Election day banner
31 C
Islamabad
اتوار, جون 23, 2024
ہومخصوصی فیچرزماحولیاتی تغیرات کے پاکستان میں بچوں کی نشوونما پر سنگین اثرات،پانی کی...

ماحولیاتی تغیرات کے پاکستان میں بچوں کی نشوونما پر سنگین اثرات،پانی کی قلت کی طرف بڑھتا ہوا مستقل

تحریر :مریم بھٹی

اسلام آباد۔8مئی (اے پی پی):دنیا بھر میں ماحولیاتی تغیرات کے باعث درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے اور سائنسدانوں نےٍ متنبہ کیا ہے کہ زمین کو ماحولیاتی تغیرات کے باعث ہونے والی تباہی سے بچانے کے لیے فوری اقدامات لینے کی ضرورت ہے۔اگر ماحولیاتی تغیرات کےبچوں کی نشوونما پر اثرات کا جائزہ لیا جائے تو اس سےپاکستان میں بچوں کی نشوونما پر براہ راست اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔

ماحولیاتی تغیرات خوراک کی پیداوار میں خلل ڈال رہی ہے ، جس کی وجہ سے زرعی پیداوار کم ہوسکتی ہے اور خوراک کی دستیابی اور تقسیم میں تبدیلی کے نتیجے میں خوراک کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے خاص طور پر کمزور اور غذائی قلت کے شکار خاندانوں کی خوراک تک رسائی مشکل ہوتی جارہی ہے ۔ضروری غذائی اجزاء کی قلت کی وجہ سے بچوں میں شدید غذائیت کی کمی ہو سکتی ہے۔

اسی طرح ماحولیا تی تغیرات کا سب سے بڑا نقصان پانی کی قلت ہے ۔پاکستان کو پہلے ہی پانی کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہےجو کہ ماحولیاتی تغیرات کی وجہ سےبے وقت بارشوں اور درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے گلیشیرز پگھلناشروع ہوگئے ہیں ۔ صاف پانی تک محدود رسائی کی وجہ سے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاںاسہال اور ہیضہ میں اضافہ ہوا ہے ، جو بچوں کی نشوونما میں رکاوٹ بن رہا ہے ۔

ان تغیرات کی وجہ سے سیزن سائیکل کے پیٹرن میں تبدیلی سے وابستہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت پاکستان میں گرمی کی لہروں کی تعداد اور شدت کو بڑھا رہا ہے۔زیادہ درجہ حرارت کے باعث طویل گرمی مختلف بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے جن میں خاص طور پر بچوں جیسی کمزور آبادی زیادہ متاثر ہو رہی ہے

۔یہ گرمی کا تناؤ بھوک کو کم کر سکتا ہے، پسینے کے ذریعے پانی کی کمی کو بڑھا سکتا ہےاور صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔موسمیاتی تبدیلی ملیریا، ڈینگی بخار، اور ہیضہ جیسی ویکٹر سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے پھیلاؤ کاسبب بن سکتی ہے۔ یہ بیماریاں بچوں کے لیے صحت کے خطرات کا باعث بنتی ہیں اور اگر فوری طور پر علاج نہ کیا جائے تو یہ طویل المدتی صحت سے متعلق پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہیں۔

اس حوالے سےمیں عالمی ادارہ صحت، یونیسیف اور طبی جریدہ ’’دی لینسیٹ‘‘ کی ایک مشترکہ رپورٹ کا حوالہ دینا چاہوں گی جس کے مطابق دنیا بھر میں بچوں کا مستقل خطرے سے دوچار ہے کیونکہ کوئی بھی ملک بشمو ل ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے بچاؤ کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کررہا ہے۔اقو ام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تمام ممالک ماحولیاتی تبدیلی کے مضمرات پر قابو پانے اور بچوں کی بہتر نشوونما کے لیے ضروری صاف اورصحت مند ماحول فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی، حیاتیاتی انحطاط، بڑے پیمانے پر مہاجرت، تصادم کے واقعات، بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور تجارتی مقاصد کے لیے بچوں کے استعمال نے دنیا کے ہر ملک میں بچوں کی صحت اور ان کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔عالمی ادارہ صحت، یونیسیف اور طبی جریدے دی لینسیٹ نے اپنی مشترکہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ خوشحال ملکوں میں بچوں کے بقاء اور نشوو نما کے زیادہ بہترامکانات ہیں لیکن ان ممالک کی طرف سے کاربن کے حد سے زیادہ اخراج کے سبب تمام بچوں کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بچوں کی بہتری کے حوالے سے جن تین پیمانوں، یعنی بچوں کی بہتر نشوونما، پائیداری اور مساوات کی بنیاد پر ملکوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا ان پر کوئی ایک بھی ملک پورا نہیں اترسکا۔رپورٹ تیار کرنے والے بین الاقوامی کمیشن کی شریک چیئرپرسن نیوزی لینڈ کی سابق وزیر اعظم ہیلن کلارک نے ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام ملکوں کو بچوں اور نوعمروں کی صحت کے حوالے سے اپنے نظریہ اور طریقہ کارکو پوری طرح سے بدلنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم نہ صرف آج اپنے بچوں کی بہتر طور پر دیکھ بھال کرسکیں بلکہ ہم اس دنیا کی بھی حفاظت کرسکیں جو مستقبل میں انہیں وراثت میں ملنے والی ہے۔

رپورٹ میں تمام ممالک سے اپیل کی گئی ہے کہ انہوں نے پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے حوالے سے 2015 ء میں جو وعدے کیے تھے ان کے حصول کے لیے کیے جانے والے اقدامات میں بچوں پر سب سے زیادہ توجہ دینے کا عزم کا اظہار کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ پائیدار ترقیاتی اہداف دو مقاصد پر مبنی ہیں، پہلا یہ کہ ہم اپنے کرہ ارض کو خطرناک اور غیریقینی مستقبل سے بچائیں اور دوسرا یہ کہ آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ، منصفانہ اور صحت مند زندگی کو یقینی بنائیں۔

بچوں کو ان کی ضروریات، حقوق، مناسب حالات اور شراکت کے ساتھ ان مقاصد کے مرکز میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ ماحولیاتی تغیرات کے پاکستان میں بچوں کی نشوونما پربراہ راست اور بالواسطہ اثرات کےحوالےسے روالپنڈی میڈیکل کالج کے پروفیسر ڈاکٹر سید فیاض احمد شاہ کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تغیرات کاسب سے زیادہ نقصان 18 سال سے کم عمر بچوں کو ہورہا ہے کیونکہ ان بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما بری طرح متاثر ہورہی ہوتی ہے جسکی وجہ بچے کئی بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں ان میں کچھ بیماریاں ان ڈور جبکہ کچھ بیماریا ں آوٹ ڈور ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ آوٹ ڈور اور ان ڈرو بیمارویوں میں ہوا میں گرد ، سموگ ، ایسے آلود اجزا جو نہ صرف سانس کی بیماریاں بلکہ کئی ایسی سکن کی بیماریوں کاسبب بن رہے ہی جو فوری طور پر بچوں کی قوت مدافعت کو بری طرح سے متاثر کررہی ہیں ۔

ان ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث سانس اور دل کی بیماریاں ، پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں ، مچھر،مکھی سمیت دیگر حشرات العرض کے بچوں کو کاٹنے سے پیدا ہونے والی کئی خطرناک بیماریاں شامل ہیں ۔ انہوں نے مزید کہاکہ درجہ حرارت میں شدید اضافے کےباعث گلیشیر ز پگھلنے سے سیلابی صورتحال کے باعث کئی قسم کی بیماریاں بچوں کو فوری طور پر متاثر کررہی ہیں جن میں ڈینگی ، ملیریا ، ٹائفایڈوغیر ہ شامل ہیں اور بچوں کے ایسے کیسز ہمارے سامنے آئے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ ماحولیاتی تغیرا ت کے باعث قبل ازوقت بچوں کی پیدائش ہو جانے کے باعث نومولود بچوں کی نشوونما پراثر پڑرہا ہے اور اگر وہ بچہ ایسے ماحول میں پیدا ہور ہا ہے جہاں یا تو درجہ حرارت بہت زیادہ ہے یا کم تو وہ بچے کی نشوونما میں بہت برا اثر ڈالے گا ۔

انہو ں نے کہاکہ ماحولیاتی تغیرات کے اثرات سے بچوں کو بچانے کے لئے ہمیں بچوں کی غذائیت کی طرف توجہ دینا ہوگی اور ان کو ایسا ماحول فراہم کرنا ہوگا جس میں ان کی نشوونما بہتر طور پر ہو سکے اور اس کے لئے ماحولیاتی تغیرات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہمیں موثر اقدامات کر نےکی ضرورت ہے ۔پبلک ہیلتھ سپیشلٹ ڈاکٹر عرفان طاہر کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی نہ صرف زمین بلکہ انسانوں بالخصوص بچوں کو بھی متاثر کر رہی ہے۔شدید گرمی کی لہر، موسمیاتی شدت بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت اور تندرستی کی بنیادوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے جس سے بچوں کو طویل المدتی جسمانی اور ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا کرناپڑ رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماحولیاتی تغیرات کے باعث بچوں میں جس بیماری کا اضافہ ہوا ہے وہ ذہنی تناو (ڈپریشن) ہے جو نہ صرف ان کی تعلیمی سرگرمیوں کو متاثر کررہا ہے بلکہ بچے کئی منفی سوچوں اور رویے کا شکار بھی ہورہے ہیں ۔انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام کے ڈین برائے ماحولیاتی سائنسز پروفیسرمحمد عرفان خان کا کہنا ہے کہ پاکستان دوسرے پڑوسی ممالک کی وجہ سے ماحولیاتی اعتبار سے متاثر ہورہا ہے اور دوسرے ممالک کی خرابیاں ہمیں بھگتا پڑرہی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ مغربی ممالک ترقی یافتہ ہورہے ہیں لیکن کی ترقی کا خمیازہ پاکستان کو بھگتنا پڑرہا ہے کیونکہ یورپ ممالک کی صنعتوں سےخارج ہو نے والا کاربن پاکستان کے لئے کسی زہر سے کم نہیں ہے اور پاکستان کو یہ خطرات اس کے محل وقوع کی وجہ سے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا پڑوسی ملک بھارت سے کاربن کا اخراج ڈھائی ہزار سی اوٹوسے بھی زیادہ ہےجبکہ امریکا کے کاربن کا اخراج 5000ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کےامیر ترین 20 ممالک میں کاربن کا اخراج تیزی سے بڑھ رہاہے اور اسی رفتار سے پاکستان کے گلیشیر پگھل رہے ہیں حالانکہ پاکستان کا کاربن کا اخراج دنیا کے مجموعی اخراج کے مقابلے میں ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ انہوں نے کہاکہ کہ مغرب کی ترقی کی اس دوڑ نے پاکستان کو اتنا متاثر کیا کہ پاکستان کو 2022 میں تاریخ کے بدترین سیلاب کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تغیرات سے بچنے کے لئے ہمیں عالمی اور ملکی سطح پرزور اقدامات کر نے ہوں گے ،2022کے سیلاب کے بعد سے ہمیں ماحولیاتی ماہرین کی تکنیکی صلاحیت کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ اداروں کی استعدادکاربڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہمیں ملکی سطح پر ایسے پلیٹ فارم بنانے کی ضرورت بھی ہے جس میں لوگوں کو اس بارے آگاہی فراہم دی جائے اور ماحولیاتی تغیرات بارے انہیں تعلیم دیجائے ۔ انہوں نے زور دیاکہ ایک عام شہری کو ماحولیاتی تبدیلی بارے ترغیب دینا اس لئے ضروری ہے تاکہ ہمارے بچے جو کہ اس ملک کا مستقبل ہیں اس سے محفوظ رہ سکیں ۔

انہوں نے کہاکہ جب ہم یہ اقدامات کریں گے تو اس بدلتے ماحول سے متاثر ہونے والے بچےمحفوظ رہ سکیں گے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ماحولیاتی تغیرات انسانوں ، حیوانات اورنباتات کو متاثر کررہا ہے جس کا دفاع بہت ضروری ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بچوں کی نشوونما پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملیوں کی ضرورت ہے جس میں موافقت کے اقدامات شامل ہوں، جیسے کہ پانی کے انتظام کو بہتر بنانا، آب و ہوا کے لیے لچکدار زراعت کو فروغ دینا، صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے کو بڑھانا، اور کمزور آبادی کی مدد کے لیے سماجی تحفظ کے پروگراموں کو نافذ کرنا شامل ہے ۔ مزید برآں، پاکستان اور عالمی سطح پر بچوں کی صحت اور بہبود پر اس کے منفی اثرات کو محدود کرنے کے لیے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے ذریعے موسمیاتی تبدیلیوں کو کم کرنا بہت ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں