سورج مکھی کی بہتر پیداوار حاصل کرنے کیلئے زمینی مٹی کا تجزیہ کروا کر سفارش کردہ کھاد ڈالنے کی ہدایت

sunflower
Sunflower

فیصل آباد ۔ 07 مارچ (اے پی پی):پنجاب کے بعض اضلاع کی اکثر زمینوں میں کبیرہ و صغیرہ عناصر سمیت زنک و بوران کی تیزی سے کمی ہونے لگی ہے جس کے خاتمہ اور زرعی اجناس کی بہترپیداوار کے حصول کیلئے کاشتکاروں کو ماہرین زراعت کے مشوروں پر عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع فیصل آباد چوہدری خالد محمود نے کہاکہ یہ بات اپنی جگہ پر مسلمہ ہے کہ زمین کی زرخیزی بڑھانے کیلئے سبز کھادوں اور گوبر کی کھاد کا استعمال کرنا چاہیے نیز سبز کھادیں تو فصلوں کے ہیر پھیر سے زینت کھیت بن سکتی ہیں اسلئے اگرسبز کھاد ممکن ہو تو بہت ہی بہترہے تاہم اگر سبز کھاد میسر نہ ہو تو 10سے 15ٹن گوبر کی گلی سڑی کھادو روڑی فصل کاشت کرنے سے ایک ماہ پہلے کھیت میں ڈال کر ہل چلانا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ گوبر کی تازہ کھاد زمین میں ڈالنے سے ایک طرف تو غذائی عناصر کی فراہمی فصل کو مناسب نہیں ہوتی دوسری طرف یہ فصل پر دیمک کا سبب بھی بنتی ہے۔انہوں نے کہاکہ سورج مکھی کی فصل سے بہتر پیداوار حاصل کرنے کیلئے پودوں کی غذائی ضروریات کا درست پتہ ہونا بہت ضروری ہے اسلئے اس مقصد کی غرض سے ہمیں اپنی زمینوں کی مٹی کا تجزیہ کروانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سورج مکھی کے100 کلو گرام بیجوں میں 6 کلو گرام نائٹروجن، 2 کلوگرام فاسفورس اور 18 کلوگرام پوٹاش پائی جاتی ہے اس طرح یہ غذائی اجزا پودے نے زمین ہی سے حاصل کئے ہوتے ہیں جوکہ ہمیں اس کے بیجوں میں ملتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ جو فاسفورس پودے نے زمین سے جذب کی ہوتی ہے اس کا تین چوتھائی بیجوں میں پایا جاتا ہے اسلئے نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاش اگر مقرر کردہ تناسب میں ڈالی جائے تو بیج کی پیداوار اور تیل دونوں زیادہ حاصل ہوتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ نائٹروجن کی کمی سے سورج مکھی کے پھول کی جسامت چھوٹی رہتی ہے اور پھول کے مرکز میں بننے والے بیج بھی گری کے بغیر ہوتے ہیں جس سے پیداوار پر منفی اثر ہوتا ہے۔انہوں نے بتایاکہ فاسفورس کی کمی سے بیجوں کے سائز اور ان میں بننے والے تیل دونوں میں کمی ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کاشتکاروں کو ہدایت کی کہ وہ محکمہ زراعت کے مشوروں پر عمل کریں تاکہ جدید پیداواری ٹیکنالوجی کے باعث انہیں کم خرچ میں اچھی پیداوار حاصل ہوسکے۔