فلسطینیوں کی مدد کرنے والا عالمی ادارہ مکمل طور پر غیر فعال ہونے کے دہانے پر پہنچ چکا ہے ، کمشنر جنرل یو این آر ڈبلیو اے

UNRWA
UNRWA

اقوام متحدہ۔23فروری (اے پی پی):فلسطینی پناہ گزینوں کی مدد کرنے والی اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکسایجنسی(یو این آر ڈبلیو اے)کے کمشنر جنرل فیلپ لازارینی نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی دبائو اور منجمد فنڈنگ کے باعث فلسطینیوں کی مدد کرنے والا اقوام متحدہ کا ادارہ مکمل طور پر غیر فعال ہونے کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور لاکھوں فلسطینیوں، خاص طور پر غزہ میں ادارے کی امدادی صلاحیت کو سنگین خطرہ لاحق ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر کو لکھے گئے خط میں کہا کہ افسوس کا اظہار کیا کہ غزہ میں اقوام متحدہ کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے کو ختم کرنے اور غیر معمولی انسانی ضروریات کی فراہمی کے وقت عطیہ دہندگان کی طرف سے فنڈز کو منجمد کرنے کے لیے اسرائیل کی بار بار کے مطالبات کی وجہ سے ادارہ مکمل طور پر غیر فعال ہونے کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں صرف 4مہینوں میں بچوں،صحافیوں طبے عملے اور اقوام متحدہ کے عملے کو دنیا میں کسی بھی تنازع کے دوران سب سے زیادہ نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یو این آر ڈبلیو اے کے 150 سے زیادہ حدود بمباری کی زد میں آچکی ہیں جس میں 390 سے زیادہ افراد شہید اور 1300 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق قحط کی صورتحال قریب ہے۔

انہوں نے کہا کہ 7اکتوبر کے آپریشنز میں یو این آر ڈبلیو اے کے عملے کے ملوث ہونے کے اسرائیلی الزامات کو بار بار مسترد کیا ہے اور اسرائیل نے عالمی ادارے کے عملے کے بعض ارکان پر جو الزامات لگائے ہیں اس نے ابھی تک ثبوت پیش نہیں کئے۔ 16 ڈونر ممالک کی طرف سے مجموعی طور پر 450 ملین ڈالر کی امداد کی معطلی کا مطلب ہے کہ مارچ سے مشرق وسطیٰ میں یو این آر ڈبلیو اے کی نئی فنڈنگ کے بغیر آپریشنز شدید متاثر ہوں گے۔

اپنے خط میں فیلپ لازارینی نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں بعض اسرائیلی حکام کی طرف سے ادارے کی کارروائیوں میں خلل ڈالنے اور ایجنسی کو ختم کرنے کا مطالبہ کرنے کی ٹھوس کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات نے عملے کی سکیورٹی کے لئے خطرات پیدا کر دیئے ہیں، فلسطینی شہریوں کی خدمت کے لیے اس کے مینڈیٹ کو روکا ہے اور بلارکاوٹ امددای کام کرنا ناممکن بنا دیا ہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ہم علاقائی امن، سلامتی اور انسانی حقوق کے لیے سنگین مضمرات کے ساتھ ایک تاریخی تباہی کے دہانے پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑے پیمانے پر تسلیم کیا گیا ہے کہ یو این آر ڈبلیو اے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں دونوں کے حقوق اور سلامتی کے لیے اہم ہے کیونکہ یہ ایک مستحکم کردار کے ساتھ ساتھ زندگی بچانے والی انسانی خدمات فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے خط میں جنرل اسمبلی سے درخواست کی کہ وہ یو این آر ڈبلیو اے کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری سیاسی مدد فراہم کرے یا یو این آر ڈبلیو اے کے لیے فوری طور پر ایک طویل المیعاد سیاسی حل میں منتقلی کے لیے راستہ تیار کرےجو فلسطینیوں اور اسرائیلیوں میں امن قائم کر سکے۔