اسلام آباد۔22فروری (اے پی پی):صحت عامہ سے منسلک سماجی کارکنوں نے تمباکو پر ٹیکس بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سگریٹ کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کو صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے کو تقویت دینے، صحت عامہ کے اقدامات کی مالی اعانت اور تمباکو کے استعمال کو روکنے اور تمباکو نوشی کے خاتمے کی کوششوں کی حمایت کرنے کے لئے جامع تمباکو کنٹرول پروگراموں کو نافذ کرنے کے لئے مختص کیا جائے،
پاکستان میں سگریٹ نوشی کے صحت کے ساتھ ساتھ معاشی نقصانات ہورہے ہیں جس کی وجہ سے قومی خزانے کا سالانہ 615.07 بلین روپے کا نقصان ہو رہا ہے جو کہ ملک کی جی ڈی پی کے 1.6 فیصد کے برابر ہے۔ سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف چائلڈ (سپارک) کی طرف سے جاری پریس ریلیز کےمطابق سماجی کارکنوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے اقدامات صحت کی دیکھ بھال سمیت ضروری عوامی خدمات کی مالی اعانت اور معیشت کو تقویت دینے کے لئے آمدنی کے ذرائع پیدا کرنے کے لئے ناگزیر ہیں۔
سی ٹی ایف کے کے کنٹری سربراہ ملک عمران احمد نے سگریٹ نوشی کو روکنے کے لئے سگریٹ پر ٹیکسوں میں اضافہ پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستان میں سگریٹ نوشی کے معاشی نقصان پر بھی روشنی ڈالی جو کہ 615.07 بلین روپے بنتا ہے جو جی ڈی پی کے 1.6 فیصد کے برابر ہے، خاص طور پر تمباکو نوشی کے معاشی اخراجات تمباکو کی صنعت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے کہیں زیادہ ہیں۔
انہوں نے ایک بین الاقوامی سروے کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تمباکو نوشی سے متعلق بیماریوں اور اموات کے ساتھ ساتھ تین بنیادی غیر متعدی بیماریوں سے وابستہ مجموعی سالانہ اقتصادی اخراجات پاکستان کے جی ڈی پی کا بالترتیب 1.6 فیصد اور 1.15 فیصد ہیں، یہ رجحان پاکستان کی جی ڈی پی پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنے کے لئے سالانہ سگریٹ ٹیکس میں اضافہ کی فوری ضرورت کی نشاندہی کرتا ہے۔
سپارک کے پروگرام منیجر ڈاکٹر خلیل احمد نے سگریٹ کے بڑھتے ہوئے ٹیکسوں کے کثیر جہتی اثرات کے بارے میں تفصیل سے بتایا اوربچوں اور پسماندہ کمیونٹیز پر تمباکو سے متعلقہ صحت کے مسائل کے اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے ان چیلنجوں کو کم کرنے کے لئے فعال اقدامات کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سگریٹ پر ٹیکسوں کو بڑھا کر حکومت نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کی شرح کو مؤثر طریقے سے روک سکتی ہے، اس طرح ان کی صحت اور تندرستی کا تحفظ کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر خلیل احمد نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کی وجہ سے عائد مالی بوجھ غیر متناسب طور پر پسماندہ کمیونٹیز کو متاثر کرتا ہے، صحت کی دیکھ بھال اور سماجی اقتصادی مواقع تک رسائی میں موجودہ تفاوت کو بڑھاتا ہے۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سگریٹ پر اضافی ٹیکس لگانا محض ایک مالیاتی پالیسی نہیں ہے بلکہ ایک اخلاقی ضرورت ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سگریٹ کے بڑھتے ہوئے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کو صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے کو تقویت دینے، صحت عامہ کے اقدامات کی مالی اعانت اور تمباکو کے استعمال کو روکنے اور تمباکو نوشی کے خاتمے کی کوششوں کی حمایت کرنے کے لئے جامع تمباکو کنٹرول پروگراموں کو نافذ کرنے کے لئے مختص کیا جا سکتا ہے۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=442026