے تربیت فراہم کی جائے گی۔

پی بی ایس نے ملک بھر میں بڑی ہولڈنگز (این سی ایچ) کے شمارکے لئے پروسیس ری انجینئرنگ کا بھی منصوبہ بنایا ہے۔صوبائی سٹیک ہولڈرز نے پی بی ایس کی کاوشوں کو سراہا اور قومی اہمیت کے اس کام کے کامیاب انعقاد کیلئے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔بلوچستان کی صوبائی حکومت اور تمام صوبائی سٹیک ہولڈرز نے 2010 کے بعد طویل انتظارکے بعد کی جانے والی زراعت شماری کے انعقاد کے لیے پی بی ایس کی کوششوں کو سراہا، انہوں نے اس قومی مشق کے کامیاب انعقاد کے لیے اپنے مکمل تعاون کو یقینی بنایا جس سے زمینوں سمیت زرعی شعبے کی ساخت فصلیں، مویشی اور زرعی مشینری کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں گی۔ ۔ وہ بہترین بین الاقوامی طریقوں کے مطابق زرعی شعبے کے لیے تمام قسم کی معلومات ایک ساتھ فراہم کرنے کے لیے پی بی ایس کی کوششوں کو تسلیم کرتے ہیں۔