سی پیک کے حوالے سے قومی اتفاق رائے موجود ہے، ہم اپنے آپ کو دنیا کی رفتار سے ہم آہنگ کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک پہنچنا چاہئے، نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کی پی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو

ہر سیاسی جماعت اپنے آئین کے تحت انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کی پابند ہے، ملک کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کے اندر بھی جمہوریت ضروری ہے، مرتضیٰ سولنگی
ہر سیاسی جماعت اپنے آئین کے تحت انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کی پابند ہے، ملک کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کے اندر بھی جمہوریت ضروری ہے، مرتضیٰ سولنگی

اسلام آباد۔16اکتوبر (اے پی پی):نگران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ سی پیک کے حوالے سے قومی اتفاق رائے موجود ہے، سی پیک بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا اہم منصوبہ ہے، ہم اسے آگے بڑھانا چاہتے ہیں، ہم اپنے آپ کو دنیا کی رفتار سے ہم آہنگ کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے، وزیراعظم کے دورہ چین کے مثبت اور دوررس اثرات مرتب ہوں گے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عام عوام کو پہنچنا چاہئے، صوبائی اور ضلعی انتظامیہ اس امر کو یقینی بنائیں گی کہ جس تناسب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے اسی تناسب سے دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی کم ہوں۔

پیر کو پی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نگران وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ نگران حکومت کی مختصر اور محدود مدت ہوتی ہے، ہماری کوشش ہے کہ اپنے محدود وقت کے اندر زیادہ سے زیادہ کام کر کے ملک کو بہتر حالت میں اگلی منتخب حکومت کے حوالے کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا فوکس معاشی استحکام پر ہے، پچھلی حکومت اور پارلیمان نے معاشی استحکام کے لئے جو فیصلے کئے، ہم ان پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے حوالے سے قومی اتفاق رائے موجود ہے، سی پیک بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا اہم منصوبہ ہے، ہم اس کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نگران وزیراعظم کے دورہ چین کے دوران روس اور چین کے صدور سمیت اہم رہنمائوں سے ملاقاتیں ہوں گی جبکہ انفراسٹرکچر، اسپیشل اکنامک زونز، ایم ایل ون سمیت دیگر شعبوں سے متعلق اہم فیصلے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے دورہ چین کے مثبت اور دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم اس ملک کو معاشی اعتبار سے آگے لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، دنیا کے اندر بڑے تنازعات کے حوالے سے تقسیم ہے، نگران وزیراعظم کی دورہ چین کے دوران اہم ملاقاتوں میں ان بڑے مسائل پر بھی گفتگو ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے دورہ چین کے دوران ان کے ہمراہ اعلیٰ سطحی وفد بھی موجود ہے جس میں وزیر خزانہ، وزیر تجارت اور وزیر منصوبہ بندی شامل ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ ہم تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں، معاشی لحاظ سے ہمارے مسائل موجود ہیں لیکن یہ مناسب نہیں کہ ہم ایک جگہ وزن ڈال کر باقی دنیا سے الگ ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے آپ کو دنیا کی رفتار سے ہم آہنگ کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے۔ نگران وفاقی وزیر نے کہا کہ خارجہ سطح پر ملکی مفادکےلئے ہم بہترین فیصلے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے تحت ون ونڈو آپریشن شروع کیا گیا تاکہ ملک میں سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے چینی، آٹا، کھاد، پٹرول، ڈیزل کی سمگلنگ روکی اور بجلی چوری کی روک تھام کے لئے اقدامات اٹھائے، صرف بجلی چوری کی مد میں 16 سے 17 ارب روپے کی ریکوری ہوئی۔ اسی طرح انتظامی اقدامات سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تیل پیدا کرنے والا ملک نہیں ہے، ہماری اپنی پیداوار بہت محدود ہے، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) تیل کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ میں موجود قیمتوں اور ڈالر کی قدر کے لحاظ سے کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روپے کی قدر میں استحکام کی وجہ سے بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فائدہ ہوا جو ہم نے عوام کو منتقل کیا۔

نگران وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پچھلی مرتبہ جب پٹرول مہنگا ہوا تھا تو ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں اضافہ کر دیا تھا اور اس کا اثر دیگر چیزوں پر بھی پڑا اب جبکہ پٹرول کی قیمتیں کم ہوئی ہیں تو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کو یقینی بنانے کے لئے ہماری تمام صوبوں کے وزراءاعلیٰ اور ضلعی حکومتوں سے بات ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی اور ضلعی انتظامیہ اس امر کو یقینی بنائیں گی کہ جس تناسب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں اسی تناسب سے اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بھی کم ہوں اور اس کا فائدہ غریب عوام کو پہنچے۔

انتخابات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں نگران وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کی انتخابی تاریخ سب کے سامنے ہے، پہلے بالغ رائے دہی کے انتخابات 1970ءمیں دسمبر کے مہینے میں ہوئے، دسمبر میں جنوری کے آخری ہفتے کے مقابلے میں سردی زیادہ ہوتی ہے، اسی طرح 2008ءکے انتخابات جنوری میں ہونے تھے جو بے نظیر بھٹو کی شہادت کی وجہ سے فروری میں ہوئے، اس کے علاوہ شدید گرمی اور شدید سردی میں بھی انتخابات ہوتے رہے ہیں۔ اگر ریاست اور ریاستی ادارے مل کر کام کریں اور ماحول اچھا ہو تو موسم آڑے نہیں آ سکتا۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات کی تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، ہماری کمٹمنٹ ہے کہ ہم الیکشن کمیشن کی انتظامی اور مالی لحاظ سے ہر ممکن مدد کریں گے۔ نگران وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی وی ریاست کی نمائندگی کرتا ہے، ہمیں ریٹنگ کی دوڑ میں پڑنے کی بجائے اہم قومی معاملات پر گفتگو کرنی چاہئے۔