عمران خان وطن عزیز کی بقا کواپنے اقتدار سے مشروط نہ کریں،مسلح افواج ملکی سرحدوں کی محافظ ہیں،وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی پریس کانفرنس

اسلام آباد۔6اگست (اے پی پی):وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ عمران خان وطن عزیز کی بقا کواپنے اقتدار سے مشروط نہ کریں،لسبیلہ میں فوجی افسران نے امدادی کارروائیوں کے دوران جام شہادت کیا،مسلح افواج ملکی سرحدوں کی محافظ ہیں،لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثہ پر کچھ لوگوں نے سوشل میڈیا پر مہم چلائی،دفاعی اداروں کے خلاف مذموم مہم قابل مذمت ہے،ایسے لوگوں کے ہوتے پاکستان کو سرحد پار کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہے،اداروں پر الزام تراشی کرنے والے لوگ دشمن کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں،ایک شخص اقتدار چلے جانے پر اداروں پر الزام لگا رہا ہے،اس شخص نے ملک سے رواداری کی سیاست ختم کی،ملک وقوم کے لئے جانیں دینے والوں کی قربانیوں کی توہین نہ کریں۔

ہفتہ کو سیالکوٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ روزجو لسبیلہ میں ہیلی کاپٹر حادثہ ہوا جس میں سینئر فوجی آفیسران اور عملہ کی شہادتیں ہوئیں اس پرسوشل میڈیا پر پی ٹی آئی ورکرزکاجو ردعمل آیا وہ ہماری سیاسی تاریخ کی سب سے بڑی گراوٹ تھی،رنج وغم کا اپنا تقدس ہوتا ہے اور جب یہ رنج وغم وطن کے دفاع کے لئے جان نچھاور کرنے والےشہداء کے لئے ہو اور انہیں موضوع بحث بنانا اور حادثے،دفاعی ادارے اوراس کی قیادت کے بارے میں ایسے الفاظ کاسوشل میڈیا پر استعمال پستی کی انتہا ہے۔یہ سیاست نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرحد کے اس پار ہمارے دشمن کی 75 سال سے یہ خواہش ہےکہ پاکستان کی فوج کمزور ہو اس کے لئے ہم نے دشمن کے ساتھ کئی جنگیں لڑیں، اب ان کو جنگ کی ضرورت نہیں ہمارے اندر سے ایسے لوگ پیدا ہوگئے ہیں جو اداروں کو نشانہ بناتے ہیں،سانحات کے حوالے سے افواہیں پھیلاتے ہیں،جس سے جان قر بان کرنے والوں کی یاد جو قیامت تک رہے گی اس کی بھی توہین ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی ورکر اورجن لوگوں نے ایسے ٹویٹ کئے یا سوشل میڈیا پر پوسٹیں کیں ان کی باقاعدہ مالی معاونت کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقتدار آنی جانی چیز ہے،75 سالوں میں ماضی میں کئی بار عوامی نمائندوں کو اقتدار ملا،کئی انتخابات پراعتراضات اٹھے،کئی الیکشن منیج ہوئے،کئی سپانسرڈ ہوئے لیکن اتنی اخلاقی پستی نہیں دیکھی پھر 2018 میں ایک ایسے شخص کو اقتدار میں لایا گیا،جو کہتا ہے کہ مجھے اقتدار کے لئے سہارا دیں،ہرآنے والے الیکشن میں میری سرپرستی کریں۔جب ایسا ہو تو پھر میں آپ کے قصیدے پڑھوں اہم اجلاسوں کی صدارت کروائوں اوراقتدار چھن جائے تو گالم گلوچ کروں یہ احسان فراموش لوگوں کا کام ہے۔

انہوں نے کہا کہ خدارا اپنی جانیں قربان کرنے والوں کا تقدس رکھیں ان کی قربایوں کی حرمت کا پاس کریں،بچوں کو گالم گلوچ کی تربیت نہ دیں۔یہ ادارے ہماری سرحدوں،فضائوں اور پانیوں کے محافظ ہیں،ایک معاشرے،خاندان میں اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن اخلاق کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دینا،ننگی زبان سوشل میڈیا پر استعمال کرنا ہماری معاشرتی اورسیاسی روایات نہیں ہیں، اختلافات کے باوجود ہمارے اداروں سے تعلقات پر تنقید تہذیب کے دائرے میں رہ کر ہوتی تھی،سیاست میں رواداری تھی،اب یہ کون سا معاشرہ ہے اور اسے کس نے اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا ہے،اگر ان کے حق میں ہے تو سب اچھا ہے اگر قانون،پولیس،نیب یا ایف آئی اے استعمال ہورہی ہے تو سب اچھا ہے لیکن اگر چیزوں میں توازن آیا ہے تو خدارا اپنے اقتدار کے لئے اداروں کو استعمال نہ کریں۔

وطن عزیز کی بقا کو اپنے اقتدارکے ساتھ مشروط نہ کریں،ہمارے اداروں کے تقدس کو کو اپنی طاقت یا اقتدار سے مشروط نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں مسلح افواج کی قربانیوں پر فخر ہے۔اگر کوئی بچہ بھٹک گیا تو بڑے اس کا حوصلہ نہیں بڑھاتے،سیاسی زعماء کا یہ فرض ہے کہ وہ سیاست کو اپنے مفادات کا تابع بنانے کی بجائے اس میں شائستگی کو فروغ دیں،اپنی رواداری اور برداشت کی روایت اور کلچر کو تباہ نہ کریں۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایسے لوگوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے، سائبر کرائم یہ انکی ذمہ داری ہے۔میری دانست میں پاکستان کی سالمیت کا تحفظ کرنے والوں کی توہین کی گئی۔یہ شہداء بھی کسی خاندان میں سے ہیں ان پر کیا گزرتی ہوگی۔یہ کافی نہیں کہ ایک 17 سال کا بچہ یہ کہہ دے کہ وہ ایسے ٹویٹ پر نادم ہے،ایسا کلچر فروغ دیا جارہا ہے جو اس ملک کی یکجہتی کو تباہ کردے گا۔جو لوگ اس کلچر کو فروغ دےرہے ہیں وہ سیاسی ورکر نہیں بلکہ وہ اپنے اقتدار کی جنگ لڑرہے ہیں،وہ سمجھتے ہیں کہ ملک کی بقاء ہمارے اقتدار سے مشروط ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ملک کی بقاء اپنے اقتدار سے مشروط کرلی ہے،جو لوگ ہماری سرحدوں کے محافظ ہیں وہ ہمارے محسن ہیں، ان لوگوں کی یاد میں ہمارے سر جھکنے چاہییں۔یہ صدا زندہ رہنے والے ہیں۔قومیں اپنے محسنوں کو قیامت تک یادرکھتی ہیں۔جان قربان کرنے سےبڑی تو کوئی قربانی نہیں رہ جاتی۔انہوں نے کہا کہ جنرل سرفراز بلوچستان کی تاریخ میں سنہرےالفاظ میں یاد کئے جائیں گے،جس طرح بلو چ اور پشتون قوم کے ساتھ انہوں نے تعلق روارکھا ہوا تھا،اس سے صورتحال کی اصلاح ہورہی تھی۔

ان کا بڑا کردار ہے ان کی قربانیوں کی تحقیر نہ کریں۔انہوں نے کہاکہ ادارے اگر اس چیز کو روکنے اور قانونی کارروائی کرتے ہیں تواس میں سیاست کا شائبہ نہیں ہونا چاہییے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح ہمارے اوپر جھوٹےسچے مقدمے بنائے گئے،میں بالکل اس حق میں نہیں ہوں کہ قانون کاسیاسی مقاصد کےلئے استعمال ہو۔تاہم جہاں ایسے گھنائونے فعل ہو اس پر بلادریغ قانون حرکت میں آنا چاہییے۔

انہوں نے کہا کہ صدر نے اگر جنازے میں شرکت نہیں کی یہ ان کا ذاتی فعل ہے ،ان شہداء کی قربانیوں کا اعتراف پوری قوم کرتی ہے،یہ صدر جانے اس کا رویہ جانے۔یہ شہداء ہمارے محسن تھے ہم تو سیاسی مخالفین کے جنازے میں بھی جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر دنیا میں آزادی ہے یہ اس معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے،یہ ایک پارٹی نے معاشرے میں بگاڑ پیدا کیا ہے اگر یہ ختم نہ ہوا تو قوم اس کی بھاری قیمت ادا کرے گی۔انہوں نے کہا کہ اقتدار آنی جانی چیز ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملک کی ساکھ پر اداروں کے تقدس پر حملہ کریں ۔