عادل راجا برطانوی عدالت میں بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کے ہتک عزت کیس کے اہم مرحلے پر ہار گیا

British court

اسلام آباد۔14اپریل (اے پی پی):متنازع یوٹیوبر میجر(ر) عادل راجہ کو اس وقت شدید دھچکا لگا ہے جب برطانوی ہائی کورٹ کے جج نے سابق سینئر فوجی افسر بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کی جانب سے ان کے خلاف دائر ہتک عزت کے مقدمے کو روکنے کی درخواست سمیت ان کی تمام درخواستیں مسترد کردیں، جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عادل راجہ نے سوشل میڈیا سائٹس یوٹیوب، فیس بک اور ٹوئٹر/ایکس پر9 تحریروں میں راشد نصیر کے خلاف سنگین توہین آمیز الفاظ تحریرکئے،

برطانوی عدالت کے ڈپٹی جج رچرڈ سپیئرمین کے سی نے عادل فاروق راجا کی ہتک عزت کے مقدمے کی سماعت روکنے کی درخواست مسترد کر دی اورجج نے حکم دیا کہ بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کو5 ہزار پائونڈ ادا کئے جائیں اور عادل راجا 5 ہزار پائونڈ کی اضافی عبوری ادائیگی بھی کرے ۔ مدعا علیہ عادل راجہ کو اس رقم کی ادائیگی کے لیے17 اپریل 2024 تک کی مہلت دی گئی ہے ۔ عادل راجہ اپنے وکیل اور پی ٹی آئی برطانیہ کے رہنما مہتاب انور عزیز کی مدد سے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے اور دلیل دی کہ بریگیڈیئر(ر) راشد نصیر کا کیس کئی بنیادوں پر روکا جانا چاہیے لیکن عدالت نے ان کے تمام دلائل مسترد کردیئے جن میں یہ الزام بھی شامل تھا کہ پاکستان ایک آمرانہ ریاست ہےاور پاکستان میں انتخابات میں دھاندلی کے الزامات بھی ہیں۔

ہائی کورٹ کے جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عادل راجا کی جانب سے شائع ہونے والی10 میں سے9 تحریریں عام قانون کے مطابق بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کی ہتک کرتی ہیں اور رائے کے اظہار کے بجائے حقیقت کا معاملہ ہیں۔ بریگیڈیئر(ر) راشد نصیر کا نام اس وقت منظر عام پر آیا تھا جب سابق وزیراعظم عمران خان نے من گھڑت اور بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے ان کا نام مسٹر ‘ایکس’ رکھا تھا۔ہائی کورٹ کے ڈپٹی جج رچرڈ سپیئرمین کے سی نے ان مطبوعات سے مراد الزامات کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ بریگیڈیئر(ر) راشد نصیر کو برطانیہ میں اس وقت بدنام کیا گیا جب عادل فاروق راجہ نے جون 2022 میں مطبوعات میں بغیر کسی ثبوت کے مختلف الزامات عائد کئے جن میں مبینہ طور پر عدالت کے امور میں مداخلت، مبینہ طور پر انتخابی دھاندلی کے لئے سیاست دانوں سے ملاقاتیں،اپنے عہدے کا غلط استعمال ،پاکستان میں انتخابات میں ہیرا پھیری کرنے، مبینہ طور پر پی ٹی آئی کے حامیوں کو ہراساں کرنے ،سیاسی مداخلت میں مبینہ طور پر ملوث ہونے سمیت عادل راجہ کو بدنام کرنے اور اس کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ حاصل کرنے سے روکنے کے لئے اس کے خلاف شکایت درج کرانا شامل تھے ۔

بریگیڈیئر (ر)راشد نصیر ان تمام الزامات کی تردید کردی جس پر جج نے حکم دیا تھا کہ عادل راجا کو اب یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کا ہر الزام درست ہے۔ ایک الگ درخواست میں عادل راجا نے عدالت سے استدعا کی کہ بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کو ان کے اخراجات کے لیے ڈھائی لاکھ پائونڈ کی رقم بطور سیکیورٹی ادا کی جائے کیونکہ راشد نصیر پاکستان میں مقیم ہیں اور برطانیہ میں مقدمہ دائر کر رہے ہیں لیکن جج نے اسے مسترد کر دیا اور بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کے وکلا سے اتفاق کیا کہ وہ حلف نامہ دیں گے کہ ان کے وکلا کے پاس صرف 4 ہزار پائونڈ کی سیکیورٹی ہوگی۔ راجہ کی جانب سے بریگیڈیئر(ر) راشد نصیر کو کیس کی پیروی کرنے سے روکنے کی یہ حکمت عملی تھی لیکن یہ کوشش منصوبہ بندی کے مطابق کامیاب نہیں ہوئی کیونکہ مسٹر نصیر کے لئے اپنے وکلا کے برطانیہ کے اکائونٹ میں ڈھائی لاکھ پانڈ کی رقم رکھنے کا انتظام کرنا ممکن نہیں تھا۔

عادل راجا نے اپنی درخواست میں مقدمے میں اپنے گواہوں کے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست بھی کی تھی لیکن عدالت نے اس موقف سے اتفاق کیا کہ بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کے وکلا نے راجہ کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے ان کے گواہوں پر فرد جرم عائد کرنے کی درخواست منظور کی تھی لیکن صرف گواہوں کے بیانات کے تبادلے تک۔ اس کے بعد اگر راجہ اپنے گواہوں کی شناخت ظاہر نہ کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مزید درخواست دینی ہوگی اور عدالت کو قائل کرنا ہوگا کہ وہ اپنے گواہوں کو گمنام رہنے کی اجازت دیں، جس مرحلے پر بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر گمنامی کو چیلنج کرسکتے ہیں۔ عادل راجہ کے لیے ایک اور جھٹکا اس وقت لگا جب انہوں نے ایک الگ درخواست میں عدالت سے استدعا کی کہ بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کے اس دعوے کو اس بنیاد پر مسترد کیا جائے کہ انہیں کوئی سنگین نقصان نہیں پہنچا ہے۔ عدالت نے راجہ کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست پر بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کے وکلا سے اتفاق کیا۔ ریٹائرڈ فوجی افسر نے عادل راجا کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے کہا کہ مفرور ریٹائرڈ میجر نے جان بوجھ کر سوشل میڈیا پر جعلی خبروں سے نقصان پہنچانے اور فائدہ اٹھانے کے لیے ان کے بارے میں غلط معلومات پھیلائیں۔ عادل فاروق راجہ نے 14 جون 2022 کو یوٹیوب اور فیس بک کی ٹویٹس اور ویڈیوز کے ذریعے افسر کے خلاف اپنی مہم کا آغاز کیا تھا۔

عدالتی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ ریٹائرڈ بریگیڈیئر نے11 اگست 2022 کو اپنے برطانوی وکلا کے ذریعے اپنا مقدمہ دائر کیا تھا۔ اپنے ہتک عزت کے دعوے میں سینئر فوجی افسر نے ہر الزام کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اور کہا کہ ان کی ساکھ کو کافی نقصان پہنچایا گیا ہے اور مستقبل میں مزید نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔عادل راجہ اپریل 2022 سے برطانیہ میں مقیم ہیں۔ بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کی نمائندگی ڈوٹی اسٹریٹ چیمبرز کے وکیل ڈیوڈ لیمر اور اسٹون وائٹ سالیسیٹرز کی عشرت سلطانہ اور سعدیہ قریشی نے کی۔ میجر (ر) عادل فاروق راجہ کی نمائندگی سینٹرل چیمبرز لا سالیسیٹرز کے مہتاب انور عزیز نے کی۔