فوجی عدالتوں کو بحال کیا جائے، فوجی عدالتیں وقت کی ضرورت ہیں، شہداء کے ورثاء کو فوری انصاف ملے گا ، شہداء کے ورثاء کی پریس کانفرنس

Military courts

اسلام آباد۔8نومبر (اے پی پی):شہداء کے ورثاء نے سپریم کورٹ سے فوجی عدالتیں بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہداء ہماری عزت، عظمت اور ہماری آن و شان ہیں، فوجی عدالتوں کو کام جاری رکھنے دیا جائے ، اس سے شہداء کے ورثاء کو فوری انصاف ملے گا ، چیف جسٹس آف پاکستان اس فیصلے پر نظر ثانی کریں اور عدالت عظمیٰ یہ فیصلہ واپس لے، ملٹری کورٹس وقت کی ضرورت ہیں،

پیر کو سپریم کورٹ میں اس حوالے سے درخواست دائر کرینگے۔ ان خیالات کا اظہار شہداء فورم کے زیر اہتمام شہداء کے ورثاء نے بدھ کو یہاں نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔شہداء کے ورثاء میں نوابزادہ جمال ریئسانی، حاجی ثناء اللہ خان، رحیم اللہ، وزیر فرمان الہٰی، انور زیب، فوزیہ، محمد جمشید و دیگر شامل تھے۔ شہداء کے ورثاء نے کہا کہ ہمارا یہاں جمع ہونے کا مقصد یہ ہے کہ ہم شہداء فورم کے پلیٹ فارم سے ملٹری کورٹس کی بحالی کےلیے تحریک چلائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ جاسوسی نیٹ ورکس اور دشمن قوتوں کے مذموم عزائم سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے قیام سے ہی ایک موثر ہتھیار کے طور پر رہا ہے، ملکی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارا مطالبہ ہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کو ہر قیمت پر ملک و قوم کی سلامتی کے ضامن کے طور پر بحال کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادیو کا کیس بھی عالمی عدالت میں زیرسماعت ہے جس کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کو اس کی اصل صورت میں بحال کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ شہداء کے خاندان متقاضی ہیں کہ اس ایکٹ کو بحال کیا جائے تاکہ شہداء کے قاتلوں کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے ۔

اس وقت ملک کے غیرمعمولی حالات ہیں اور ایسے حالات غیرمعمولی اقدامات کے متقاضی ہیں۔ فوجی عدالتوں اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کو غیرفعال کرنے سے ملک میں ایک بار پھر دہشت گردی کی لہر نے جنم لیا ہے جو کہ ہرگز قابل قبول نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کیا ہماراملک موجودہ حالات میں دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں اور جاسوسو ں کے مقدمات کو سول عدالتوں میں طویل مدت تک لٹکانے کا متحمل ہو سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ ایکٹ 1952 سے بہترین کام کر رہا تھا ، ملک و قوم کی سلامتی کیلئے اسے دوبارہ بحال کیا جائے۔انہوں نے اپنے مطالبات پیش کرتے ہوئے مزید کہاکہ ہمارے شہداء کا خون راہیگاں نہ جانے دیں اور فوجی عدالتوں کو کام جاری رکھنے دیا جائے ، اس سے شہداء کے ورثاء کو انصاف ملے گا ۔

ملکی سلامتی کو کسی طور پر دائو پر نہ لگایا جائے، شہداء کے قاتلوں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے، دشمن قوتوں کے مذموم عزائم ناکام بنانے کےلیے ملٹری کورٹس کو بحال کیا جائے، ہمارے شہداء نے ملکی دفاع و سلامتی کےلیے قربانیاں دی ہیں ۔فوجی عدالتوں کی بندش سے شہداء کے ورثاء کے دل زخمی ہیں، چیف جسٹس آف پاکستان اس فیصلے پر نظر ثانی کریں اور عدالت عظمی یہ فیصلہ واپس لے۔ انھوں نے کہا کہ جان کی قربانی سے بڑی کوئی دوسری قربانی نہیں ہوتی۔ ہمارے شہداء نے وطن عزیز کی سلامتی اور دفاع کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔ غداروں اور ملک دشمن عناصر کو یہ اجازت نہ دیں کہ وہ ہمارے خون کے ساتھ کھیلے ۔ بھارت نے سوشل میڈیا پر اس فیصلے کو بہت اچھالا ہے ۔

ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم ان ملک دشمن عناصر کے خلاف کھڑے ہوں۔ دہشت گردی سے متاثر جو لوگ ہیں ان کا خیال رکھا جائے۔ شہداء کے بچے اور خاندان آج اس ناانصافی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں ۔ شہداء نے پہلے بھی قربانیاں دی ہیں اور آئندہ بھی قربانیاں دیں گے ۔

انھوں نے کہا کہ ملٹری کورٹس کی بحالی سے شہداء کے ورثاء کو جلد انصاف ملے گا ۔ دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، چیف جسٹس آف پاکستان کا تعلق بھی بلوچستان سے ہے۔ دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور دہشت گردوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے، شہداء کا خون پوری قوم کے ذمے قرض ہے ،

چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست کرتے ہیں کہ اس فیصلے کو ختم کرکے ملٹری کورٹ کو دوبارہ بحال کیا جائے ۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارت ملوث ہے اور وہ پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنے کےلیے سازشیں کررہا ہے ۔ ہم نے یہ فیصلہ آتے ہی اس پلیٹ فارم سے متحد ہوکر جدوجہد کرنے کا عزم کیا ہے۔ ہم کلبھوش نیٹ ورک کے خلاف آخری حد تک جائیں گے اور انٹرنیشنل قاتل کلبھوشن یادیو کو منطقی انجام تک پہنچانے کےلیے اپنا کردار ادا کریں گے۔