عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے ایک جامع اور تعاون پر مبنی حکمت عملی کی ضرورت ہے، حنا ربانی کھر کا غیر وابستہ تحریک کے وزارتی اجلاس سے خطاب

نیویارک۔23ستمبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ کوویڈ 19، ترقی اور آب و ہوا کے مسائل سمیت عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور تعاون پر مبنی حکمت عملی کی ضرورت ہے، بین الاقوامی برادری اور غیر وابستہ تحریک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور جموں و کشمیر اور فلسطین کے عوام کی خواہشات کے مطابق ان تنازعات کے منصفانہ، پرامن اور جلد حل کے لیے کام کریں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو نیویارک میں غیر وابستہ تحریک کے وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزارتی اجلاس کی میزبانی آذربائیجان کے وزیر خارجہ نے کی جو غیر وابستہ تحریک کے موجودہ چیئرمین ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77 ویں اجلاس کے موقع پر منعقد ہونے والے اس اجلاس کا موضوع ” بعد از وباء عالمی بحالی میں غیر وابستہ تحریک کا کردار۔ آگے بڑھنے کا راستہ” تھا ۔

وزیر مملکت نے کوویڈ 19 کی وباء اور موسمیاتی تباہی کے بڑھتے ہوئے خطرے کی وجہ سے عالمی معیشت کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورتحال کو اجاگر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ عالمی چیلنجوں بالخصوص کوویڈ 19، ترقی اور آب و ہوا کے مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور تعاون پر مبنی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کوویڈ19 کے بحران سے نکلنے اور بہتر انداز میں آگے بڑھنے کے لیے دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ ویکسین کی مساوی اور جلد تقسیم، ترقی پذیر ممالک میں معاشی بحالی کو ممکن بنانے کے لیے مالی اعانت کو متحرک کرنے کی ضرورت اور کثیر الجہتی تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر مملکت نے پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلابوں کے بڑے پیمانے پر اثرات کو بھی اجاگر کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ملک کا ایک تہائی حصہ ڈوبا ہوا ہے، ملک بھر میں لگ بھگ 33 ملین لوگ متاثر ہوئے ہیں جبکہ 1400 سے زائد جانیں ضائع ہوئیں۔ حنا ربانی کھر نے بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر کے ساتھ ساتھ فلسطین کے لوگوں کے حق خودارادیت سے مسلسل انکار پر گہری تشویش کا اعادہ کیا جس کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت انہیں ضمانت دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری اور غیر وابستہ تحریک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور جموں و کشمیر اور فلسطین کے عوام کی خواہشات کے مطابق ان تنازعات کے منصفانہ، پرامن اور جلد حل کے لیے کام کریں۔

اجلاس میں ایک سیاسی اعلامیہ منظور کیا گیا جس میں دیگر امور کے ساتھ ساتھ سیلاب سے بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور امداد، بحالی اور تعمیر نو کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا گیا۔