فلسطین اور کشمیر میں انسانی حقوق کی بد ترین پامالی اور نسل کشی کو روکنا ہم سب کا اولین فرض ہے،چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کا بیجنگ میں سمپوزیم سے خطاب

فلسطین اور کشمیر میں انسانی حقوق کی بد ترین پامالی اور نسل کشی کو روکنا ہم سب کا اولین فرض ہے، چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کا بیجنگ میں سمپوزیم سے خطاب

بیجنگ۔24اکتوبر (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ فلسطین اور کشمیر میں انسانی حقوق کی بد ترین پامالی اور نسل کشی کو روکنا ہم سب کا اولین فرض ہے، فلسطین اور بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں ظلم و بربریت کو ختم کیے بغیر عالمی امن کا قیام ممکن نہیں ہے، چین کو 74 ویں یوم تاسیس پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں، چین اور پاکستان کے برادرانہ تعلقات سمندر وں سے گہرے،پہاڑوں سے اونچے ہیں۔

سینیٹ سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے چین کے شہر بیجنگ میں منعقدہ بین الاقوامی سمپوزیم میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔سمپوزیم ”چین کی ہمسائیگی سفارتکاری میں دوستی، خلوص، باہمی مفادات اور شمولیت کے اصولوں کی دسویں سالگرہ کے حوالے سے چین کے شہر بیجنگ میں منعقد ہو رہا ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے چین کو 74 ویں یوم تاسیس پر دل کی گہرائیوں سے مبارکبادبھی پیش کی۔سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ چینی قیادت اور عوام کے لگن سے پیدا ہونے والے اس ترقی پسند ماحول کو دیکھ کر خوشی محسوس کررہا ہوں۔یہ اعلیٰ سطحی سمپوزیم نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا کے روشن مستقبل کیلئے امید کی کرن ہے۔پاکستان اور چین کے مابین برادرانہ تعلقات غیرمتزلزل عزم اور اعتماد کا عکاس ہیں۔ پاکستان اور چین کا ایسا رشتہ ہے جس نے بے شمار طوفانوں کا سامنا کیا ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے چین کی قیادت اور عوام کو اس شاندار سمپوزیم کے انعقادپر مبارکباد پیش کی۔محمد صادق سنجرانی نے مزید کہا کہ آج ہم یہاں چین کی ہم آہنگی، دیانتداری، باہمی مفاد اور ہمسائیگی سفارتکاری میں شمولیت کے اصولوں کی دسویں سالگرہ منانے کیلئے جمع ہوئے ہیں۔یہ صدر شی جن پنگ کی دوراندیش قیادت کا اہم کارنامہ ہے۔

چین کو خوشحال، مضبوط، جمہوری، مہذب اور ہم آہنگ بنانے کیلئے صدر شی کی خدمات، دوراندیشی اور لگن قابل ستائش ہیں۔محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ صدر شی کی تحریریں سفارتکاری کے شعبے میں مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔صدر شی کی بے مثال قیادت اور وسعت نظری نے نہ صرف چین کو بلندیوں تک پہنچایا بلکہ عالمی شراکت داروں کے لئے بھی راہیں ہموار کیں ہیں۔برادر ملک چین کی بے مثال تاریخ 4 ہزار سال پر محیط ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ عظیم فلسفی سن زو کی تعلیمات اور کنفیوشس کی لازوال حکمت نے نہ صرف چین کے اندر بلکہ پوری دنیا میں فکری اور اخلاقی سوچ کو اْجاگر کیاہے۔چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ قابل تعریف سابق وزیراعظم چین چواین لائی نے موثر سفارت کاری کے ذریعے چین کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیاہے۔چین کی پائیدار تہذیب و ثقافت اورتمدن اس کی مضبوطی کا ثبوت ہیں۔

صدر شی جن پنگ نے ایک دہائی قبل تبدیلی کے راستے کاتصور متعین کیا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ آج جب ہم اس تاریخی موڑ پر کھڑے ہیں، چین کا حالیہ وائٹ پیپر ہمیں اْسی سمت کی یاد دلاتا ہے۔قدیم تجارتی شاہراہوں کو جدید دور کے اصولوں کے مطابق کرنا اقتصادی عالمگیریت کی عکاسی کرتا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ چین انسانیت کی مشترکہ اقدار کو فروغ دینے پر زور دیتا ہے ۔

پاکستان چین کے ساتھ اپنے باہمی تعلقات کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ پرامن بقائے باہمی کے پانچ رہنما اصولوں نے چین کے بین الاقوامی تعلقات کو نمایاں فروغ دیا۔پاکستان اور چین نے باہمی احترام، عدم جاریت اور پر امن بقائے باہمی کی اقدار کو فروغ دیاہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ تعلیم اور میرٹ کے اصولوں کو اہمیت دینا چین کی دیرینہ روایت ہے۔یہ سمپوزیم صدر شی کی تجویز کردہ نظریات اور اقدار کا اظہار ہے۔

عالمی سیاست کے ابھرتے ہوئے منظر نامے میں تنازعات سے ہٹ کر بات چیت کا راستہ اپنانا چاہیے۔ تشدد اور جنگ کے بجائے مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کا فروغ وقت کی ضرورت ہے۔محمد صادق سنجرانی نے مزید کہا کہ کشمیر اور فلسطین جیسے چیلنجزکا اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل پوری دنیا کے امن کی ضمانت ہے۔

کشمیر اور فلسطین پر غاصبانہ تسلط، انسانی حقوق کی بدترین پامالی اور نسل کشی کو روکنے کے لئے ہم سب کو مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا۔ فلسطین اور بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں ظلم و بربریت کو ختم کیے بغیر عالمی امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ انسانی بحران کو ختم کر کے علاقائی اور عالمی خوشحالی کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ علاقائی امن اور عالمی خوشحالی کے لئے چین کی قیادت کی حمایت جاری رکھیں گے۔