سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کا اجلاس، وزارت اطلاعات و ملحقہ محکموں میں اصلاحات پر بریفنگ، ریڈیو پاکستان کمرشل ادارہ نہیں، وزارت توانائی سے ریڈیو پاکستان کے بجلی بلوں پر کمرشل ٹیرف چارج نہ کرنیکی درخواست کی ہے، مرتضیٰ سولنگی

Murtaza Solangi
Murtaza Solangi

اسلام آباد۔19فروری (اے پی پی):نگران وفاقی وزیر اطلاعات، نشریات و پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر عام یوٹیوبرز کی ویور شپ زیادہ ہے، پی ٹی وی کو سوشل میڈیا پر اپنی ویور شپ بڑھانے کی ضرورت ہے، ریڈیو پاکستان کا مینڈیٹ لوگوں کو معلومات کی فراہمی ہے، ریڈیو پاکستان کمرشل ادارہ نہیں، حکومت کے تحت کام کرنے والا ادارہ ہے، وزارت توانائی سے درخواست کی ہے کہ ریڈیو پاکستان کو بجلی کے بلوں پر کمرشل ٹیرف چارج نہ کیا جائے۔ یہ بات انہوں نے پیر کو یہاں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ کمیٹی کا اجلاس کمیٹی کی کنوینئر سینیٹر فوزیہ ارشد کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں اراکین کمیٹی کے علاوہ سیکریٹری اطلاعات و نشریات، منیجنگ ڈائریکٹر پی ٹی وی، ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان اور وزارت اطلاعات و نشریات کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

کمیٹی کو وزارت اطلاعات و نشریات اور اس کے انتظامی کنٹرول میں کام کرنے والے ملحقہ محکموں میں تجویز کردہ اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وفاقی سیکریٹری اطلاعات شاہیرہ شاہد نے پی ٹی وی کے مالیاتی پلان کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پی ٹی وی میں تقریباً 4100 ملازمین کام کر رہے ہیں، پی ٹی وی پر بڑی لائبلٹی پنشن کی تھی جسے کنٹری بیوٹری فنڈ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ بجلی کے بلوں کی مد میں پی ٹی وی کو حاصل ہونے والے ریونیو سے پی ٹی وی کے پروگرامز اور دیگر اخراجات پورے کئے جاتے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کمیٹی کو بتایا کہ سوشل میڈیا پر عام یو ٹیوبرز کی ویور شپ بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی اپنے معیاری پروگرامز کو سوشل میڈیا پر بھی اپ لوڈ کر رہا ہے، پی ٹی وی کو سوشل میڈیا پر اپنی ویور شپ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی کی پروڈکٹس کی پبلسٹی کے لئے مارکیٹنگ اور سوشل میڈیا مارکیٹنگ کو بہتر کرنا ہوگا۔ وفاقی سیکریٹری اطلاعات نے کمیٹی کو بتایا کہ ایڈیشنل سیکریٹری وزارت اطلاعات پی ٹی وی کے بورڈ آف گورنرز کا رکن ہوتا ہے، کابینہ کی منظوری سے کسی بھی اہل شخص کو ادارے کا سربراہ لگایا جا سکتا ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ نگران حکومت کے پاس جب یہ معاملہ آیا تو ہم نے بہتر یہی سمجھا کہ یہ کام منتخب حکومت پر چھوڑا جائے، سلیکشن کے لئے اشتہار دینے کا طویل پراسیس ہے جو نگران دور میں ممکن نہیں تھا، مناسب یہی سمجھا کہ نئی پارلیمان اور حکومت جب اقتدار میں آئے گی تو وہ اپنا استحقاق استعمال کرے گی۔ وفاقی سیکریٹری اطلاعات نے کمیٹی کو بتایا کہ پی ٹی وی نیشنل براڈ کاسٹر ہے، پی ٹی وی واحد چینل ہے جو پورے پاکستان میں دیکھا جاتا ہے، پاکستان کے دور دراز علاقوں میں بھی پی ٹی وی کی نشریات دیکھی جاتی ہیں۔ پی ٹی وی سپورٹس کے رائٹس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر پی سی بی سے رجوع کیا گیا ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی وی سپورٹس کے رائٹس سے متعلق موجودہ اور پچھلے چیئرمین پی سی بی سے ملاقات ہوئی تھی۔کمیٹی کو ریڈیو پاکستان کے نئے اقدامات اور خصوصی پروگراموں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ریڈیو پاکستان کا مینڈیٹ لوگوں کو اطلاعات کی فراہمی ہے۔ ریڈیو پاکستان کو چارج کئے جانے والے بجلی کے بلوں کے حوالے سے وزیر توانائی اور سیکریٹری توانائی سے میٹنگ کی ہے، ہم نے وزارت توانائی سے درخواست کی کہ ریڈیو پاکستان کو بجلی کے بلوں کی مد میں کمرشل نرخ چارج نہ کئے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ریڈیو پاکستان کمرشل ادارہ نہیں ہے، یہ حکومت کے تحت کام کرنے والا ادارہ ہے جس کا کام لوگوں کو معلومات کی فراہمی ہے لہذا ہمیں کمرشل نرخ پر بل چارج نہیں ہونے چاہئیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کمیٹی کے تمام اراکین کا شکریہ ادا کیا۔ واضح رہے کہ نگران وفاقی وزیر اطلاعات نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے تمام اجلاسوں میں شرکت کی ہے۔